Abd Add
 

طالبان

افغانستان کی سب سے موثر جنگی و سیاسی قوت ہیں ان کو مختصرا طالبان کہا جاتا ہے نسلی اعتبار سے پشتون ہیں اور مسلکی اعتبار سے دیوبندی اور اہل حدیث کے مکتبہ فکر سے منسلک ہیں

پہلے امریکی افواج کا انخلا، سوال بعد میں!

August 1, 2020 // 1 Comment

امریکی افواج افغان سرزمین تیزی سے چھوڑ رہی ہیں۔ امریکا رخصت تو ہو رہا ہے مگر افغانستان کے مستقبل پر پہلے سے بھی بڑا سوالیہ نشان لگا ہوا ہے کیونکہ کسی ایک معاملے میں بھی پورے یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ فائزہ ابراہیمی کو کچھ زیادہ یاد نہیں۔ تب وہ بہت چھوٹی تھی، جب افغانستان پر طالبان کی حکومت تھی۔ فائزہ کے والدین جب اُسے بتاتے ہیں کہ افغانستان پر کئی سال تک طالبان کی حکومت رہی جو شریعت کے طے کردہ قوانین کے مطابق تھی تو اُسے یقین ہی نہیں آتا۔ فائزہ مغربی شہر ہرات میں ریڈیوپریزنٹر ہے۔ فائزہ کو یقین ہی نہیں آتا جب اسے بتایا جاتا ہے کہ دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے اور مدارس میں تعلیم پانے والے نوجوان کسی [مزید پڑھیے]

افغان طالبان سے مذاکرات

March 16, 2015 // 0 Comments

اگر کہیں اور ایسا ہوا ہوتا کہ برفانی تودے گرنے سے متاثر ہونے والے افراد کے لیے کسی پڑوسی ملک نے امداد بھیجی ہوتی تو اِس عمل کو شکریے کے ساتھ قبول کیا جاتا تاہم زیادہ حیرت کا اظہار نہ کیا گیا ہوتا۔ مگر جب حال ہی میں پاکستان نے افغانستان کی وادیٔ پنجشیر میں برفانی تودے گرنے سے ہونے والی ہلاکتوں پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرین کے لیے امدادی سامان سے لدے ہوئے طیارے بھیجے تو دنیا کو اندازہ ہوا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کس حد تک بہتر ہوئے ہیں۔ اب یہ امکان بھی موجود ہے کہ پاکستان کی حکومت طالبان کو افغان حکومت سے مذاکرات پر آمادہ کرے۔ یہ امکان اگرچہ اب تک محض ایک گمان ہے مگر [مزید پڑھیے]

افغانستان کا استحکام، امریکی افواج کے انخلا سے مشروط ہے!

November 16, 2014 // 0 Comments

ملا عبدالسلام ضعیف کا کہنا ہے کہ خود کش حملے خفیہ ایجنسیوں کے ایجنٹوں کا کام ہے، طالبان اِس قبیح فعل میں کبھی ملوث نہیں ہوسکتے۔ اس خیال کا اظہار انہوں نے حال ہی میں جنوبی افریقا میں ’’کیج افریقا‘‘ کی لانچنگ کے موقع پر کیا۔ اُن کی باتوں سے طالبان کے بارے میں پایا جانے والا اچھا خاصا اشکال دور ہوا ہے۔

طالبان کام کر گئے!

October 16, 2012 // 0 Comments

افغانستان میں افغان فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں اتحادی فوجیوں کی ہلاکت کے بڑھتے ہوئے واقعات کی روشنی میں نیٹو کمانڈر جنرل جان ایلن نے مشترکہ گشت محدود کرنے کا حکم دے کر اس نوعیت کے واقعات کی سنگینی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ۱۶؍ستمبر کو مشترکہ گشت محدود کرنے کا جو حکم دیا اس سے ایک دن قبل بھی افغان فوجیوں کے حملے میں چار امریکی اور دو برطانوی فوجی مارے گئے۔ سال رواں کے دوران فائرنگ سے مارے جانے والے فوجیوں کی تعداد ۵۱ ہوگئی۔ ۲۰۱۱ء میں یہ تعداد ۳۵ اور ۲۰۰۸ء میں صرف ۲ تھی۔ مشترکہ گشت محدود کرنے کا حکم جنگ کے میدان میں مصروف افسران اور برطانیہ میں ایوان اقتدار دونوں کے لیے انتہائی حیرت کا باعث بنا، [مزید پڑھیے]

افغانستان میں نیٹو پر ’’اپنوں‘‘ کے حملے!

September 16, 2012 // 0 Comments

افغانستان میں نیٹو افواج نے دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر جو جنگ چھیڑ رکھی ہے اس کے اثرات کا جائزہ لینے کے مختلف طریقے ہیں۔ کئی زاویوں سے اس جنگ کے اثرات کو جانچا اور پرکھا جاتا ہے تاکہ عوامی حمایت برقرار رکھنے کے لیے طریقے سوچے جاسکیں۔ نیٹو افواج کو افغانستان میں دس برسوں کے دوران شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ایک بڑی مشکل ’’اپنوں‘‘ کے حملے بھی ہیں۔ افغان فوج اور پولیس کے بہت سے اہلکار آئے دن نیٹو افواج پر حملے کرتے رہتے ہیں۔ گزشتہ برس ان حملوں میں ۳۵؍افراد مارے گئے تھے مگر اس سال یہ رجحان مزید پختہ ہوا ہے اور اب تک ۴۵ نیٹو فوجی اور اہلکار مارے جاچکے ہیں۔ ۶۹؍اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔ [مزید پڑھیے]

1 2