ترکی

ترکی: سلطنت عثمانیہ کے بعد کی بڑی تبدیلی

February 16, 2017 // 0 Comments

ترکی میں انتخابات کے محکمے نے ۱۶؍اپریل کو ریفرنڈم کرانے کا اعلان کیا ہے۔ اس ریفرنڈم میں ترک عوام ملک میں پارلیمانی نظام ختم کر کے صدارتی نظام نافذ کرنے سے متعلق فیصلہ دیں گے۔ ایردوان صدارتی نظام کے خواہش مند ہیں۔ خلافت عثمانیہ کا دور ختم ہونے کے بعد وجود میں آنے والی جدید ترک ریاست کے سیاسی نظام میں سب سے بڑی تبدیلی کے لیے یہ ریفرنڈم کرایا جا رہا ہے۔ اس ریفرنڈم میں ترک عوام ملک میں صدارتی نظام نافذ کرنے کے حق اور مخالفت میں ووٹ ڈالیں گے۔ ترک صدر رجب طیب ایردوان ملک میں موجودہ پارلیمانی جمہوری نظام ختم کر کے صدارتی جمہوری نظام قائم کرنے کی خواہش کا برملا اظہار کرتے رہے ہیں۔ ایردوان کا یہاں تک کہنا ہے [مزید پڑھیے]

ترکی: صدارتی ترجمان، ابراہیم قالن کا خصوصی انٹرویو

August 1, 2016 // 0 Comments

رپورٹر: جناب ابراھیم قالن ٹی آرٹی ورلڈ کے ون آن ون پروگرام میں خوش آمدید۔ صدر ایردوان ایک طویل عرصے سے ملک میں جمہوریت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنے والی اور ملکی سلامتی کے لیے خطرہ تشکیل دینے والی ’’متوازی حکومتی ڈھانچے‘‘ کی موجودگی کا کہتے چلے آئے تھے۔ ان معلومات سے آگاہی ہونے کے باوجود یہ کیسے ہوا کہ ملک میں بغاوت کی کوشش کی گئی؟ کیا اس میں خفیہ معلومات کی کمزوری بھی شامل ہے؟ ابراھیم قالن: یہ گروہ ایک طویل عرصے سے ملک میں کارروائیوں میں مصروف تھا۔ خاص کر ۱۷ تا ۲۵ دسمبر کی کارروائی کے بعد انہوں نے قومی خطرے کی ماہیت اختیار کر لی۔ ہم نے اس تاریخ کے بعد سے کئی ایک تدابیر اختیار کیں۔ ان لوگوں [مزید پڑھیے]

1 2 3 4