Abd Add
 

شام

شام کے خلاف کارروائی کا مغربی تناظر

September 16, 2013 // 0 Comments

کیمیاوی اسلحہ کے استعمال کے حوالے سے اس وقت شام کے خلاف کارروائی عالمی برادری کے ایجنڈے پر ہے۔ یوں تو پوری دنیا کے لیے یہ ایک تشویش کا مسئلہ ہے، لیکن مشرق اور مغرب میں اس پر جس طرح گفتگو ہو رہی ہے اس میں ایک جوہری فرق ہے۔ اس بحث کا ایک پہلو تووہ ہے جس کا محور کیمیاوی اسلحہ کا استعمال ہے۔ شاید ہی اس سے کسی کو انکار ہوسکتا ہے کہ کسی بھی لحاظ سے اور کسی بھی صورت میں کسی کے بھی خلاف کیمیاوی اسلحہ کے استعمال کی اجازت نہیں دی جاسکتی، اس لیے کہ یہ بقائے نسلِ انسانی کے لیے مہلک ہے۔ یوں اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ اسی طرح اس کا روکنا بھی اتنا [مزید پڑھیے]

ایئرمارشل حافظ الاسد سے ڈاکٹر بشارالاسد تک

March 16, 2013 // 0 Comments

حافظ الاسد نے ۱۹۴۶ء میں (مسیحی رہنما مائیکل ایفلاک کی قائم کردہ) بعث پارٹی میں بطور طالبعلم لیڈر، شمولیت اختیار کی۔ ۵۵۔۱۹۵۰ء: میڈیکل کی تعلیم مہنگی ہونے کے سبب، حافظ الاسد نے حُمص ملٹری اکیڈمی میں داخلہ لیا اور فضائیہ کے پائلٹ کی تعلیم مکمل کی۔ ۶۱۔۱۹۵۸ء: جب مصر، شام اور یمن نے یونائیٹڈ عرب ریپبلک (UAR) کی شکل میں باہم اِدغام کیا تو شام کے بعض بعثی افسروں نے، جو مصر میں جِلاوطنی کی کیفیت سے دوچار تھے، ایک ’’ملٹری کمیٹی‘‘ بنائی جس میں حافظ الاسد بھی شامل تھے۔ اس عمل کا مقصد بالآخر شام میں حکومت پر قبضہ کرنا تھا۔ ۸ مارچ ۱۹۶۳ء: اسی ’’ملٹری کمیٹی‘‘ نے ۷ مارچ ۱۹۶۳ء کو شام کی حکومت سے بغاوت کرکے اقتدار پر قبضہ کا منصوبہ بنایا، [مزید پڑھیے]

شام میں ’’آگ‘‘ نزدیک آ رہی ہے

January 16, 2013 // 0 Comments

چند دنوں کی سست روی کے بعد شام میں منحرفین ایک بار پھر بشارالاسد انتظامیہ کے خلاف کامیابیاں حاصل کرتے جارہے ہیں۔ انہوں نے مزاحمت کا دائرہ وسیع کردیا ہے اور کئی علاقے فتح کرلیے ہیں، جن میں دارالحکومت دمشق کا مضافاتی علاقہ بھی شامل ہے۔ سیرین نیشنل کونسل کی جگہ امریکا کی نظر میں غیر معمولی حیثیت حاصل کرنے والی سیرین نیشنل کولیشن قطر میں جلد ہی باضابطہ حیثیت حاصل کرلے گی۔ اسے سفارتی سطح پر بھی قبولیت دی جارہی ہے۔ کولیشن سے وابستہ رہنما حکومت کے خلاف لڑنے والے تمام گروپوں کو کنٹرول نہ بھی کرسکیں تو ان پر اپنے اثرات ضرور مرتب کرنا چاہتے ہیں۔ بشارالاسد انتظامیہ جو کچھ کر رہی ہے اس سے بدحواسی نمایاں ہے۔ دمشق کے نواح میں فلسطینیوں [مزید پڑھیے]

ترکی اور روس کے قریبی تعلقات

December 16, 2012 // 0 Comments

شام کو شاید یقین نہ آئے یا اسے کوئی اعتراض بھی ہو مگر حقیقت یہ ہے کہ ترکی اور روس کے تعلقات قریبی نوعیت کے ہیں اور انہوں نے بہت سے اہم بین الاقوامی اور علاقائی امور میں ایک دوسرے سے تعاون بھی کیا ہے۔ شام میں تیرہ سال تک قید و بند کی صعوبتیں جھیلنے والے ایک اسکالر محمد مصطفی کا کہنا ہے کہ بشار الاسد قصائی اور پوٹن شیطان ہے اور رجب طیب اردغان ولی ہے۔ ترک شام سرحد کے نزدیک سیلپینار شہر کے پناہ گزین کیمپ میں محمد مصطفی اور دیگر بیس ہزار شامی باشندے سکونت اختیار کیے ہوئے ہیں۔ منحرف فوجیوں پر مشتمل فری سیریا آرمی کے ایک سپاہی ابراہیم جبار کا کہنا ہے کہ اگر روس مدد سے ہاتھ کھینچ [مزید پڑھیے]

