Abd Add
 

جنگ عظیم

جزائر کی ملکیت: چین اور جاپان تصادم کی راہ پر

November 1, 2012 // 0 Comments

جاپان اور چین کی تاریخ کئی باہمی رشتوں اور رنجشوں سے بھری پڑی ہے کیونکہ جغرافیائی لحاظ سے دونوں ممالک کے مابین پانی کی ایک تنگ سی پٹی حائل ہے، اس لیے ایک دوسرے پر اثر انداز ہونا ایک فطری بات ہے۔ جنگ عظیم دوئم کے بعد دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات میں اُس وقت تیزی آئی، جب ۱۹۶۰ء کی دہائی میں روس اور چین کے تعلقات خراب ہوئے جس کی بنا پر روس نے اپنے تمام ماہرین واپس بلوا لیے اور ایسے میں چین کے پاس بہتر راستہ یہی تھا کہ وہ جاپان کی تکنیکی مہارت اور مستحکم مالی حیثیت سے استفادہ کرے۔ اس سلسلے میں پہلا بڑا قدم لیو ناگاساکی معاہدہ تھا، جس کی بدولت جاپان، چین کو صنعتی کارخانوں کی خرید کے [مزید پڑھیے]

’’چینی ین‘‘ عالمی کرنسی بننے کے قریب

April 16, 2011 // 0 Comments

یہ الفاظ ’’ڈالر بطور عالمی کرنسی ماضی کا حصہ ہے!‘‘ چین کے صدر ہوجن تائو نے ’’وال اسٹریٹ جنرل‘‘ کو ایک انٹرویو میں کہے تھے۔ کسی بھی ملک کا کسی دوسرے بلکہ اپنے حریف ملک کے بارے میں کھلے انداز میں ایسی بات کرنا معنی رکھتی ہے۔ دنیا میں سپر پاور کے لیے دفاعی صلاحیت کا مضبوط ہونا ضروری تو ہے مگر سب سے اہم نہیں، کیونکہ معاشی ترقی و استحکام کے بغیر کوئی بھی ریاست سپر پاور کی حیثیت حاصل نہیں کر سکتی اس کی وجہ اس کی دفاعی طاقت نہیں بلکہ اس کی مضبوط اقتصادیات ہوتی ہیں۔ جب سوویت جنگ کی وجہ سے روس کی معیشت تباہ ہوئی تو نہ صرف روس کمزور ہوا بلکہ تحلیل بھی ہوگیا۔ چین ہر لحاظ سے دنیا [مزید پڑھیے]

1 2