Abd Add
 

امریکی افواج

پہلے امریکی افواج کا انخلا، سوال بعد میں!

August 1, 2020 // 1 Comment

امریکی افواج افغان سرزمین تیزی سے چھوڑ رہی ہیں۔ امریکا رخصت تو ہو رہا ہے مگر افغانستان کے مستقبل پر پہلے سے بھی بڑا سوالیہ نشان لگا ہوا ہے کیونکہ کسی ایک معاملے میں بھی پورے یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ فائزہ ابراہیمی کو کچھ زیادہ یاد نہیں۔ تب وہ بہت چھوٹی تھی، جب افغانستان پر طالبان کی حکومت تھی۔ فائزہ کے والدین جب اُسے بتاتے ہیں کہ افغانستان پر کئی سال تک طالبان کی حکومت رہی جو شریعت کے طے کردہ قوانین کے مطابق تھی تو اُسے یقین ہی نہیں آتا۔ فائزہ مغربی شہر ہرات میں ریڈیوپریزنٹر ہے۔ فائزہ کو یقین ہی نہیں آتا جب اسے بتایا جاتا ہے کہ دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے اور مدارس میں تعلیم پانے والے نوجوان کسی [مزید پڑھیے]

افغانستان سے انخلا میں امریکی عجلت!

February 16, 2012 // 0 Comments

امریکا نے دس سال سے بھی زائد مدت سے افغانستان میں مخالفین کے سر جھکانے کی بھرپور کوشش کی ہے مگر ایسا لگتا ہے کہ اب اس کی ہمت جواب دے گئی ہے اور وہ کسی نہ کسی طور افغان سرزمین سے پنڈ چھڑانا چاہتا ہے۔ یکم فروری کو بلجیم کے دارالحکومت برسلز میں نیٹو کے وزارتی اجلاس سے قبل امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا نے ایک ایسا بیان داغا جس نے بم ہی گرادیا۔ پنیٹا نے کہا کہ امریکا نے افغانستان سے انخلا کی جو حتمی تاریخ مقرر کی ہے اس میں ڈیڑھ سال کی کمی کی جارہی ہے یعنی اب امریکی افواج کو افغانستان سے ۲۰۱۴ء کے آخر کے بجائے ۲۰۱۳ء کے وسط تک نکال لیا جائے گا۔ سابق ڈیڈ لائن پرتگال کے [مزید پڑھیے]

افغانستان سے انخلا، امریکا کی دہری پالیسی

August 16, 2010 // 0 Comments

افغانستان میں صورت حال جتنی تیزی سے تبدیل ہوتی جارہی ہے، امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے مشکلات میں بھی اسی قدر اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا اور ہالینڈ نے جلد از جلد انخلا کی ضرورت پر زور دینا جاری رکھا ہے۔ امریکی صدر بارک اوباما کے لیے افغانستان سے جلد از جلد انخلا بہت سود مند امر ثابت ہوسکتا ہے۔ ۲۰۱۲ء میں صدارتی انتخاب ہونا ہے اور اس سے قبل افغانستان سے امریکی افواج کی واپسی غیر معمولی طور پر مثبت نتائج پیدا کرسکتی ہے۔ افغانستان سے انخلا تو خیر امریکی صدر اور ان کے ساتھیوں کی خواہش ہے مگر امریکی فوج کچھ اور سوچ رہی ہے۔ اس نے اشارہ دیا ہے کہ ابھی بہت کچھ ادھورا پڑا ہے لہٰذا افغانستان [مزید پڑھیے]

ذہنی جنگ کا زمانہ

August 1, 2010 // 0 Comments

جوناتھن مورینو کا شمار امریکا کے ان سرکردہ افراد میں ہوتا ہے جو جراثیمی ہتھیاروں کے ماہر ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے انسانیت سوز استعمال کے خلاف ہیں۔ انہوں نے کئی ہم خیال افراد کے ساتھ مل کر اس سلسلے میں موثر طور پر آواز بلند کی ہے۔ امریکی اسلحہ خانے میں نت نئے ہتھیاروں کا اضافہ ہو رہا ہے۔ سیاسی رہنما اپنے مقاصد کے لیے ان کے استعمال کی اجازت دینے سے گریز نہیں کرتے۔ جوناتھن مورینو اور ان کے ساتھی چاہتے ہیں کہ کوئی ایسا میکینزم قائم ہو جو جدید ترین ہتھیاروں کے غیر ضروری اور غیر اخلاقی استعمال کی راہ میں مزاحم ہو۔ ذیل میں جوناتھن ڈی مورینو کی کتاب مائنڈ وارز سے اقتباس پیشِ خدمت ہے۔ دنیا بھر میں جدید [مزید پڑھیے]

1 2