Abd Add
 

سری لنکا

چین یا بھارت، سری لنکا کے لیے ایک مشکل انتخاب

May 1, 2015 // 0 Comments

کولمبو شہر کی بندرگاہ کے ساتھ ۴ء۱؍ارب ڈالر کی لاگت سے تعمیر کیا جانے والا منصوبہ سری لنکا میں بیرونی سرمایہ کاری سے بننے والا سب سے بڑا منصوبہ ہے۔ چھوٹے جزیرے پر مشتمل سری لنکا جیسے ملک کے لیے بنیادی ڈھانچے کا یہ بڑا منصوبہ نئی حکومت کا پہلا بڑا امتحان بھی ہے۔ ارادہ یہ ہے کہ سمندر کے کنارے خشکی پیدا کرکے وہاں خوبصورت گھر تعمیر کیے جائیں۔ چین کی سرکاری چائنا کمیونی کیشن کنسٹرکشن کمپنی نے سری لنکا کی بندرگاہوں کی وزارت کی یہ بولی جیتی تھی جس کا قلم دان اُس وقت کے صدر مہندا راجا پاکسے کے پاس تھا۔ یہ میگا پراجیکٹ اُن چینی عزائم میں بڑی صفائی سے سما جاتا ہے جنہیں وہ ایک نیا بحری سِلک روڈ قرار [مزید پڑھیے]

سری لنکا اور آنے والا صدارتی انتخاب

October 1, 2005 // 0 Comments

۱۷ نومبر ۲۰۰۵ ء کو سری لنکا میں صدارتی انتخاب ہونے جارہے ہیں ‘پانچ سال کے اندر ملک میں یہ چوتھا سیاسی انتخاب ہے ۔اگرچہ حکومت اور علیحدگی پسند تامل ٹائیگرز میں جنگ بندی کا معاہدہ جو فروری ۲۰۰۲ء میں طے ہوا تھاکو اب تقریباً ساڑھے تین سال ہوچکے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ دونوں کے مابین بات چیت کا سلسلہ اپریل ۲۰۰۳ء میں ہی رک گیا تھا۔ حکومت تامل ٹائیگرز کے مابین تعلقات اس وقت غیریقینی کیفیت سے دوچار ہوگئے جب یوپی ایف اے کی حکومت نے ۲۰۰۴ء میں اقتدار کی باگ دوڑ سنبھالی۔ لبریشن ٹائیگرز (LTTE) نے حکومت پر نکتہ چینی کی تھی کہ وہ ان کی تحریک میں شگاف ڈالنے کے لئے کوشاں ہیںاور امت پر نکتہ چینی کی تھی کہ [مزید پڑھیے]