Abd Add
 

ویتنام

ویتنام جنگ: ۴۰ سال بعد خطہ میں ’’امریکی آرڈر‘‘ کو خطرہ

May 16, 2015 // 0 Comments

اپریل اور مئی ۱۹۷۵ء میں انڈو چائنا میں رونما ہونے والے واقعات کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا تھا کہ ایشیا اور پیسیفک میں ناقابلِ چیلنج امریکی اجارہ داری کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ کمبوڈیا خمیری گوریلا فوج کے ہاتھوں میں چلا گیا تھا، جنوبی ویتنام کو شمالی ویتنام نے اپنے اندر سمو لیا تھا اور لاؤس میں طاقت کمیونسٹوں کے پاس چلی گئی تھی۔ سائیگون (موجودہ ہو چن من سٹی) میں امریکی سفارت خانے کی چھت سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے عملے کے انخلا کی مقبولِ عام تصاویر دنیا میں قیامت خیز تبدیلی کو ظاہر کرتی تھیں۔ سپرپاور کو ہزیمت اٹھانا پڑی تھی اور وہ خستہ سامانی کی حالت میں اس خطہ سے پسپا ہو رہی تھی۔ البتہ آج چالیس سال بعد جب ویتنام اپنی [مزید پڑھیے]

شمالی کوریا کو کچھ مزید چاہیے!

August 1, 2005 // 0 Comments

جیسا کہ دونوں کوریا‘ امریکا‘ چین‘ جاپان اور روس ایک سال سے زائد کی مدت میں شش فریقی گفتگوکے پہلے رائونڈ کی تیاری کر رہے ہیں‘ شمالی کوریا کو جوہری ہتھیار سے غیرمسلح کیے جانے کے مرکزی مسئلے پر پیش رفت کی امید ہو چلی ہے۔ جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کو عظیم مقدار میں بجلی فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے‘ اس شرط پر کہ پیانگ یانگ اپنا جوہری پروگرام ترک کر دے۔ امریکی خفیہ ایجنسی کے ایک سرسری اندازے کے مطابق اس وقت شمالی کوریا کے پاس ۸ جوہری بم ہیں۔ امریکا نے مراعات کے حوالے سے شاید ہی کوئی متعین بات کی ہو لیکن وہ جنوبی کوریا کی پیشکش کے سبب ایک طرح کا اطمینان محسوس کرتا ہے۔ اس نے شمالی کوریا [مزید پڑھیے]

عالمی جنگ کا خاتمہ مگر۔۔۔

May 16, 2005 // 0 Comments

دوسری عالمی جنگ میں نازیوں پر حلیفوں کی فتح کی ۶۰ویں سالگرہ اس اعتبار سے اہم رہی کہ آج پھر دنیا قتل و غارتگری اور انصاف سے محروم کمزور آبادیوں پر ظلم و ستم کے دور سے گزر رہی ہے۔ ویتنام کی جنگ ہو یا ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی بم کی تباہ کاریوں کا لامتناہی سلسلہ بھیانک خواب کی طرح نئی دنیا کا مسلسل پیچھا کر رہا ہے۔ جنگیں تو ختم ہو جاتی ہیں‘ انسانی ہاتھوں سے انسانوں کی تباہ کاریاں بھیانک یاد بن جاتی ہیں۔ کوئی بھی انصاف پسند اور ہمدرد انسان یہ نہیں چاہے گا کہ یہ یادیں‘ ماضی سے نکل کر حال و مستقبل تک برقرار رہیں۔ گذشتہ نصف صدی میں بہت کچھ بدل گیا۔ انسان نے ترقی کی وہ منزلیں [مزید پڑھیے]