Abd Add
 

اقوام متحدہ

25 اپریل 1945 ء سے 26 جون 1945 ء تک سان فرانسسکو، امریکہ میں پچاس ملکوں کے نمائندوں کی ایک کانفرس منعقد ہوئی۔ اس کانفرس میں ایک بین الاقوامی ادارے کے قیام پر غور کیا گیا۔ چنانچہ اقوام متحدہ یا United Nations کا منشور یا چارٹر مرتب کیا گیا۔ لیکن اقوام متحدہ 24 اکتوبر 1945 ء میں معرض وجود میں آئی۔

انٹرنیٹ کے عالمی کنٹرول پر تنازع

November 16, 2005 // 0 Comments

انٹرنیٹ کے کنٹرول کے معاملے کو لے کر امریکا کا دنیا کے کئی دیگر ملکوں کے ساتھ تنازعہ چل رہا ہے۔ چین‘ برازیل اور ایران جیسے ممالک اس بات کے حق میں نہیں ہیں کہ دنیا کا سپر پاور عالمی کمپیوٹر نیٹ ورک کے نظام کا واحد نگراں ہو اور دُنیا بھر کے کمپیوٹر ٹریفک کو کنٹرول کرے۔ ان ممالک کی تجویز ہے کہ یہ کردار ایک بین الاقوامی ادارہ کو دیا جانا چاہئے جو خاص اس مقصد سے قائم کیا گیا ہو۔ امریکا کا اس تجویز پر اعتراض یہ ہے کہ اس طرح کا کوئی ادارہ کمپیوٹر کی دنیا میں روز بروز نت نئی پیش رفت کی رفتار کو سست کردینے کا موجب بنے گا۔ کمپیوٹر کی دنیا کے کاروباریوں کو کسی بھی نئے [مزید پڑھیے]

صاف پانی میسر نہیں!

August 1, 2005 // 0 Comments

صاف پانی میسر نہیں! ٭ وسیع و عریض قومی بجٹ میں سے صرف ۴۱۲۸ ملین روپے صحت کے لیے مختص ہوئے۔ ٭ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رقم کل GDP کا صرف ۳۷۵ء۰ فیصد ہے۔ ٭ گذشتہ بجٹ میں یہ رقم GDP کا ۸۴ء۰ تھی۔ ٭ ۲۰۰۴ء کے اقتصادی سروے کے مطابق: ۱۰۷,۲۵ افراد کے لیے صرف ایک ڈاکٹر۔ ۱۲۷,۶ ڈینٹسٹ۔ ۴۴۶,۴۸ تربیت یافتہ نرسیں۔ ملک بھر میں ۹۱۶ سرکاری اسپتال۔ ۵۴۴ دیہی صحت کے مراکز۔ ۵۳۰ بنیادی صحت کے یونٹ۔ ۵۸۲,۴ ڈسپنسریاں۔ ٭ اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام U.N.D.P. کی سالانہ رپورٹ کے مطابق: پاکستان‘ علاقے کے دوسرے ممالک کے مقابلے میں سب سے پیچھے ہے۔ پاکستان میں اوسط عمر تقریباً ۶۱ سال جبکہ بھارت میں ۹ء۶۳ اور بنگلہ دیش میں ۶ء۶۱ سال [مزید پڑھیے]

برطانوی ممبر پارلیمنٹ کا ’’نوقدامت پرستوں‘‘ کو جواب

July 16, 2005 // 0 Comments

جارج گیلووے (George Galloway) جو برطانیہ کی Respect Party کی جانب سے ایم پی ہیں‘ نے ۱۸ مئی کو امریکی سینیٹرز کے سامنے درج ذیل تقریر کی جنہوں نے اُن پر بدعنوانی اور صدام حسین کے ساتھ مفاہمت کا الزام عائد کیا تھا۔ سینیٹر! نہ میں اب اور نہ پہلے کبھی تیل کا تاجر رہا ہوں اور نہ ہی میری جانب سے یہ کام کسی نے کیا ہے۔ میں نے تیل کے ایک بیریل کا بھی اپنی ملکیت میں آنے یا خریدے جانے یا بیچے جانے کے عمل کا مشاہدہ نہیں کیا ہے اور نہ ہی میری جانب سے یہ کام کسی اور نے کیا ہے۔ اب مجھے معلوم ہے کہ پیمانے چند سالوں سے واشنگٹن کے ہاتھ لگ گئے ہیں لیکن کسی قانون گو [مزید پڑھیے]

