Abd Add
 

طالبان

افغانستان کی سب سے موثر جنگی و سیاسی قوت ہیں ان کو مختصرا طالبان کہا جاتا ہے نسلی اعتبار سے پشتون ہیں اور مسلکی اعتبار سے دیوبندی اور اہل حدیث کے مکتبہ فکر سے منسلک ہیں

افغان طالبان سے مذاکرات

March 16, 2015 // 0 Comments

اگر کہیں اور ایسا ہوا ہوتا کہ برفانی تودے گرنے سے متاثر ہونے والے افراد کے لیے کسی پڑوسی ملک نے امداد بھیجی ہوتی تو اِس عمل کو شکریے کے ساتھ قبول کیا جاتا تاہم زیادہ حیرت کا اظہار نہ کیا گیا ہوتا۔ مگر جب حال ہی میں پاکستان نے افغانستان کی وادیٔ پنجشیر میں برفانی تودے گرنے سے ہونے والی ہلاکتوں پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرین کے لیے امدادی سامان سے لدے ہوئے طیارے بھیجے تو دنیا کو اندازہ ہوا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کس حد تک بہتر ہوئے ہیں۔ اب یہ امکان بھی موجود ہے کہ پاکستان کی حکومت طالبان کو افغان حکومت سے مذاکرات پر آمادہ کرے۔ یہ امکان اگرچہ اب تک محض ایک گمان ہے مگر [مزید پڑھیے]

افغانستان کا استحکام، امریکی افواج کے انخلا سے مشروط ہے!

November 16, 2014 // 0 Comments

ملا عبدالسلام ضعیف کا کہنا ہے کہ خود کش حملے خفیہ ایجنسیوں کے ایجنٹوں کا کام ہے، طالبان اِس قبیح فعل میں کبھی ملوث نہیں ہوسکتے۔ اس خیال کا اظہار انہوں نے حال ہی میں جنوبی افریقا میں ’’کیج افریقا‘‘ کی لانچنگ کے موقع پر کیا۔ اُن کی باتوں سے طالبان کے بارے میں پایا جانے والا اچھا خاصا اشکال دور ہوا ہے۔

طالبان کام کر گئے!

October 16, 2012 // 0 Comments

افغانستان میں افغان فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں اتحادی فوجیوں کی ہلاکت کے بڑھتے ہوئے واقعات کی روشنی میں نیٹو کمانڈر جنرل جان ایلن نے مشترکہ گشت محدود کرنے کا حکم دے کر اس نوعیت کے واقعات کی سنگینی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ۱۶؍ستمبر کو مشترکہ گشت محدود کرنے کا جو حکم دیا اس سے ایک دن قبل بھی افغان فوجیوں کے حملے میں چار امریکی اور دو برطانوی فوجی مارے گئے۔ سال رواں کے دوران فائرنگ سے مارے جانے والے فوجیوں کی تعداد ۵۱ ہوگئی۔ ۲۰۱۱ء میں یہ تعداد ۳۵ اور ۲۰۰۸ء میں صرف ۲ تھی۔ مشترکہ گشت محدود کرنے کا حکم جنگ کے میدان میں مصروف افسران اور برطانیہ میں ایوان اقتدار دونوں کے لیے انتہائی حیرت کا باعث بنا، [مزید پڑھیے]

افغانستان میں نیٹو پر ’’اپنوں‘‘ کے حملے!

