Abd Add
 

شی جِن پِنگ

چین میں قیادت کی تبدیلی

October 1, 2017 // 0 Comments

چین میں جب موسم گرما اپنے جوبن پر آتا ہے، یعنی اگست کا مہینہ شروع ہوتا ہے تو یہاں کی سیاسی اشرافیہ ساحل سمندر کا رخ کرتی ہے۔ جہاں وہ اپنے پسندیدہ موضوع حکومتی جماعت ’’کمیونسٹ پارٹی‘‘ کے مستقبل پر بحث و مباحثہ کرتی ہے۔ ماؤزے تنگ کے دور سے سالانہ بنیادوں پر ہونے والا یہ انتہائی خفیہ اجلاس اس سال بیجنگ سے تقریبا۱۷۵ میل کے فاصلے پرساحلی شہر Beidaihe میں منعقد کیا جا رہا ہے۔یہ سال پچھلے سالوں کے مقابلے میں زیادہ اہمیت کاحامل ہے۔کیوں کہ اس سال ملک کی طاقتور ترین سات رکنی’’پولٹ بیورو اسٹینڈنگ کمیٹی‘‘ کے پانچ ارکان ریٹائر ہونے جا رہے ہیں۔ اس بڑے پیمانے کی تبدیلیاں دس سال میں دو دفعہ ہوتی ہیں۔ صدر شی جن پنگ کے لیے یہ [مزید پڑھیے]

نریندر مودی اور زی جن پنگ کا دورۂ امریکا

November 1, 2015 // 0 Comments

بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی خود کو یہ باور کراچکے ہیں کہ ’’جو کچھ زی جِن پِنگ کرسکتے ہیں، وہ سب مَیں اُن سے بہتر کر سکتا ہوں‘‘۔ اور اسی یقین کے زیرِ اثر وہ بھی چینی صدر کے پیچھے پیچھے رواں برس ستمبر میں امریکا جا پہنچے۔ دونوں رہنماؤں نے اپنے دورۂ امریکا کا آغاز مغربی ساحلی ریاستوں سے کیا، جہاں وہ صفِ اول کی امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی توجہ حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف رہے۔ دونوں رہنماؤں نے اقوام متحدہ کے مختلف اجلاسوں سے خطاب کیے اور امریکا کے صدر براک اوباما سے ملاقاتیں کی۔ لیکن دونوں رہنماؤں کے اس دورے کی خاص بات یہ تھی کہ دونوں نے اپنے ان دوروں کو اپنے اور امریکا، دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان [مزید پڑھیے]

شی جن پنگ چین کے نئے صدر منتخب

March 16, 2013 // 0 Comments

چین کی پارلیمان نے ۵۹ سالہ شی جن پنگ (Xi Jin Ping) کو دس سال کے لیے نیا چینی صدر منتخب کرلیا ہے۔ شی جن پنگ نے ۴ ماہ قبل کمیونسٹ پارٹی کا عہدہ سنبھالا تھا۔ چین کے عوامی ’’کورونوس گریٹ ہال‘‘ میں ۳۰۰۰ افراد نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔ یہ لوگ سرخ رنگ کا بیلٹ پیپر، سرخ رنگ کے جھنڈے کے سامنے رکھے سرخ بیلٹ باکس میں ڈال رہے تھے۔ نتائج غیر یقینی نہیں تھے، یعنی شی جن پنگ نے ۲۹۵۲ ووٹ حاصل کیے، صرف ایک ووٹ ہی مخالفت میں ڈالا گیا۔ اس طرح نتائج کی شرح ۸۶ء۹۹ فیصد تھی۔ لی ین شان (Liu Yunshan) جو پارلیمان کے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے، نے شی جن پنگ کی صدارت کا اعلان [مزید پڑھیے]

تبت چین اور امریکا ۔۔۔ اُجالوں کی طرف؟

August 1, 2011 // 0 Comments

چین کے ممکنہ لیڈر شی جنپنگ نے حال ہی میں تبت کے دارالحکومت لہاسہ میں دلائی لامہ کی سابق سرکاری رہائش پوٹالا پیلیس کے باہر ایک شاندار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چین نے تبت کو اندھیروں سے نکال کر اجالوں تک پہنچایا ہے۔ اگر مادی اعتبار سے دیکھا جائے تو بات غلط نہیں۔ ۱۹۵۱ء میں دلائی لامہ نے چین سے ایک سترہ نکاتی معاہدہ کیا جس کے تحت تبت پر چین کا اختیار قائم ہوا۔ تب سے اب تک تبت کے باشندوں نے مجموعی طور پر بہتر انداز کی زندگی بسر کی ہے۔ تبت ایک پیچیدہ معاشرہ تھا جس میں سب کچھ آسان نہ تھا۔ پورے علاقے میں خانقاہوں کا جال بچھا ہوا تھا اور ہر طرف روایت پرستی کا راج تھا۔ [مزید پڑھیے]

شی جن پنگ: چین کے ممکنہ نئے قائد!

December 16, 2010 // 0 Comments

شی جن پنگ (Xi Jinping) تیزی سے ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ وہ جب ایک صوبے کے گورنر تھے اور کم ہی لوگ ان سے واقف تھے تب انہوں نے ایک میٹنگ کے دوران کہا تھا کہ کبھی کبھی سنجیدگی ظاہر کرنے کے لیے ’’میز بجانا، نہ بجانے سے بہتر ثابت ہوتا ہے‘‘۔ اب وہ چین کے نائب صدر ہیں۔ ان کی مقبولیت میں مستحکم رفتار سے اضافہ ہو رہا ہے تاہم اقتدار پر گرفت مضبوط کرنے کے لیے انہیں محض میز بجانے سے آگے بڑھنا ہوگا۔ ۱۸؍اکتوبر کو اعلان کیا گیا کہ شی جن پنگ ملک کے نئے سربراہ ہوں گے۔ چین کی کمیونسٹ پارٹی اس تجویز پر غور کرتی رہی ہے کہ لیڈر کے انتخاب کے لیے کھلی مسابقت اپنائی جائے تاہم شی [مزید پڑھیے]