جہادِ فلسطین (۱۹۴۸ء) اور اخوان المسلمون

March 16, 2005 // 0 Comments

آج سے ۲۰ سال قبل جب فلسطین کو یہود کے قبضہ میں جانے سے بچانے کے لیے فیصلہ کن لڑائی لڑی جارہی تھی تو عرب محاذ پر دادِ شجاعت دینے والوں میں سرِفہرست اخوان نوجوان تھے۔ شوقِ شہادت سے لبریز دلوں کے ساتھ وہ ہر قربانی اور ہر لڑائی کے لیے سب سے پہلے آگے بڑھتے تھے۔ نتائج سے بے پروا ہو کر انہوں نے اس معرکۂ حق و باطل میں اپنے مقدس اور قیمتی خون سے اس جہاد کا درخشاں ترین باب رقم کیا۔ ماضی قریب کی تاریخ کے اہم باب سے اردو دان طبقہ کو حقیقی معنوں میں آگاہ کرنے کے لیے ادارہ ’’چراغ راہ‘‘ استاد کامل شریف کی کتاب ’’الاخوان المسلمون فی حرب فلسطین‘‘ کی تلخیص پہلی بار پیش کر رہا ہے۔ [مزید پڑھیے]

فلسطین: جہاں زندگی کی کوئی ضمانت نہیں!

March 1, 2005 // 0 Comments

دس سالہ نوراں عباد کسی بھی عالم طالبہ کی طرح اسکول گئی تھی‘ کیونکہ یہ دن اس کے لیے بہت ہی خاص اور اہم تھا‘ اسے اسکول کا رزلٹ ملنے والا تھا۔ لیکن اسے کیا معلوم کہ بدقسمتی اس کے تعاقب میں ہے۔ وہ جب واپس آئی تو وہ خود اپنے پیروں پر چل کر نہیں بلکہ دوسروں کے کاندھوں پر سوار ہو کر آئی اور اسے رزلٹ کے بجائے موت کا سرٹیفکیٹ مل چکا تھا۔ یہ کہانی فلسطین میں نئی نہیں ہے بلکہ یہ وہاں کا معمول ہے۔ نوراں کی طرح بے شمار افراد بغیر کسی غلطی کے روزانہ اسرائیلی فوج کی گولیوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔ ان میں معصوم طلبہ بھی شامل ہیں جو اسکول جاتے ہیں‘ بزرگ افراد ہیں‘ جو سودا [مزید پڑھیے]

اسلامی جمہوریۂ ایران حقوقِ انسانی کے آئینے میں

February 16, 2005 // 0 Comments

آج کے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ترقی یافتہ دور میں چہاردانگ عالم میں حقوقِ انسانی کا چرچا ہے۔ مغربی اقوام جو بزعمِ خود انسانی ارتقا کی انتہائی منازل پر ہیں‘ انسانی حقوق کی بظاہر چمپئن اور علمبردار بنی ہوئی ہیں۔ وہ ہر ملک اور معاشرے کو اپنے بنائے ہوئے اسی پیمانے سے ماپتے ہیں۔ ان کے فلسفی اور دانشور ایک طرف سے تہذیبوں کے ٹکرائو (Clash of Civilizations) اور اختتامِ زمانہ (End of times) کی تھویریاں پیش کر رہے ہیں تو دوسری طرف انہوں نے حقوقِ بشر کے نام پر مداخلتوں سے دنیا کے باقی ممالک کا ناطقہ بند کر رکھا ہے۔ وہ انہیں پسماندہ‘ غیرترقی یافتہ اور جہالت زدہ تصور کرتے ہیں اور اسی تناظر میں ہمہ وقت ان کے خلاف شور و غل اور [مزید پڑھیے]

1 2 3