Abd Add
 

سوویت یونین

وسطی ایشیا میں آبی جنگیں

November 16, 2012 // 0 Comments

تاجکستان کے صدر امام علی رحمانوف کو ہر معاملے میں دنیا سے آگے نکلنے اور کچھ بڑا کر دکھانے کا شوق ہے۔ انہوں نے دنیا کا بلند ترین فلیگ پول تعمیر کرایا ہے۔ گزشتہ سال انہوں نے دنیا کے سب سے بڑے کتب خانے کا افتتاح کیا۔ یہ الگ بات ہے کہ اس میں کتابیں بہت کم ہیں۔ اب وہ ایک ایسے منصوبے پر کام کر رہے ہیں جس سے پڑوسی پریشان ہیں۔ وہ دنیا کا بلند ترین ہائیڈرو پاور ڈیم بنا رہے ہیں۔ ازبکستان کے صدر اسلام کریموف کا کہنا ہے کہ تاجکستان میں دریائے آمو کی ایک شاخ پر تعمیر کیا جانے والا ۳۳۵ میٹر بلند روگن ڈیم ایک طرف تو دریائے آمو کے پانی پر تاجکستان کو غیر ضروری طور پر زائد [مزید پڑھیے]

بحیرہ قزوین (Caspian Sea) کی بیش بہا دولت کو اسرائیل تک پہنچانے کا منصوبہ

September 1, 2005 // 0 Comments

گزشتہ سے پیوستہ امریکا کے عراق سے متعلق رویے نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ اپنی عالمی صیہونی استعماریت کو دنیا پر مسلط کرنے کے لیے کسی بھی کارروائی سے دریغ نہیں کر رہا۔ ذرائع کے مطابق وسطی ایشیا کے بعد عراق کے امریکی عسکری اڈے خاص اہمیت کے حامل ہیں۔ اس سلسلے میں شمالی عراق میں کرکوک کے مقام پر نیا فوجی اڈا قائم کیا گیا ہے‘ جس کا اول ہدف ایران ہو سکتا ہے۔ امریکی وزارتِ دفاع کے حوالے سے بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اڈے پر ایٹمی اور کیمیائی وار ہیڈ سے مسلح میزائل نصب کیے جارہے ہیں۔ یہ میزائل اس سے پہلے ترکی میں انجرلیک کے امریکی اڈے پر نصب ہیں‘ جبکہ امریکا پہلے شمالی عراق کے اہم [مزید پڑھیے]

بھارتی و امریکی دفاعی معاہدہ

August 1, 2005 // 0 Comments

بائیں بازو کی جماعتوںنے ابھی حال ہی میں یوپی اے حکومت کی خارجہ پالیسی پر اطمینان کا اظہار کیا تھا۔ لیکن گزشتہ دنوں ’’ہندوستان اور امریکہ کے درمیان دفاعی تعلقات کے لئے جس نئے فریم ورک‘‘ پر معاہدہ کیاگیاہے وہ ہندوستان کی خارجہ پالیسی کے تعلق سے ایک نئی تصویر پیش کرتا ہے۔ بائیں بازو کی جماعتوںنے یوپی اے حکومت کی بعض معاشی پالیسیوں سے اختلاف کرتے ہوئے رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ توکیا ہے۔ لیکن ہندوستان اور امریکہ کے درمیان دفاعی تعاون کا جو ناقابل قیاس اور غیرمعمولی بے مثال معاہدہ کیا ہے اس پر ابھی تک کسی خاص ردعمل کا اظہار نہیں کیا ہے۔ تاہم سی پی آئی اور فارورڈ بلاک نے اس معاہدے کی مخالفت کی ہے [مزید پڑھیے]

عالمی جنگ کا خاتمہ مگر۔۔۔

May 16, 2005 // 0 Comments

دوسری عالمی جنگ میں نازیوں پر حلیفوں کی فتح کی ۶۰ویں سالگرہ اس اعتبار سے اہم رہی کہ آج پھر دنیا قتل و غارتگری اور انصاف سے محروم کمزور آبادیوں پر ظلم و ستم کے دور سے گزر رہی ہے۔ ویتنام کی جنگ ہو یا ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی بم کی تباہ کاریوں کا لامتناہی سلسلہ بھیانک خواب کی طرح نئی دنیا کا مسلسل پیچھا کر رہا ہے۔ جنگیں تو ختم ہو جاتی ہیں‘ انسانی ہاتھوں سے انسانوں کی تباہ کاریاں بھیانک یاد بن جاتی ہیں۔ کوئی بھی انصاف پسند اور ہمدرد انسان یہ نہیں چاہے گا کہ یہ یادیں‘ ماضی سے نکل کر حال و مستقبل تک برقرار رہیں۔ گذشتہ نصف صدی میں بہت کچھ بدل گیا۔ انسان نے ترقی کی وہ منزلیں [مزید پڑھیے]

اسلان مسخادوف: چیچنیا کی آزادی کا عظیم رہنما

March 16, 2005 // 0 Comments

چیچنیا کی آزادی اور اسے سابق سوویت یونین اور (اس کے ٹکڑے ہو جانے کے بعد) روس سے نجات دلانے کی تاریخ جب مرتب کی جائے گی تو اس میں اسلان مسخادوف کا نام سرفہرست ہو گا۔ برسوں سے جاری جدوجہدِ آزادی میں جو اور دو نام ابھرتے ہیں‘ وہ دوایف اور شامیل بسائیف کے ہیں۔ دودایف کو روسی فوجوں نے جو مسلسل اس کے تعاقب میں تھیں‘ ایک موبائل فون پر اس (دودایف) کی گفتگو کے دوران سٹیلائٹ سے پتا چلا کہ میزائل اور راکٹوں سے حملہ کیا اور اس کا خاتمہ کر دیا۔ چیچن عوام اپنے لیے آزادی کی جدوجہد کر رہے ہیں‘ وہ سابق سوویت یونین اور موجودہ روس کی حکمرانی سے نالاں ہیں۔ انصاف سے محرومی اور عوام کو بے وطنی [مزید پڑھیے]

ہم چین سے خودمختاری کے طالب ہیں‘ نہ کہ علیحدگی کے!

November 1, 2004 // 0 Comments

جب چین نے ۱۹۵۰ء میں تبت میں جارحیت کی تو اس نے اس الگ تھلگ جاگیردارانہ ریاست میں جدیدیت کو متعارف کرانے کا وعدہ کیا لیکن اس کے بجائے اس نے وہاں مذہب و ثقافت کا گلا گھونٹنے کی کوشش کی جس کی وجہ سے تبتی حکومت کو بشمول اس کے اعلیٰ ترین مذہبی و سیاسی رہنما کے جلاوطن ہونا پڑا۔ ۲ سال کی عمر میں تبتی بدھوں کے اعلیٰ مذہبی رہنما کی حیثیت سے ۱۴ویں دلائی لامہ کا تقرر ہوا اور چار سال کی عمر میں پھر ان کی تاج پوشی بھی ہو گئی۔ ۱۹۵۹ء میں دلائی لامہ کو بھارت فرار ہونا پڑا جس کے بعد وہ تبت کبھی نہیں لوٹے۔ ۴۵ سالوں تک ایک قوم کو بغیر سرزمین کے محفوظ رکھنے کی کوشش [مزید پڑھیے]