Abd Add
 

امریکا

الجزیرہ ٹی وی سے متعلق کچھ حقائق

May 16, 2005 // 0 Comments

الجزیرہ ٹی وی کے حوالے سے بعض سٹیلائٹ ٹی وی اور انٹر نیٹ ذرائع نے ایک تحقیقی رپورٹ شائع کی ہے۔ ان کے مطابق ان رپورٹوں میں الجزیرہ نیٹ ورک کے علاقائی و بین الاقوامی نیٹ ورک قطری حکومت کی ملکیت ہے۔ یہ پہلے بی بی سی عربی نشریات کی ملکیت تھا اور سعودی عربیہ اس کے اخراجات برداشت کرتا تھا۔ جب الجزیرہ نے ایک سعودی منحرف کا انٹرویو نشر کیا تو سعودی عرب نے اس پر اعتراض کیا لیکن بی بی سی نے اس طرح کے پروگرام کو روکنے سے انکار کر دیا۔ لہٰذا سعودی حکومت اس بات پر راضی ہو گئی کہ اس ٹی وی نیٹ ورک کو فروخت کر دیا جائے اور قطری شہزادہ (ولی عہد) نے اسے ۱۵ کروڑ ڈالر کے [مزید پڑھیے]

مسلمانوں کو عالمگیر تباہی سے دوچار کرنے کی سازش

May 16, 2005 // 0 Comments

امینہ ودود پر تنقید سن کر اور ۱۸ مارچ کو کمپنی کی طرف سے کیے گئے اقدام پر بعض مسلمانوں کا تبصرہ ہے کہ ’’بلاوجہ اس گمراہ کن عورت کے اقدامات پر اتنی توجہ کیوں دی جارہی ہے۔ یہ ایسا کوئی مسئلہ نہیں کہ جس پر اتنی توجہ دی جائے۔ اس طرح تو اسے مزید مشہور کرنا ہے اور بھی بہت سارے گراں قدر مسائل ہیں جن پر توجہ دینی چاہیے اور جو حقیقتاً فوری توجہ کے مستحق بھی ہیں‘‘۔ بہرحال یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں جتنا کہ یہ لوگ تصور کیے بیٹھے ہیں۔ ان اقدامات کے نتائج جو بزعم خویش ترقی پسند مسلمانوں کی طرف سے کیے جارہے ہیں‘ سے زیادہ سنگین ہیں۔ امینہ ودود کے واقعہ پر خاموشی اختیار کرنے کا مطالبہ مسلمانوں [مزید پڑھیے]

میں ’’عالمی یک طرفہ پن‘‘ کا حامی نہیں ہوں!

April 16, 2005 // 0 Comments

گذشتہ ہفتے عالمی بینک کے سربراہ کے لیے اپنی نامزدگی کے ساتھ ہی Paul Wolfowitz (امریکی نائب وزیرِ دفاع) نے بیرونی تشویش و عدم اعتماد کو اپنے واضح بیان کے ذریعہ دور کرنے کی کوشش کی۔ نیوز ویک کے نمائندے لیلی ویمائوتھ کے ساتھ اپنے انٹرویو میں انہوں نے امکانات سے بھرپور اپنی نئی ذمہ داری کے سلسلے میں اظہارِ خیال کیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے امریکا کی عراق پالیسی تشکیل دینے کے حوالے سے اپنے ماضی اور حال کے کردار پر بھی روشنی ڈالی۔ انٹرویو کا اقتباس درج ذیل ہے: س: عالمی بینک کے ایک اچھے سربراہ ثابت ہونے سے متعلق آپ یورپی ممالک کو کس طرح مطمئن کریں گے؟ ج: میں یورپی ممالک کو یہ بتائوں گا کہ میں کیوں ایک [مزید پڑھیے]

امریکا کا نیا تہذیبی مشن

March 16, 2005 // 0 Comments

ایک ایسی دنیا میں جہاں شہریوں کے خلاف تشدد کے حادثاتی یا دانستہ واقعات ریاستی اداروں کی جانب سے ہوا کرتے تھے‘ گیارہ ستمبر کا حملہ بہت بڑا صدمہ تھا‘ فوری طور سے ان حملوں نے روایتی رویوں کو مخالف رخ پر ڈال دیا۔ مٹھی بھر غیرحکومتی افراد نے جو دہشت گردی کے ہنر سے آراستہ تھے‘ دنیا کی طاقتور ترین ریاست کو چیلنج کیا۔ ان ایک روزہ حملوں کے نتیجے میں ۳۰۰۰ کے قریب لوگ مارے گئے۔ غیرریاستی دہشت گردوں کی جانب سے اتنے بڑے پیمانے پر کی گئی کارروائی کسی بھی صورتحال میں دنیا کے لیے وجۂ تشویش تھی لیکن حملہ آوروں کی شناخت اور ان کا ہدف اس طرح کے لرزہ خیز تاریخی واقعات کے اعادہ کا عندیہ دے رہے تھے۔ یہ [مزید پڑھیے]

ایران کے پاس جوہری فنی مہارت موجود ہے!

March 16, 2005 // 0 Comments

واشنگٹن پوسٹ کے حوالے سے خبر ہے کہ ’’نیوز ویک‘‘ کے نامہ نگار لالی ویموت (Lally Weymouth) نے البرادی سے مصاحبہ (Interview) کیا جس کے سوال و جواب کی تفصیل درج ذیل ہے: س: کیا آپ ایجنسی کی سربراہی کے تیسرے دور کی سربراہی کے لیے بھی امیدوار ہوں گے؟ ج: میں اکیلا کینڈیڈیٹ ہوں۔ س: امریکا آپ سے کیوں نجات چاہتا ہے؟ ج: ان کا خیال ہے کہ میں دو بار انٹرنیشنل اٹامک انرجی کمیشن کا سربراہ رہا ہوں اس لیے مجھے نہیں رہنا چاہیے۔ جبکہ بہت سارے ممالک مجھ سے درخواست کرتے ہیں کہ اس منصب پر باقی رہوں۔ اس لیے ہمارے درمیان تنازعہ ہے اور بہت سارے اہم مسائل ہیں‘ ایران بھی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے‘ اسی طرح شمالی کوریا۔ چنانچہ [مزید پڑھیے]

1 4 5 6 7