Abd Add
 

شام

شام کی مذہبی اقلیتیں

February 1, 2012 // 0 Comments

صورت حال جس قدر تیزی سے خراب ہوتی جارہی ہے، اسی قدر تیزی سے شام کی مذہبی اقلیتیں بھی بدحواس اور پریشان ہوتی جارہی ہیں۔ گیارہ ماہ قبل جب شام میں بشارالاسد انتظامیہ کے خلاف عوامی تحریک کی ابتدا ہوئی تو سرکاری پروپیگنڈا مشینری نے یہ تاثر دیا کہ ملک کی متشدد اسلامی اکثریت دراصل علوی اور عیسائی اقلیت کے ساتھ ساتھ سیکولر عناصر کی مخالفت میں اٹھ کھڑی ہوئی ہے۔ علوی اور عیسائی مل کر شام کی ۲ کروڑ ۲۰ لاکھ آبادی میں ۱۰ فیصد کے مساوی ہیں۔ جو کچھ شام کی پروپیگنڈا مشینری نے کہا وہ، ظاہر ہے، درست نہیں تھا۔ شام میں معاشرے کے ہر شعبے سے احتجاج کی صدائیں بلند ہوئی ہیں۔ حکومت جس انداز سے مخالفین کو کچلتی رہی ہے [مزید پڑھیے]

ترکی اور عرب دنیا

January 16, 2012 // 0 Comments

سعودی شہزادے عبدالعزیز بن طلال بن عبدالعزیز السعود نے سعودی عرب کے شراکت دار اور مشرق وسطیٰ کے استحکام میں اہم کردار ادا کرنے کے حوالے سے ترکی کو سراہاہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کردار اگرچہ نیا ہے تاہم اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ شہزادہ عبدالعزیز بن طلال کہتے ہیں کہ ’’پانچ دس سال پہلے تک یہ معاملہ نہیں تھا۔ خطے کی سلامتی اور استحکام میں ترکی کا واضح کردار نہیں تھا اور ہر معاملے میں اس کی طرف دیکھنے کا رجحان بھی عام نہیں ہوا تھا‘‘۔ سعودی شہزادے نے ان خیالات کا اظہار انقرہ کے تھنک ٹینک سینٹر فار مڈل ایسٹرن اسٹریٹجک اسٹڈیز کی دعوت پر ترکی کے دورے کے دوران ٹوڈیز زمان سے ایک انٹرویو میں کیا۔ انہوں [مزید پڑھیے]

شام کی فوج میں دراڑیں

November 16, 2011 // 0 Comments

شام کی فوج میں بھی اختلافات بڑھتے جارہے ہیں۔ فورسز چھوڑ کر عوام سے جا ملنے والے سپاہیوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ بشارالاسد انتظامیہ نے اب تک اقتدار کے لیے فوج، پولیس اور خفیہ اداروں پر انحصار کیا ہے۔ یہ تینوں اب تک وفادار رہے ہیں مگر اب ان میں بھی منحرفین کی تعداد بڑھتی جارہی ہے اور منحرف ہونے والے بہتر انداز سے منظم بھی ہو رہے ہیں۔ مارچ میں حکومت کے خلاف تحریک شروع ہوئی تھی۔ تب سے اب تک فوج سے لوگ منحرف ہوتے رہے ہیں۔ ان میں بڑی تعداد سنیوں کی ہے۔ بہت سے منحرف فوجی ملک چھوڑ گئے، کچھ نے عوام میں پناہ لی ہے۔ جولائی میں کرنل ریاض الاسد نے ترکی میں پناہ لی اور فری سیرین آرمی [مزید پڑھیے]

شام میں ’’منظم اپوزیشن‘‘ تیار!

November 1, 2011 // 0 Comments

شام میں اپوزیشن جماعتوں کا ایک محاذ تیزی سے ابھر رہا ہے۔ چھ ماہ قبل بشارالاسد انتظامیہ کے خلاف تحریک کے آغاز سے اب تک ملک کے اندر اور باہر حکومت کے مخالفین کو متحد اور منظم کرنے کے لیے مضبوط اپوزیشن کو سامنے لانے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔ ۲؍ اکتوبر کو ترکی میں جس سیرین نیشنل کونسل کے قیام کا اعلان کیا گیا ہے وہ اب تک بنائے جانے والے اپوزیشن محاذ میں سب سے زیادہ طاقتور دکھائی دیتی ہے۔ ۱۵ ستمبر کو جس کونسل کے قیام کا اعلان کیا گیا تھا اس کا یہ وسیع ورژن ہے۔ اس میں سیرین ٹرانزیشنل کونسل کے سربراہ اور ساربون کے پروفیسر برہان غالیون سمیت کئی اہم شخصیات شامل ہیں۔ اس بات کا قوی امکان [مزید پڑھیے]

لبنان کے سابق وزیراعظم رفیق الحریری کا قتل

March 1, 2005 // 0 Comments

گذشتہ پیر کو رفیق الحریری کے قتل کا واقعہ پُراسراریت کے نرغے میں ہے۔ اسرائیل نے فوراً ہی اس قتل کا الزام شام پر عائد کیا جبکہ دمشق اور تہران نے تل ابیب پر انگشت نمائی کی ہے۔ تہران کا ردِعمل بالکل واضح تھا۔ اس نے سابق وزیراعظم کے قتل کو صیہونی دہشت گردی کا واقعہ قرار دیا۔ الحریری کے قتل میں جو بم استعمال ہوا ہے‘ وہ انتہائی جدید ٹیکنالوجی کا حامل تھا جس نے کار کے چارجنگ ڈیوائس کو ناکارہ بنا دیا تھا۔ ایران کے مطابق صرف صیہونی حکومت جیسا کوئی منظم گروہ ہی اتنے جدید ترین آپریشن کا اہل ہو سکتا ہے۔ اس کا مقصد لبنان کو عدم استحکام سے دوچار کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک عیرمعروف گروہ نے اس [مزید پڑھیے]

1 2 3