Abd Add
 

ترکی

ترکی: عوام نے فیصلہ دے دیا

April 16, 2014 // 0 Comments

اردوان اپنے حریفوں کو معاف کرنے کے موڈ میں دکھائی نہیں دیتے۔ ان کا کہنا ہے کہ کل ان کے بعض حریفوں کو بھاگنا پڑے گا۔ ان کا اشارہ واضح طور پر فتح اللہ گولن کی طرف تھا، جن کے حامیوں نے اردوان کی پارٹی کے لیے مشکلات پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ فتح اللہ گولن بنیادی طور پر تعلیم کے شعبے سے وابستہ رہے ہیں مگر اب ان کے حامیوں نے سیاست میں بھی قدم رکھ دیا ہے

ترکی: بلدیاتی انتخابات میں اردوان کی واضح فتح

April 16, 2014 // 0 Comments

اپوزیشن جماعتوں اور مشکوک گولن تحریک کی جانب سے جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی (AK Party) پر مشترکہ شدید حملوں سے بھر پور انتخابی مہم کے باوجود ترکی کی حکمراں جماعت نے ۳۰ مارچ کو منعقدہ بلدیاتی انتخابات میں بھاری اکژیت سے کامیابی حاصل کی

اگلے انتخابات میں ’’اے کے پی‘‘ کو مسائل درپیش ہو سکتے ہیں

February 1, 2014 // 0 Comments

مصطفی یشل ’’خِذمت تحریک‘‘ سے وابستہ ’جرنلسٹس اینڈ رائٹرز فائونڈیشن‘ (GYV) کے سربراہ ہیں، فتح اللہ گولن اس تنظیم کے اعزازی صدر ہیں۔ انصاف و ترقی پارٹی (AKP) اور خذمت تحریک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اسباب پر مصطفیٰ یشل نے ایک انٹرویو میں اظہار خیال کیا،

ترکی میں بدعنوانی

January 16, 2014 // 0 Comments

تین سال قبل جب مشرق وسطیٰ میں عوامی بیداری کی لہر اٹھی تھی، تب پُرامید ڈیموکریٹس نے ترکی کو ایک اچھے ماڈل کی حیثیت سے دیکھنا شروع کیا تھا، جس نے اسلام کو اعتدال پسندی کے ساتھ اپناتے ہوئے معیشت کو بھی مستحکم کیا ہے۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ اہلِ عرب نے اس راہ پر گامزن ہونے سے گریز کیا ہے، جس پر ترکی گامزن ہے۔ اور دوسری طرف ترکی نے عرب دنیا کی پرانی اور جانی پہچانی راہ یعنی بدعنوانی اور مطلق العنانیت کو اپنالیا ہے۔

ترک سلطان کا خواب

November 1, 2013 // 0 Comments

ترکی میں انفرا اسٹرکچر کے حوالے سے غیرمعمولی کارکردگی کا اظہار کیا جانے والا ہے۔ اس وقت بھی انفرااسٹرکچر بہت عمدہ ہے مگر اس کا معیار مزید بلند کرنے پر توجہ دی جارہی ہے۔ اگلا مرحلہ آبنائے باسفورس میں سرنگ کی تعمیر ہے۔ ترکی کے ۳۱ ویں سلطان عبدالمجید اول نے ایک خواب دیکھا تھا۔ ۱۸۳۹ء سے ۱۸۶۱ء تک حکمرانی کرنے والے سلطان کا خواب یہ تھا کہ آبنائے باسفورس کے اندر ایک ایسی سرنگ تعمیر کی جائے جو ایشیا کو یورپ سے ملائے۔ ایک فرانسیسی ماہرِ تعمیرات اس سرنگ کا بنیادی خاکہ لے کر سامنے آیا مگر تب ایک طرف تو زری وسائل کی کمی تھی اور دوسری طرف مطلوبہ ٹیکنالوجی کا بھی فقدان تھا۔ سلطان عبدالمجید اول کا خواب اب شرمندۂ تعبیر ہوگیا [مزید پڑھیے]

ترکی میں جمہوریت کا ’’زوال‘‘

July 1, 2013 // 0 Comments

گیارھا جون کو جب استنبول میں پولیس مظاہرین سے سختی سے نمٹ رہی تھی، تب وزیراعظم رجب طیب اردوان نے جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ وزیر اعظم کا رویہ سخت گیر اور غیر لچکدار ہے مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ اگر کوئی مشتعل مظاہرین سے نمٹنے کو سختی کہہ رہا ہے تو اسے مایوسی ہوگی یعنی وزیر اعظم کے رویے میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوگی۔ استنبول کے تقسیم اسکوائر میں پولیس نے مظاہرین کو سختی سے کچلا۔ ترکی میں گڑبڑ اس وقت شروع ہوئی جب ۳۱ مئی کو پولیس نے استنبول کے تقسیم اسکوائر کے سِرے پر واقع غازی پارک کے نزدیک مظاہرین کے خلاف سخت [مزید پڑھیے]

’’جدید ترک جمہوریہ‘‘ ایک نئی بحث

June 16, 2013 // 0 Comments

خلافتِ عثمانیہ کے باقاعدہ خاتمے کو اب ۹۰ برس ہو چکے ہیں، اکتوبر کی ۲۹ تاریخ کو ہر سال اس ’’عظیم الشان‘‘ کارنامے کو یاد کیا جاتا ہے اور ’’جدید ترکی‘‘ کے معماروں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ اس سفر کے سنگ ہائے میل کو بھی اس غرض سے لوگوں کے سامنے لایا جاتا ہے تاکہ ’’جدید‘‘ ترکی کے معماروں نے جو آئیڈیل ان کے سامنے رکھا تھا وہ ذہنوں سے کہیں اوجھل نہ ہو جائے۔ اس موقع پر اس ’جدید ترک جمہوریہ‘ کو لاحق خطرات سے بھی آگہی حاصل کی جاتی ہے۔ اس دوران ترکی بہت سے نشیب و فراز سے گزرا ہے۔ ۱۹۲۳ء میں اس کے لیے جو ماڈل تیار کیا گیا تھا، اس سلسلے میں سوالات بھی اٹھے۔ عام [مزید پڑھیے]

1 2 3 4 5 6 7