Abd Add
 

پانی

پاکستان بھارت عالمی معاہدہ کے تتمہ جات

October 16, 2016 // 0 Comments

کراچی ۱۹ ستمبر ۱۹۶۰ء پاکستان اور بھارت کے درمیان نہری سمجھوتہ کے ساتھ اے سی ایچ تک تتمہ جات شامل کیے گئے ہیں، جن میں معاہدہ پر عملدرآمد کی وضاحت درج ہے۔ یہ تتمہ جات معاہدہ کی دفعات کے متعلق پیدا ہونے والے اختلافی مسئلوں کو طے کرنے کے لیے ثالث اور فنی ماہر مقرر کرنے، مشرقی اور مغربی دریاؤں کے پانی کی تقسیم اور متبادل تعمیرات کے بارے میں ہیں۔ ثالث کا تقرر (تتمہ جی) متنازع امور طے کرنے کے لیے ثالثی کا جو طریقہ طے پایا ہے اس کی خاص خاص باتیں حسب ذیل ہیں: اگر معاہدہ کی دفعہ ۹ کے تحت ثالثی کی عدالت قائم کرنے کی ضرورت پیش آئی تو اس کا طریقہ حسب ذیل ہوگا: ثالثی کی کارروائی شروع کرنے [مزید پڑھیے]

پاکستان اور بھارت کے درمیان نہری پانی کے عالمی معاہدہ کا متن

October 1, 2016 // 0 Comments

پاکستان اور بھارت کے درمیان نہری پانی کے جس سمجھوتے پر دستخط ہوئے، وہ ۲۲ صفحات پر مشتمل ہے۔ اس معاہدے کے ساتھ ۸ تتمہ جات بھی ہیں، جن میں معاہدہ کی مختلف دفعات اور متبادل تعمیرات نیز پانی کے استعمال کے بارے میں تشریحات درج ہیں۔ ان تتمہ جات میں معاہدہ یا تتمہ جات کی بعض دفعات کے بارے میں پیدا شدہ اختلافی مسائل کو ثالثی یا کسی فنی ماہر سے طے کرانے کے سلسلے میں بھی دو تتمہ جات شامل ہیں، نہری پانی کے معاہدے کا متن حسب ذیل ہے: تمہید پاکستان اور بھارت کی حکومتیں طاس سندھ کے دریاؤں سے پورا اور مکمل فائدہ اٹھانے کی یکساں خواہش ہونے کے ساتھ اس ضرورت کو بھی تسلیم کرتی ہیں کہ وہ پانی کے [مزید پڑھیے]

کیلی فورنیا میں پانی کا بحران

May 16, 2015 // 0 Comments

امریکی ریاست کیلی فورنیا میں پانی کا بحران ایسی شدت اختیار کرگیا ہے کہ اب ریاستی حکومت نے چند ایک پابندیاں متعارف کرائی ہیں۔ مقصود یہ ہے کہ ریاست کے تمام باشندے پانی کے معاملے میں پریشانی سے دوچار نہ ہوں اور بہتر انداز سے زندگی بسر کرتے رہیں۔ کیلیفورنیا میں یہ اپنی نوعیت کی پہلی پابندیاں ہیں۔ کیلی فورنیا میں خشک سالی کے باعث لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ پانی کی یومیہ دستیاب مقدار میں تیزی سے کمی واقع ہو رہی ہے۔ ایسے میں ریاستی حکومت کے لیے ناگزیر ہوگیا تھا کہ چند ایک ایسی پابندیاں متعارف کرائے کہ جن کے ذریعے معاملات کو درست کرنے کی راہ ہموار ہو۔ جب سے باضابطہ ریکارڈ رکھا جارہا ہے، تب سے اب تک کا [مزید پڑھیے]

مصر افریقا میں پھر سرگرم!