شام: اپوزیشن دھڑوں کے اتحاد کا مسئلہ

December 1, 2012 // 0 Comments

دنیا بھر میں حکومتوں کے خلاف اٹھنے والی تحریکیں بہت پیچیدہ معاملہ ہوا کرتی ہیں، مگر شام میں صدر بشار الاسد کے خلاف چلائی جانے والی تحریک سب سے پیچیدہ ہے۔ اب تک یہ طے نہیں ہوسکا ہے کہ اپوزیشن کی قیادت کس کے ہاتھ میں ہوگی۔ ملک بھر میں قتل عام جاری ہے۔ حکومت کی گرفت کمزور پڑ رہی ہے مگر ملک میں سرگرم عمل حکومت مخالف عناصر سے بیرون ملک مقیم رہنماؤں کا رابطہ کمزور ہے یا بالکل نہیں۔ ملک میں سویلین اور فوجی قیادت میں اس حوالے سے رساکشی چل رہی ہے کہ بشارالاسد انتظامیہ کی مکمل ناکامی کی صورت میں ملک کو کون سنبھالے گا۔ شہروں، قصبوں اور دیہاتوں کو کنٹرول کرنا اپوزیشن کے لیے دشوار ہوتا جارہا ہے، کیونکہ کوئی [مزید پڑھیے]

روس برطانیہ تعلقات کی بحالی؟

August 16, 2012 // 0 Comments

یہ دعویٰ کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن (Vladimir Putin) برطانیہ میں بالکل ذاتی حیثیت میں اولمپک گیمز میں جوڈو کے کھیل کو دیکھنے آئے ہیں، ایک ڈپلومیٹک کوشش کے سوا کچھ نہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ روسی صدر اپنے پسندیدہ کھیل میں بہت زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں مگر ان کا دورہ اس روایت کی ایک عملی مثال تھا کہ کھیل کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے۔ یہ روایت ایک عرصہ سے چلی آرہی ہے۔ یہ بات تو یقینی ہے کہ ولادیمیر پیوٹن ڈیوڈ کیمرون کے ہمراہ جوڈو کے مقابلے دیکھنے کے لیے آئے۔ اس سے قبل دونوں رہنما ڈائوننگ اسٹریٹ میں غیر رسمی گفتگو کر چکے تھے۔ پچھلے ایک عشرے کے دوران ولادیمیر پہلے روسی سربراہ ہیں جنہوں نے برطانیہ کا [مزید پڑھیے]

اسلامی عناصر اور عرب دنیا کے آئین

April 16, 2012 // 0 Comments

عرب دنیا میں ۲۰۱۱ء میں بیداری کی لہر اٹھی اور نئی حکومتوں کے قیام کی راہ ہموار ہوئی۔ مگر ایک خوف بھی پیدا ہوا کہ اگر کہیں پرانی آمریتیں چلی گئیں اور اسلامی عناصر کی شکل میں نئی آمریتیں اٹھ کھڑی ہوئیں تو؟ شام میں اقلیتیں اس قدر خوفزدہ ہیں کہ انہوں نے اکثریت پر مظالم ڈھانے کو بھی برداشت کرلیا ہے۔ سیکولر ازم کو بچانے کے نام پر سبھی کچھ روا سمجھ لیا گیا ہے۔ مصر اور تیونس میں کچھ کچھ ایسا ہی خوف پایا جاتا ہے۔ ان دونوں ممالک میں نئے آئین کی تشکیل پر زور دیا جارہا ہے تاکہ کوئی بھی نیا نظام من مانی نہ کرسکے۔ ان تینوں ممالک میں اسلامی عناصر نے خاصے مختلف انداز سے معاملات کو نپٹایا اور [مزید پڑھیے]

شام اور عرب لیگ: انجام کیا ہوگا؟

February 1, 2012 // 0 Comments

مذاکرات اور مصالحت کے امکانات معدوم تر ہوتے جارہے ہیں اور عسکری مداخلت کے لیے صدائیں بلند ہو رہی ہیں۔ شام میں گیارہ ماہ قبل حکومت کے خلاف تحریک شروع ہوئی تو بیشتر مخالفین اس بات کے خلاف تھے کہ سیکورٹی فورسز کے خلاف ہتھیار اٹھائے جائیں۔ مگر اب تک چھ ہزار سے زائد افراد کی فورسز کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد اب ذہن تبدیل ہوچکا ہے۔ فورسز نے کئی شہروں میں خاصی سفاکی سے کریک ڈاؤن کرکے حکومت کے خلاف پرامن مظاہرے کرنے والوں کو بھون ڈالا ہے۔ شامی اپوزیشن کے جلا وطن گروپ سیرین نیشنل کونسل نے ملک میں محفوظ علاقے قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ کونسل نے فورسز سے منحرف ہونے والے فوجیوں پر مشتمل فری سیرین آرمی کی [مزید پڑھیے]

1 2 3