Abd Add
 

برطانیہ

ملکۂ برطانیہ سے ایک دلچسپ گزارش

November 1, 2015 // 0 Comments

اطلاعات کے مطابق ایک امریکی شہری نے ملکۂ برطانیہ اور برطانوی وزیراعظم کے نام ایک مراسلہ لکھا ہے۔ مراسلہ ایک ہی ہے البتہ خطاب دونوں سے ہے۔ اس کی خبر ایک ویب سائٹ ریڈٹ کو زیر استعمال رکھنے والے ایک شخص نے دی ہے۔ اس کا کہیں نام نہیں آیا ہے اور نہ مراسلہ نگار کا نام ظاہر کیا گیا ہے۔ البتہ بکنگھم پیلس (برطانوی شاہی محل) نے اس کی تصدیق کر دی ہے کہ ملکہ کے نام اس طر ح کا ایک مراسلہ موصول ہوا ہے۔ یہی نہیں ملکہ کی طرف سے اس کا جواب بھی ارسال کر دیا گیا ہے۔ برطانوی ذرائع ابلاغ نے ان دونوں واقعات کی نہ صرف تصدیق کر دی ہے بلکہ ملکہ کی جانب سے ارسال کردہ جواب کا [مزید پڑھیے]

عسکری و سفارتی قوت سے محروم ہوتا برطانیہ

May 1, 2015 // 0 Comments

اب جبکہ عام انتخابات میں محض ایک مہینہ رہ گیا ہے، دنیا کی نظریں برطانیہ پر ہیں۔ مگر یہ نگاہیں پیداواری ریاست اور تیزی سے بہتر ہوتی معیشت پر نہیں، جس کی بابت وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون بڑھ چڑھ کر بات کررہے ہیں، اور نہ ہی برابری سے متعلق اُس اہم بحث پر ہیں جو لیبر پارٹی کے رہنما ایڈ ملی بینڈ چھیڑنا چاہتے ہیں۔ اس کے بجائے توجہات بین الاقوامی تعلقات کے ریڈار پر موجود اس خلا کی جانب ہیں جسے برطانیہ کو پُر کرنا چاہیے تھا۔ روسی جارحیت صرف یوکرین تک محدود نہیں ہے۔ روس کے بمبار اب برطانیہ کی فضائی دفاع کا امتحان لے رہے ہیں، جیسا کہ انہوں نے سرد جنگ کے عروج میں لیا تھا۔ سیکڑوں شدت پسند برطانوی نوجوان شام [مزید پڑھیے]

برطانیہ میں صومالی باشندوں کی پسماندگی

September 16, 2013 // 0 Comments

اگر گپ شپ لگانی ہو تو حجام کی دکان سے بہتر جگہ کوئی ہو ہی نہیں سکتی۔ شمالی لندن کے علاقے کینٹش ٹاؤن (Kentish Town) میں حسن علی کی دکان کا بھی ایسا ہی معاملہ ہے۔ وہ میکینک بننے کے سپنے آنکھوں میں سجائے صومالیہ سے آیا تھا۔ اس کا کہنا ہے کہ جو کچھ بھی آپ بہتر طور پر کرسکتے ہیں، ضرور کریں۔ وہ بال کاٹنے میں مہارت رکھتا تھا، اس لیے اس نے حجام کی دکان کھول لی۔ برطانیہ میں سب سے زیادہ پناہ گزین صومالیہ کے ہیں۔ ان میں تعلیم بہت ہی کم ہے۔ بہتر ملازمتوں کا حصول ان کے لیے ناممکن سا ہوگیا ہے۔ برطانیہ میں تارکین وطن کی بڑی تعداد اعلیٰ معیار کی زندگی بسر کر رہی ہے۔ مگر صومالیہ [مزید پڑھیے]

برطانوی اَئمہ

May 16, 2013 // 0 Comments

یہ بات خوش آئند ہے کہ برطانیہ میں انگریزی بولنے والے ائمہ کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ ہر جمعہ کو مشرقی لندن کے علاقے وائٹ چیپل کی مسجد میں چھ ہزار مرد و خواتین نماز کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ ان میں مختلف رنگ و نسل کے لوگ شامل ہوتے ہیں، جن میں الجزائری، پاکستانی، بھارتی، بنگلہ دیشی، مراکشی، صومالی اور جنوبی افریقی نمایاں ہیں۔ مسجد کے امام تین بار خطاب کرتے ہیں اور تینوں بار مختلف زبانوں میں حاضرین سے مخاطب ہوتے ہیں۔ اب مسجد کی انتظامیہ نئے امام کی تلاش میں ہے۔ بنیادی شرائط یہ ہیں کہ برطانیہ میں پیدا ہوا ہو اور اچھی انگریزی بولتا ہو۔ ۱۹۶۰ء اور ۱۹۷۰ء کے عشرے میں جو مسلمان پاکستان اور بنگلہ دیش سے آکر برطانیہ میں [مزید پڑھیے]

’’حلال‘‘ گوشت کی سَنَد کون جاری کرے؟

March 1, 2013 // 0 Comments

امریکی حکومت ایسے ہر معاملے سے دور رہنا چاہتی ہے، جو مذہب سے تعلق رکھتا ہو۔ یہ شاید ریاست ہائے متحدہ امریکا کے اساسی اصولوں میں سے ہے۔ شاید اسی بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے امریکی ریاست منیسوٹا (Minnesota) میں ۳۱جنوری ۲۰۱۳ء کو ایک فیڈرل کورٹ جج نے امریکا میں گوشت کے ایک بڑے برانڈ ’’ہبریو نیشنل‘‘ کے خلاف مقدمہ خارج کردیا۔ درخواست گزار نے ’’ہبریو نیشنل‘‘ کے اس دعوے کو چیلنج کیا تھا کہ اس کا ہاٹ ڈاگ یہودیت کے بیان کردہ بنیادی اصولوں کی رُو سے مکمل حلال ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ہبریو نیشنل نے جس ہاٹ ڈاگ کو حلال قرار دیا ہے وہ مکمل طور پر حلال نہیں۔ جج کا موقف یہ تھا کہ امریکی آئین کی پہلی ترمیم [مزید پڑھیے]

برطانوی معاشرے میں ایشیائی خواتین

January 16, 2013 // 0 Comments

برطانیہ میں پاکستان اور بنگلا دیش سے تعلق رکھنے والی خواتین بھی اب جاب مارکیٹ کا حصہ بنتی جارہی ہیں۔ معاشرے میں ان کا یوں ضم ہونا اور خود کو معاشی کردار کے لیے تیار کرنا بہت اہم ہے۔ اس سے بہت سی معاشرتی تبدیلیوں کا بھی پتہ چلتا ہے۔ مشرقی لندن میں جیگوناری ویمین سینٹر میں بنگلا دیش سے حال ہی میں آئی ہوئی چھ خواتین انگریزی سیکھ رہی ہیں۔ انہیں انگریزی سکھانا سینٹر کے اس پروگرام کا حصہ ہے جس کا مقصد ان خواتین کو برطانوی معاشرے میں بہتر انداز سے زندگی بسر کرنے اور لوگوں سے بہتر میل جول رکھنے کے قابل بنانا ہے۔ یہ خواتین سر پر اسکارف رکھے ہوئے ہیں۔ انہیں یہ بھی سکھایا جائے گا کہ پولیس افسران، ڈاکٹروں [مزید پڑھیے]

1 2