April 1, 2015 // 0 Comments

مصر کے سابق کرشماتی صدر جمال عبدالناصر کا دعویٰ تھا کہ مصر کی تین خصوصیات اس کا تعارف ہیں۔ ان میں عرب اور مسلمان ہونا تو ثابت ہیں مگر بقول جمال عبدالناصر، تیسری خصوصیت ایسی ہے جس پر زیادہ توجہ نہیں دی جاتی۔ ان کا استفسار تھاـ کہ کیا ہم اس بات سے صَرفِ نظر کر سکتے ہیں کہ برِاعظم افریقا کا حصہ ہونا قدرت نے ہماری تقدیر میں لکھ دیا ہے؟‘‘ ناصر مصر کو افریقا کے قریب لے کر آئے اور انہوں نے ان راہ نمائوں کے ساتھ تعلقات پروان چڑھائے، جو اُن کے مصر میں لائے گئے انقلاب کی تقلید کرنا چاہتے تھے۔ مگر حالیہ برسوں میں مصر افریقا سے بہت دور جا چکا ہے۔ تعلق میں یہ تلخی اُس وقت آئی، جب [مزید پڑھیے]

پانی کا سب سے بڑا ذخیرہ، زیر زمین ہے!

October 16, 2014 // 0 Comments

دنیا میں بسنے والے اربوں انسانوں کی مستقبل میں پانی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے محققین نے زمین میں پانی کا سب سے بڑا ذخیرہ دریافت کرنے کا دعوی کیا ہے۔ یہ ذخیرہ زمین سے ۶۴۰ کلومیٹر نیچے چٹانوں میں دریافت کیا گیا۔

پاکستان کے آبی وسائل اور بڑے ڈیمز کی تعمیر

January 16, 2006 // 0 Comments

پاکستان میں نئے آبی ذخائر کی تعمیر کا موضوع اس وقت ہر طبقۂ فکر میں زیرِ بحث ہے۔ ان مباحث میں ہمیں واضح طور پر دو گروپ نظر آتے ہیں۔ ایک وہ جو اسے ملکی بقا اور تعمیر و ترقی کے لیے ناگزیر قرار دیتا ہے جبکہ دوسرے گروپ کو اس پر کئی تحفظات ہیں‘ خاص کر سرحد اور سندھ نئے آبی ذخائر بالخصوص کالا باغ ڈیم پر اپنے خدشات کا اظہار کر چکے ہیں۔ وفاق کی جانب سے بعض یقین دہانیوں اور منصوبے میں ترامیم کے باعث سرحد نئے آبی ذخائر کی تعمیر پر راضی ہوگیا‘ تاہم سندھ اب بھی اپنے خدشات کا اظہار بدستور کر رہا ہے۔ اس صورتحال میں ’’اسلامک ریسرچ اکیڈمی‘ کراچی‘‘ نے ایک پریزنٹیشن کا اہتمام کیا‘ جس کا موضوع [مزید پڑھیے]

پانی کی قلت۔۔۔ ایک عالمی مسئلہ

November 16, 2005 // 0 Comments

Yutaka Takahasi جاپان میں River Engineering کے ایک بڑے ماہر ہیں۔ یہ ۱۹۸۸ء تا ۱۹۹۶ء UNESCO کے International Hydrological Programme (IHP) میں جاپان کے نمائندہ رہے ہیں اور ۱۹۹۶ء تا ۲۰۰۳ء World Water Council کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ممبر بھی رہے ہیں۔ “Asia Pacific” مئی ۲۰۰۵ء کے شمارے میں ان کا انٹرویو شائع ہوا ہے‘ جس کا ترجمہ یہاں دیا جارہا ہے۔ کہا جاتا ہے ہے کہ کوئی بھی کرۂ ارض کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے نہیں مررہا مگریہ محض پانی ہے جس کی وجہ سے کافی زیادہ اموات واقع ہوچکی ہیں۔ پانی اب ترجیحی عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔ قلتِ آب اور آلودگی اب دنیا بھر میں ۴۰ لاکھ سالانہ اموات کا سبب ہے‘ یعنی ہر آٹھویں سیکنڈ میں ایک فرد۔ شکار [مزید پڑھیے]