September 16, 2012 // 0 Comments

افغانستان میں نیٹو افواج نے دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر جو جنگ چھیڑ رکھی ہے اس کے اثرات کا جائزہ لینے کے مختلف طریقے ہیں۔ کئی زاویوں سے اس جنگ کے اثرات کو جانچا اور پرکھا جاتا ہے تاکہ عوامی حمایت برقرار رکھنے کے لیے طریقے سوچے جاسکیں۔ نیٹو افواج کو افغانستان میں دس برسوں کے دوران شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ایک بڑی مشکل ’’اپنوں‘‘ کے حملے بھی ہیں۔ افغان فوج اور پولیس کے بہت سے اہلکار آئے دن نیٹو افواج پر حملے کرتے رہتے ہیں۔ گزشتہ برس ان حملوں میں ۳۵؍افراد مارے گئے تھے مگر اس سال یہ رجحان مزید پختہ ہوا ہے اور اب تک ۴۵ نیٹو فوجی اور اہلکار مارے جاچکے ہیں۔ ۶۹؍اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔ [مزید پڑھیے]

افغانستان سے انخلا میں امریکی عجلت!

February 16, 2012 // 0 Comments

امریکا نے دس سال سے بھی زائد مدت سے افغانستان میں مخالفین کے سر جھکانے کی بھرپور کوشش کی ہے مگر ایسا لگتا ہے کہ اب اس کی ہمت جواب دے گئی ہے اور وہ کسی نہ کسی طور افغان سرزمین سے پنڈ چھڑانا چاہتا ہے۔ یکم فروری کو بلجیم کے دارالحکومت برسلز میں نیٹو کے وزارتی اجلاس سے قبل امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا نے ایک ایسا بیان داغا جس نے بم ہی گرادیا۔ پنیٹا نے کہا کہ امریکا نے افغانستان سے انخلا کی جو حتمی تاریخ مقرر کی ہے اس میں ڈیڑھ سال کی کمی کی جارہی ہے یعنی اب امریکی افواج کو افغانستان سے ۲۰۱۴ء کے آخر کے بجائے ۲۰۱۳ء کے وسط تک نکال لیا جائے گا۔ سابق ڈیڈ لائن پرتگال کے [مزید پڑھیے]

پاکستان کو جرأت مندانہ فیصلے کرنے ہوں گے!

October 16, 2011 // 0 Comments

پاک امریکا تعلقات ایک بار پھر کشیدگی سے دوچار ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کا کردار امریکیوں کے نزدیک متنازع ہے۔ انہوں نے پاکستان پر حقانی گروپ کی بھرپور حمایت اور مدد کا الزام بھی عائد کیا ہے۔ دونوں ممالک ایک نازک موڑ پر کھڑے ہیں۔ پاکستان میں بدامنی اور بدحالی بنیادی مسائل ہیں۔ دوسری طرف امریکا کا کہنا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھرپور کردار ادا نہیں کر رہا۔ پاکستان پر شمالی وزیرستان میں حقانی گروپ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا جارہا ہے۔ واشنگٹن کی اٹلانٹک کونسل کے ساؤتھ ایشیا سینٹر کے ڈائریکٹر شجاع نواز نے اپنے مضمون میں پاک امریکا تعلقات کا جائزہ لیا ہے۔ جو قارئین کے لیے پیش کیا جارہا ہے۔ امریکا [مزید پڑھیے]

اچھا ہے کہ زخم مندمل ہوں!

July 16, 2011 // 0 Comments

محمد عمر داؤد زئی کو پاکستان میں افغانستان کا سفیر تین ماہ قبل مقرر کیا گیا تھا۔ وہ صدر حامد کرزئی کے چیف آف اسٹاف اور ایران میں سفیر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ نیوز ویک کے سمیع یوسف زئی نے اسلام آباد میں عمر داؤد زئی سے پاک افغان تعلقات اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا۔ اس انٹرویو سے اقتباسات پیش خدمت ہیں۔ ٭ آپ کا کہنا ہے کہ پاک افغان تعلقات کا ایک نیا باب شروع ہوا ہے۔ تجارت پر تو بات ہوئی ہے مگر حقانی نیٹ ورک اور دیگر حساس امور پر اب تک زیادہ بات نہیں ہوئی۔ ایسا کیوں ہے؟ عمر داؤد زئی: پاک افغان تعلقات بہتر بنانے کے حوالے سے ہر معاملے پر بات ہوئی [مزید پڑھیے]

1 2