Abd Add
 

امریکا

ایران مسائل کی جَڑ، یا اُن کا حل!!

June 1, 2018 // 0 Comments

پچھلے دس سال سے جاری خانہ جنگی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے معاشرتی تغیرات نے خطے میں جنگ عظیم اول سے قائم سیاسی نظام کو پارہ پارہ کر دیا ہے۔جیسے جیسے آمرانہ نظام اپنے انجام کو پہنچے تو ان کے ساتھ ہی قومی ادارے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئے اور ان ممالک کی عالمی سرحدیں بھی متاثر ہوئیں۔ شام اور یمن خونی خانہ جنگی کا شکار ہو چکے ہیں اور اس خانہ جنگی کو غیر ملکی فوجی مداخلتوں نے مزید سلگایا ہے۔دوسری طرف امریکا اور اس کی اتحادی فوج کے آپریشن سے قبل ایک دہشت گرد تنظیم داعش، عراق اور شام کے ایک بڑے علاقے پر قبضہ کر چکی تھی۔ ٹرمپ انتظامیہ ،واشنگٹن اور خطے کے دیگر ممالک کے سرکاری حکام [مزید پڑھیے]

دشمنوں کو قتل کرنے کے ’نئے طریقے‘

April 1, 2018 // 0 Comments

یورپ سے زیادہ یہ بات کون جانتا ہے کہ سیاسی بنیاد پر کیا جانے والا کوئی قتل عالمی جنگ بھی چھیڑ سکتا ہے۔ ۱۹۱۴ء میں سربیا کے ایک قوم پرست کے ہاتھوں آرک ڈیوک پر چلائی جانے والی گولی نے پہلی جنگِ عظیم کا باعث بننے کی ’’سعادت‘‘ حاصل کی اور اِسی جنگ کی کوکھ سے دوسری جنگ عظیم نے جنم لیا۔ ۱۸۸۱ء میں روس کے زار نکولس دوم پر پھینکے جانے والے بم نے اصلاحات کا عمل روک دیا۔ سیاسی قتل بڑے پیمانے پر خرابیاں پیدا کرنے کا باعث بنتے رہے ہیں۔ اس کی بھاری یا ہلکی قیمت ہر قوم کو چکانا پڑتی ہے۔ ۱۹۶۱ء میں کانگو کے وزیر اعظم پیٹرس لمومبا کے قتل نے ملک کو تباہی کے راستے پر ڈال دیا۔ اس [مزید پڑھیے]

عالمی طاقتوں کے مابین تصادم

March 16, 2018 // 0 Comments

گزشتہ ۷۰ سالوں میں بین الریاستی جنگوں میں غیر معمولی کمی آنے کے باوجود خارجہ پالیسی کے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اب دنیا ایک ایسی دہائی میں داخل ہو رہی ہے جہاں یہ جنگیں ممکنات میں شامل ہوں گی۔ علاقائی جنگوں کی وجہ تو چند بدمعاش ریاستیں ہو سکتی ہیں، جیسا کہ ایران اور شمالی کوریا، لیکن عالمی طاقتوں کے درمیان جنگوں کے امکانات ابھی بھی کم ہی ہیں۔ چین، روس اور امریکا کے درمیان مقابلے کی فضا نہ صرف عالمی امن کے لیے خطرے کی علامت ہے بلکہ اس کی عسکری سمت بھی ہے۔ اس رپورٹ میں کوریائی جزیرے پر جنگ کے خطرے (جس کی شدت آج کل زیادہ ہے) پر غور کرنے کے بجائے ان نکات پر غور کیا گیا ہے، [مزید پڑھیے]

1 2 3 10