امریکا

امریکا میں ’’عیسائی‘‘ کم ہورہے ہیں!

June 1, 2015 // 0 Comments

ایک حالیہ جائزے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکا میں خود کو عیسائی ظاہر کرنے والوں کی تعداد میں محض سات برسوں کے دوران تقریباً ۸ فیصد تک کمی واقع ہوگئی ہے۔ پیو تحقیقی مرکز (Pew Research Center) کے مطابق ۲۰۰۷ء میں ۷۸ فیصد امریکیوں نے خود کو عیسائی ظاہر کیا، لیکن ۲۰۱۴ء میں یہ شرح کم ہوکر ۷۱ فیصد رہ گئی۔ اسی عرصے کے دوران خود کو لادین کہنے والے امریکیوں کی شرح ۱۶؍فیصد سے بڑھ کر ۲۳ فیصد ہوگئی ہے۔ امریکا کے ۵۶ لاکھ شہری کسی مذہب کی پیروی نہیں کرتے اور یہ انجیلی مسیحیوں (Evangelicals) کے بعد سب سے بڑی تعداد ہے۔ اب بھی امریکا میں کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ عیسائی رہتے ہیں اور ہر دس میں سے [مزید پڑھیے]

امریکی کانگریس میں نیتن یاہو کے خدشات

March 16, 2015 // 0 Comments

تین مارچ کو امریکی کانگریس میں بن یامین نیتن یاہو کی قیامت خیز تقریر زیادہ مدد گار ثابت نہیں ہوئی۔ تقریر کا مقصد امریکا کو یہ سمجھانا تھا کہ آخر وہ ایران کے ساتھ ایک ایسی نیوکلیائی ڈیل کیسے کرے، جو ایران کو ایٹم بم بنانے سے روک سکے۔ اسرائیلی وزیراعظم کی تقریر کے دوران ری پبلکن بار بار کھڑے ہو کر داد دیتے رہے، جبکہ ڈیموکریٹس کی جانب سے ملا جلا ردِ عمل آیا۔ اپنی تقریر میں اسرائیلی وزیراعظم اس بات کی وضاحت کرتے رہے کہ امریکی حکومت اور دیگر عالمی قوتوں کا جو معاہدہ ایران کے ساتھ طے پانے جا رہا ہے، وہ اتنا ناقص ہے کہ وہ ایران کے لیے ایٹم بم بنانے کی راہ مسدود کرنے کے بجائے ہموار کرتا ہے۔ [مزید پڑھیے]

امریکی برتری کو لاحق خطرہ!

October 1, 2014 // 0 Comments

امریکی پالیسی ساز اہل وطن کو یقین دلاتے رہے ہیں کہ اُن کا ملک ہمیشہ ترقی کی راہ پر گامزن رہے گا اور ہمیشہ خوش حالی اُن کے قدم چُومتی رہے گی۔ یہ خوش کن باتیں اب امریکیوں کا دل نہیں بہلا سکتیں۔ اُنہیں اندازہ ہوچکا ہے کہ اچھا وقت گزر چکا ہے یا گزر چلا ہے اور یہ کہ آنے والے دور کے دامن میں اُن کے لیے پھول کم اور کانٹے زیادہ ہیں۔

1 2 3