ترکی

ترکی، یورپی یونین اور میڈیا کی آزادی

January 1, 2015 // 0 Comments

یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ فیڈریکا موگرینی اور توسیعی امور کے کمشنر جوہانس ہان نے خبردار کیا تھا کہ رکنیت سے متعلق ترکی کی امیدوں کا انحصار قانون کی بالادستی اور بنیادی حقوق کے مکمل تحفظ پر ہے۔ انہوں نے میڈیا کی آزادی کو جمہوریت کا بنیادی اصول قرار دیتے ہوئے ان گرفتاریوں کو اس اصول سے انحراف قرار دیا۔

ترکی اور یورپ کے بگڑتے تعلقات!

December 16, 2014 // 0 Comments

ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت کی امیدیں اس وقت ہی کافی کمزور پڑ گئی تھیں جب پچھلے سال غازی پارک میں احتجاج کے دوران حکومتی ردِ عمل کے نتیجے میں کم از کم ۹؍افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔
ترکی کی امریکا کے ساتھ دوستی میں بھی تلخی آئی ہے۔ کیونکہ ترکی نے اتحادی جنگی جہازوں کو داعش پر بمباری کرنے کے لیے ’انسرلیک‘ (Incirlik) کا ہوائی اڈا فراہم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

ترکی: عوام نے فیصلہ دے دیا

April 16, 2014 // 0 Comments

اردوان اپنے حریفوں کو معاف کرنے کے موڈ میں دکھائی نہیں دیتے۔ ان کا کہنا ہے کہ کل ان کے بعض حریفوں کو بھاگنا پڑے گا۔ ان کا اشارہ واضح طور پر فتح اللہ گولن کی طرف تھا، جن کے حامیوں نے اردوان کی پارٹی کے لیے مشکلات پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ فتح اللہ گولن بنیادی طور پر تعلیم کے شعبے سے وابستہ رہے ہیں مگر اب ان کے حامیوں نے سیاست میں بھی قدم رکھ دیا ہے

ترکی: بلدیاتی انتخابات میں اردوان کی واضح فتح

April 16, 2014 // 0 Comments

اپوزیشن جماعتوں اور مشکوک گولن تحریک کی جانب سے جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی (AK Party) پر مشترکہ شدید حملوں سے بھر پور انتخابی مہم کے باوجود ترکی کی حکمراں جماعت نے ۳۰ مارچ کو منعقدہ بلدیاتی انتخابات میں بھاری اکژیت سے کامیابی حاصل کی

اگلے انتخابات میں ’’اے کے پی‘‘ کو مسائل درپیش ہو سکتے ہیں

February 1, 2014 // 0 Comments

مصطفی یشل ’’خِذمت تحریک‘‘ سے وابستہ ’جرنلسٹس اینڈ رائٹرز فائونڈیشن‘ (GYV) کے سربراہ ہیں، فتح اللہ گولن اس تنظیم کے اعزازی صدر ہیں۔ انصاف و ترقی پارٹی (AKP) اور خذمت تحریک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اسباب پر مصطفیٰ یشل نے ایک انٹرویو میں اظہار خیال کیا،

ترکی میں بدعنوانی

January 16, 2014 // 0 Comments

تین سال قبل جب مشرق وسطیٰ میں عوامی بیداری کی لہر اٹھی تھی، تب پُرامید ڈیموکریٹس نے ترکی کو ایک اچھے ماڈل کی حیثیت سے دیکھنا شروع کیا تھا، جس نے اسلام کو اعتدال پسندی کے ساتھ اپناتے ہوئے معیشت کو بھی مستحکم کیا ہے۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ اہلِ عرب نے اس راہ پر گامزن ہونے سے گریز کیا ہے، جس پر ترکی گامزن ہے۔ اور دوسری طرف ترکی نے عرب دنیا کی پرانی اور جانی پہچانی راہ یعنی بدعنوانی اور مطلق العنانیت کو اپنالیا ہے۔

ترک سلطان کا خواب

November 1, 2013 // 0 Comments

ترکی میں انفرا اسٹرکچر کے حوالے سے غیرمعمولی کارکردگی کا اظہار کیا جانے والا ہے۔ اس وقت بھی انفرااسٹرکچر بہت عمدہ ہے مگر اس کا معیار مزید بلند کرنے پر توجہ دی جارہی ہے۔ اگلا مرحلہ آبنائے باسفورس میں سرنگ کی تعمیر ہے۔ ترکی کے ۳۱ ویں سلطان عبدالمجید اول نے ایک خواب دیکھا تھا۔ ۱۸۳۹ء سے ۱۸۶۱ء تک حکمرانی کرنے والے سلطان کا خواب یہ تھا کہ آبنائے باسفورس کے اندر ایک ایسی سرنگ تعمیر کی جائے جو ایشیا کو یورپ سے ملائے۔ ایک فرانسیسی ماہرِ تعمیرات اس سرنگ کا بنیادی خاکہ لے کر سامنے آیا مگر تب ایک طرف تو زری وسائل کی کمی تھی اور دوسری طرف مطلوبہ ٹیکنالوجی کا بھی فقدان تھا۔ سلطان عبدالمجید اول کا خواب اب شرمندۂ تعبیر ہوگیا [مزید پڑھیے]

1 2 3 4