Abd Add
 

امریکی خارجہ پالیسی

امریکا تباہی کے راستے پر

June 16, 2017 // 0 Comments

جوہری پھیلاؤ اور ماحول کی تبدیلی موجودہ دور کے انتہائی تشویش ناک مسائل ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کی اب تک کی کارکردگی نے اسے ناگہانی صورتحال سے دوچار کردیا ہے۔ ان دونوں مسائل کی سنگینی بڑھتی جارہی ہے۔ ’’ٹروتھ آؤٹ‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے عالمی شہرت یافتہ مفکر نوم چومسکی نے حالیہ مہینوں میں پیش آنے والے چند اہم واقعات (مثلاً شام کی ایئر بیس پر امریکی بمباری اور روس، ایران اور شمالی کوریا سے امریکا کے تناؤ) پر بات کی ہے۔ یہ انٹرویو ڈینیل فالکن نے لیا۔ اس انٹرویو کے اقتباسات پیش خدمت ہیں۔[مزید پڑھیے]

امریکا اور مشرقِ وسطیٰ: انکسار یا بے نیازی؟

July 1, 2015 // 0 Comments

امریکا کئی مشکلوں کے بعد یہ بات سمجھ چکا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ کے مسائل حل نہیں کرسکتا۔ مگر براک اوباما کی سوچی سمجھی بے نیازی مسائل کو اور بڑھا رہی ہے۔ مئی کا آخری پیر تھا، جب براک اوباما نے آرلنگٹن قومی قبرستان میں سفید سنگِ مرمر سے بنے اسٹیج پر کھڑے ہو کر مختصر تقریر کرتے ہوئے اس حوالے سے کافی کچھ بتا دیا کہ وہ امریکی عسکری قوت کا استعمال کن معنوں میں کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’آج ۱۴؍برس بعد آنجہانی فوجیوں کو یاد کرنے کا یہ پہلا دن آیا ہے، جب امریکا کسی بڑی زمینی جنگ میں ملوث نہیں ہے‘‘۔ افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد جو کبھی ایک لاکھ سے زائد تھی، اب اس کے دسویں حصے [مزید پڑھیے]

امریکا کی اسرائیل پالیسی میں تبدیلی کا وقت آگیا؟

March 16, 2010 // 0 Comments

امریکی صدر ہیری ٹرومین نے ۱۹۴۸ء میں اسرائیل کو اس کے قیام کے صرف گیارہ منٹ بعد تسلیم کرلیا تھا۔ تب سے اب تک اسرائیل کے لیے امریکی حمایت اسرائیل کی بقاء اور امریکی خارجہ پالیسی کے لیے ناگزیر رہی ہے۔ اب امریکی حکومت اپنی پالیسیاں تبدیل کر رہی ہے۔ صدر بارک اوباما عرب دنیا کو رجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایسی صورت حال میں اسرائیل کی غیر مشروط اور بھرپور حمایت جاری رکھنا امریکی قومی مفادات سے مطابقت رکھتا ہے؟ کیا امریکا کو اسرائیل سے اپنا خصوصی تعلق ختم کردینا چاہیے؟ اس حوالے سے حال ہی میں نیو یارک یونیورسٹی میں ’’انٹیلی جنس اسکوائرڈ یو ایس‘‘ کے زیر عنوان مباحثہ ہوا۔ نیو یارک ٹائم کے سابق فارن ایڈیٹر [مزید پڑھیے]

1 2