Abd Add
 

تیونس

تونس (عربی: تونس، انگریزی: Tunisia)، سرکاری نام جمہوریۂ تونس (عربی: الجمہوریہ التونسیہ)، شمالی افریقہ میں بحیرہ روم کے ساحل پر واقع ایک ملک ہے۔ یہ اُن ممالک میں شمار کیا جاتا ہے جو کوہ اطلس کے گردو نواح میں واقع ہیں۔ اس کی سرحدیں مغرب میں الجزائر اور جنوب مشرق میں لیبیا سے ملتی ہیں۔ ملک کا تقریباً چالیس (%40) فی صد حصہ صحرائے اعظم پر مشتمل ہے جبکہ زیادہ تر باقی ماندہ علاقہ زرخیز زمینوں اور اس کے علاوہ تقریباً (1300) تیرہ سو کلومیٹر طویل ساحلی علاقوں پر مشتمل ہے۔ اردو میں انگریزی کے زیر اثر اسے تیونس کہہ دیا جاتا ہے جو غلط ہے، ملک کا اصل نام تونس ہے۔

تیونس: نئے دور کا آغاز؟

November 16, 2019 // 0 Comments

تیونس کو ۲۰۱۱ء میں آمر کی اقتدار سے بے دخلی اور جمہوریت کے راستے میں سفر کے آغاز سے ہی سخت مشکل حالات کا سامنا رہا ہے۔ معیشت جامد، کرپشن روز افزوں، دہشت گردی زوروں پر اور اصحاب سیاست میدان سے باہر ہیں۔ ۱۳؍اکتوبر ۲۰۱۹ء کو ریٹائرڈ پروفیسر قیس سعیدتیونس کے نئے صدر منتخب ہوئے، اس تبدیلی سے امید کی ایک کرن پیدا ہوئی ہے۔ اس موقع پر ہزاروں تیونسی عوام دارالحکومت میں جمع ہوئے خوشی اور جوش و جذبے کا اظہار کیا۔ صدرسعید نے اپنی کامیابی کو انقلابِ نو سے تعبیر کیا۔تاہم اس وقت یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ انقلاب کس نوعیت کا ہوگا۔قیس سعید نے سیاست دانوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ ۶۱ سالہ ریٹائرڈ پروفیسر نے ناموزوں انتخابی مہم چلائی، [مزید پڑھیے]

تیونس : صدارتی انتخابات میں قیس سعید کی فتح

October 16, 2019 // 0 Comments

تیونس میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں آزاد امیدوار قیس سعید نے ۷۱ء۷۲ فیصد ووٹ حاصل کرکے فتح حاصل کرلی ہے۔ قیس سعید قانون کے پروفیسر ہیں،انھوں نے کل ۲۷ لاکھ ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے مدمقابل نبیل القروی نے ۱۰ لاکھ ووٹ حاصل کیے۔ القروی ایک کاروباری شخصیت ہیں، جو تقریباً اپنی پوری انتخابی مہم کے دوران جیل میں رہے۔ انتخابی کمیشن کے مطابق انتخابات کے دوسرے مرحلے میں ووٹ ڈالنے کا تناسب ۵۵ فیصد رہا جو کہ ۱۵ ستمبر کو ہونے والے پہلے مرحلے کی نسبت زیادہ ہے۔ یہ ۱۱۔۲۰۱۰ء کے انقلاب کے بعد ملک کے دوسرے آزاد صدارتی انتخابات تھے۔ ۶۱ سالہ قیس سعید کے پاس سیاست کا کوئی تجربہ نہیں ہے، انھوں نے آزاد حیثیت میں انتخابات [مزید پڑھیے]

تیونس میں سیکولر عناصر کی کامیابی

November 16, 2014 // 0 Comments

تیونس کے حالیہ پارلیمانی انتخابات میں حیرت انگیز بات یہ ہوئی کہ خطے کے رجحانات کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے عوام نے اقتدار سیکولر عناصر کو سونپ دیا۔ النہضہ پارٹی کا اقتدار ختم ہوا، اب ندا تونس پارٹی اقتدار میں ہے۔ النہضہ پارٹی نے عوام کے فیصلے یعنی اپنی شکست کو انتہائی پُرامن انداز سے تسلیم کر لیا۔

ایک نئے تیونس کا تصور

July 16, 2013 // 0 Comments

سینٹر فار دی اسٹڈی آف اسلام اینڈ ڈیموکریسی سے تیونس کے راہنما راشد غنوشی کا خطاب ہم آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں جس میں اُنہوں نے تیونس میں رونما ہوتی ہوئی سیاسی تبدیلیوں اور چیلنجوں کا ذکر کیا ہے۔ میں سینٹر فار دی اسٹڈی آف اسلام اینڈ ڈیموکریسی کا شکر گزار ہوں، جس نے مجھے امریکا کے نامور اسکالروں اور پالیسی سازوں کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک سے آنے والے مندوبین سے مخاطب ہونے کا موقع فراہم کیا۔ تیونس میں جمہوریت کا متعارف ہونا صرف تیونس کے لیے نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ تیونس اس خطے کا پہلا جمہوری اسلامی ملک ہے۔ ہم تیونس میں اپنی ذمہ داری محسوس کرتے ہیں اور ہمیں اندازہ ہے کہ جمہوریت [مزید پڑھیے]

1 2