Abd Add
 

ترکی

ترک سلطان کا خواب

November 1, 2013 // 0 Comments

ترکی میں انفرا اسٹرکچر کے حوالے سے غیرمعمولی کارکردگی کا اظہار کیا جانے والا ہے۔ اس وقت بھی انفرااسٹرکچر بہت عمدہ ہے مگر اس کا معیار مزید بلند کرنے پر توجہ دی جارہی ہے۔ اگلا مرحلہ آبنائے باسفورس میں سرنگ کی تعمیر ہے۔ ترکی کے ۳۱ ویں سلطان عبدالمجید اول نے ایک خواب دیکھا تھا۔ ۱۸۳۹ء سے ۱۸۶۱ء تک حکمرانی کرنے والے سلطان کا خواب یہ تھا کہ آبنائے باسفورس کے اندر ایک ایسی سرنگ تعمیر کی جائے جو ایشیا کو یورپ سے ملائے۔ ایک فرانسیسی ماہرِ تعمیرات اس سرنگ کا بنیادی خاکہ لے کر سامنے آیا مگر تب ایک طرف تو زری وسائل کی کمی تھی اور دوسری طرف مطلوبہ ٹیکنالوجی کا بھی فقدان تھا۔ سلطان عبدالمجید اول کا خواب اب شرمندۂ تعبیر ہوگیا [مزید پڑھیے]

ترکی میں جمہوریت کا ’’زوال‘‘

July 1, 2013 // 0 Comments

گیارھا جون کو جب استنبول میں پولیس مظاہرین سے سختی سے نمٹ رہی تھی، تب وزیراعظم رجب طیب اردوان نے جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ وزیر اعظم کا رویہ سخت گیر اور غیر لچکدار ہے مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ اگر کوئی مشتعل مظاہرین سے نمٹنے کو سختی کہہ رہا ہے تو اسے مایوسی ہوگی یعنی وزیر اعظم کے رویے میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوگی۔ استنبول کے تقسیم اسکوائر میں پولیس نے مظاہرین کو سختی سے کچلا۔ ترکی میں گڑبڑ اس وقت شروع ہوئی جب ۳۱ مئی کو پولیس نے استنبول کے تقسیم اسکوائر کے سِرے پر واقع غازی پارک کے نزدیک مظاہرین کے خلاف سخت [مزید پڑھیے]

’’جدید ترک جمہوریہ‘‘ ایک نئی بحث

June 16, 2013 // 0 Comments

خلافتِ عثمانیہ کے باقاعدہ خاتمے کو اب ۹۰ برس ہو چکے ہیں، اکتوبر کی ۲۹ تاریخ کو ہر سال اس ’’عظیم الشان‘‘ کارنامے کو یاد کیا جاتا ہے اور ’’جدید ترکی‘‘ کے معماروں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ اس سفر کے سنگ ہائے میل کو بھی اس غرض سے لوگوں کے سامنے لایا جاتا ہے تاکہ ’’جدید‘‘ ترکی کے معماروں نے جو آئیڈیل ان کے سامنے رکھا تھا وہ ذہنوں سے کہیں اوجھل نہ ہو جائے۔ اس موقع پر اس ’جدید ترک جمہوریہ‘ کو لاحق خطرات سے بھی آگہی حاصل کی جاتی ہے۔ اس دوران ترکی بہت سے نشیب و فراز سے گزرا ہے۔ ۱۹۲۳ء میں اس کے لیے جو ماڈل تیار کیا گیا تھا، اس سلسلے میں سوالات بھی اٹھے۔ عام [مزید پڑھیے]

ترکی اور اس کی فوج، ایردوان اور ان کے جرنیل

February 16, 2013 // 0 Comments

ایک زمانہ تھا، جب ترکی میں فوج ہی سب کچھ تھی اور سب کچھ اسی کے ہاتھ میں تھا۔ وہی حکومتیں بناتی اور گراتی تھی مگر پھر سب کچھ بدل گیا۔ یہ تبدیلی راتوں رات رونما نہیں ہوئی۔ سویلین حکومتوں نے اپنے آپ کو عمدگی سے منوایا ہے۔ کرپشن کی سطح نیچے آئی ہے اور قومی وسائل کو قومی تعمیر پر صرف کرنے کا مزاج پنپ گیا ہے۔ مگر اتنا ضرور ہے کہ فوج نے اب دفاعی پوزیشن اختیار کرلی ہے اور کسی بھی معاملے میں غیر ضروری مہم جوئی سے یکسر گریز کیا جاتا ہے۔ ذرا ایک ایسے ملک کا تصور کیجیے جس کے پڑوسیوں میں شام، عراق اور ایران شامل ہیں اور جو بحیرۂ ایجین، بحیرۂ روم اور بحیرۂ اسود سے گھرا ہوا [مزید پڑھیے]

1 2 3 4 5 6