Abd Add
 

مغربی تہذیب

تعمیرِ معاشرہ میں حائل مشکلات اور حل

May 1, 2012 // 0 Comments

دنیا بھر میں مسلمان معاشرے کی صالح خطوط پر تعمیر کے لیے بہت سے مخلص افراد کوشش کررہے ہیں۔ ہمارے ملک میں بھی یہ کوششیں جاری ہیں۔ ہر جگہ تعمیرِ نو کے اس کام میں متعدد دشواریاں حائل ہیں۔ ہمارے ملک کے سیاق میں درپیش بعض دشواریوں کا ذکر ایک تحریر میں کیا گیا ہے، جو اِس موضوع پر ہمیں موصول ہوئی ہے۔ زیرِ نظر سطور میں ان دشواریوں کے سلسلے میں گفتگو کی جائے گی۔ مغربی کلچر کے اثرات کا مسئلہ مذکورہ تحریر میں کہا گیا ہے: ’’مسلم نوجوان (خواہ لڑکیاں ہوں یا لڑکے) مغربی تہذیب وثقافت کے زیرِاثر آتے جارہے ہیں۔ ان کا تعلق دین سے کمزور ہوتا جارہا ہے۔ طلبہ کی اسلامی تنظیموں کی مساعی سے اس فساد کا ازالہ نہیں ہوپارہا [مزید پڑھیے]

ترکی پر مغربی فکر کے غلبے کی تاریخ

March 1, 2011 // 0 Comments

مسلم ممالک میں اسلامیت اور مغربیت کی کش مکش تین صدیوں سے جاری ہے۔ ایشیا و افریقا پر یورپی اقوام کے غلبے کا ایک نتیجہ فکری تصادم کی صورت میں نکلا ہے۔ عالم اسلام کی سیکولرائزیشن کے لیے پیش قدمی ترکی نے کی۔ موجودہ اضطراب، بے چینی اور سیاسی تبدیلی کو سمجھنے کے لیے ان ممالک کی ذہنی اور فکری تاریخ کا مطالعہ ضروری ہے۔ ترکی کی فکری تاریخ کے مطالعے کے لیے ہم پنجاب یونیورسٹی کے اسکالر فیروز الدین شاہ کھگہ کا مقالہ شائع کررہے ہیں۔ اس کے لیے ہم بھارت کے علمی جریدے سہ ماہی ’’تحقیقاتِ اسلامی‘‘ کے شکر گزار ہیں۔ ]ادارہ[ یہودیت اور عیسائیت کی مذہبی بے مائیگی مغربی فکر و فلسفہ کا مطالعہ کرنے والا ادنیٰ طالب علم بھی جانتا ہے [مزید پڑھیے]

مغربی استعمار کا مکروہ چہرہ

September 1, 2010 // 0 Comments

مغربی استعمار عالم اسلامی کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے لیے ہر ممکن حربہ کو استعمال کرتا رہا ہے۔ صہیونی جنگوں کی شکست کا انتقام لینے کے لیے اس نے عالمِ اسلام کے ساتھ دو محاذ کھولے۔ ایک ثقافتی یلغار کا محاذ اور دوسرا عالم اسلام پر پے درپے جنگ مسلط کرنے کی پالیسی۔ اسی وقت مغربی طاقتوں کی جانب سے ان دونوں راستوں سے عالمِ اسلام کے خلاف محاذ آرائی کا سلسلہ جاری ہے۔ ثقافتی یلغار کے لیے یہودی میڈیا ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے۔ میڈیا اور تعلیم کے راستہ سے عالمِ اسلام میں مغربی تہذیب کو فروغ دینے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ مسلم ممالک کے قدرتی وسائل کو ہتھیانے اور انہیں مادّی ترقیات [مزید پڑھیے]

متحدہ یورپ کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو گا؟

August 1, 2005 // 0 Comments

متحدہ یورپ یا یونائیٹڈ یورپین اسٹیٹس ایک ایسا تصور ہے جو بیسویں صدی کی کئی دہائیوں سے یورپین سیاست دانوںکا ہدف رہا ہے۔ ایک لحاظ سے اسے امریکہ کے دیئے گئے نعرے نیو ورلڈ آرڈر کا متوازی کہا جاسکتاہے۔ اس تصور کی ابتداء فرانس اور جرمنی میں ہوئی اور موجودہ فرانسیسی صدر ژاک شیراک اور جرمن چانسلر گرہارڈ شروڈر نے اسے آگے بڑھانے اور اس کی عملی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ یورپی یونین کا قیام (E.U.) دراصل اس مفروضہ پر عمل میں آیا تھا کہ مجموعی طور پر یورپ زوال پذیر ہورہا ہے اور اس کی مخصوص تہذیب و شناخت (جس پر مسیحیت کی گہری چھاپ ہے) اینگلو سیکسن تہذیب سے شدید طور پر متاثر ہورہی ہے، موخر الذکر کے بنیادی نمائندے [مزید پڑھیے]

1 2