امریکا

نَوم چَومسکی کی پیش گوئی

April 1, 2017 // 0 Comments

لسانیات کے ماہر، مورخ اور سیاسی تجزیہ کار نوم چومسکی امریکی انتظامیہ کی بیشتر پالیسیوں کے سخت ناقد رہے ہیں۔ ماحول سے متعلق موجودہ انتظامیہ کی پالیسی میں تبدیلی کی تجویز اور اس کے لیے فنڈ کی کٹوتی پر نوم چومسکی جہاں اسے تنقید کا نشانہ بناتے ہیں وہیں یہ پیش گوئی بھی کرتے ہیں کہ یہ بہت جلد ایک اور مالیاتی بحران کی راہ ہموار کرنے والی ہے۔ نوم چومسکی کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کا اسٹیبلشمنٹ مخالف دکھائی دینا ایک مذاق تھا کیونکہ اُن کی طرف سے اپنی انتظامیہ میں کیے گئے ہر تقرر میں اسٹیبلشمنٹ کی ترجیحات کی جھلک نمایاں ہے۔ شاید اسی وجہ سے تھوڑی دیر کے لیے اسٹاک مارکیٹ سنبھلتی ہوئی محسوس ہوئی لیکن خدشہ ہے کہ یہ پیش [مزید پڑھیے]

’’بکھرتا ہوا ورلڈ آرڈر‘‘، میونخ سیکورٹی رپورٹ

February 16, 2017 // 0 Comments

میونخ سیکورٹی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عوامی پسندانہ سوچ میں اضافے سے عالمی نظام کو خطرات لاحق ہیں، جب کہ اس رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ مجموعی عالمی منظر نامے سے امریکا غائب ہو رہا ہے۔ میونخ سکیورٹی کانفرنس کی جانب سے جاری کردہ سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی معاملات سے امریکی غیرحاضری کی وجہ سے پیدا ہونے والے خلا کا فائدہ دوسرے عناصر اٹھا سکتے ہیں۔ کانفرنس کے چیئرمین وولفگانگ اِشِنگر کی جانب سے اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ عالمی سطح پر صورتحال انتہائی غیرمستحکم ہے۔ یہ رپورٹ، ’’سچ کے بعد، مغرب کے بعد اور نظام کے بعد‘‘ کے نام سے جاری کی گئی ہے، [مزید پڑھیے]

امریکا میں ’’عیسائی‘‘ کم ہورہے ہیں!

June 1, 2015 // 0 Comments

ایک حالیہ جائزے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکا میں خود کو عیسائی ظاہر کرنے والوں کی تعداد میں محض سات برسوں کے دوران تقریباً ۸ فیصد تک کمی واقع ہوگئی ہے۔ پیو تحقیقی مرکز (Pew Research Center) کے مطابق ۲۰۰۷ء میں ۷۸ فیصد امریکیوں نے خود کو عیسائی ظاہر کیا، لیکن ۲۰۱۴ء میں یہ شرح کم ہوکر ۷۱ فیصد رہ گئی۔ اسی عرصے کے دوران خود کو لادین کہنے والے امریکیوں کی شرح ۱۶؍فیصد سے بڑھ کر ۲۳ فیصد ہوگئی ہے۔ امریکا کے ۵۶ لاکھ شہری کسی مذہب کی پیروی نہیں کرتے اور یہ انجیلی مسیحیوں (Evangelicals) کے بعد سب سے بڑی تعداد ہے۔ اب بھی امریکا میں کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ عیسائی رہتے ہیں اور ہر دس میں سے [مزید پڑھیے]

امریکی کانگریس میں نیتن یاہو کے خدشات

March 16, 2015 // 0 Comments

تین مارچ کو امریکی کانگریس میں بن یامین نیتن یاہو کی قیامت خیز تقریر زیادہ مدد گار ثابت نہیں ہوئی۔ تقریر کا مقصد امریکا کو یہ سمجھانا تھا کہ آخر وہ ایران کے ساتھ ایک ایسی نیوکلیائی ڈیل کیسے کرے، جو ایران کو ایٹم بم بنانے سے روک سکے۔ اسرائیلی وزیراعظم کی تقریر کے دوران ری پبلکن بار بار کھڑے ہو کر داد دیتے رہے، جبکہ ڈیموکریٹس کی جانب سے ملا جلا ردِ عمل آیا۔ اپنی تقریر میں اسرائیلی وزیراعظم اس بات کی وضاحت کرتے رہے کہ امریکی حکومت اور دیگر عالمی قوتوں کا جو معاہدہ ایران کے ساتھ طے پانے جا رہا ہے، وہ اتنا ناقص ہے کہ وہ ایران کے لیے ایٹم بم بنانے کی راہ مسدود کرنے کے بجائے ہموار کرتا ہے۔ [مزید پڑھیے]

1 2 3 4 7