Abd Add
 

یمن

عرب ریاستیں اور عدم تحفظ

August 16, 2018 // 0 Comments

ہر تھوڑے دن بعد رات میں آگ برساتا ہوا دھماکا خیز راکٹ سعودی عرب میں آسمان پر نمودار ہو کر یمن کی جنگ کی یاد دلاتا ہے۔ یہ میزائل حوثی ملیشیا کی طرف سے داغے جاتے ہیں، جنھیں ۲۰۱۵ء میں یمن میں نظامِ حکومت سے الگ کردیا گیا تھا۔ یہ میزائل اک بے ضرر شے کی طرح سعودی صحر امیں جاگرتے ہیں، لیکن تین سال گزرنے کے بعد ان کا ملبہ یہ نشاندہی کرتا ہے کہ حوثی ناقابل شکست ہیں۔ ان میزائلوں کی رفتار اور حدود بڑھ چکی ہیں اور اب یہ سعودی شہر ریاض تک میں اپنے ہدف کو نشانہ بناتے ہیں۔ ریاض میں سعودی حکام نے فوجیوں کوایک تقریب میں مختصراً ان میزائلوں کے ملبے کے بارے میں آگاہ کیا۔ یہ ’’قیام‘‘ میزائل [مزید پڑھیے]

خانہ جنگی کا شکار یمن

January 16, 2018 // 0 Comments

ساحلی شہر حدیدہ سے یمن کے دارالحکومت صنعا جانے والی سڑک کے ساتھ سنگلاخ پہاڑوں کا سلسلہ ہے۔ ان پہاڑوں کو کاٹ کر راستہ بنایاگیا ہے۔ساحل پرپرانے تعمیر شدہ فارم ہاؤسز موجود ہیں،فارم ہاؤسز کے گرد پہاڑ سے نیچے آنے والا بارش کا پانی جمع ہے، جنوب میں گھنے جنگلات ہیں،جہاں ببون اور جنگلی بلیاں رہتی ہیں۔ یمن کا وسیع صحرا مشرق تک پھیلا ہوا ہے۔ علاقے کی دلکشی متاثر کن ہے،مگر یہ سب قدرتی خوبصورتی ہے۔ حقیقت میں تو زمین کا یہ خطہ مصائب کی آماجگاہ بن چکا ہے۔ ۲۰۱۴ء میں حوثی باغیوں اور حکومت کے درمیان جنگ کے آغاز سے قبل بھی یمن مشرق وسطیٰ کا سب سے غریب ملک تھا۔ جنگ نے غربت میں خطرناک حد تک اضافہ کردیا ہے، جب سے [مزید پڑھیے]

سعودی عرب :بادشاہت کے لیے ممکنہ چیلنج

June 16, 2015 // 0 Comments

برقع پوش خواتین اپنے اسمارٹ فون پر ان کی تصاویر لگا کر خوش ہو رہی ہیں،صحافی ان کے ہر اقدام پر تعریف کے پل باندھ رہے ہیں،سفارت کار ان کے بارے میں چھوٹی چھوٹی خبریں حاصل کرنے کی جدوجہد میں مصروف نظر آتے تاکہ اپنے دارالحکومتوں کو با خبر رکھ سکیں۔وہ نوکر شاہی جو کبھی سارا دن میزوں پر سر رکھے اونگھتی تھی، اب راتوں کو جاگ کر ان کے احکامات کو عملی جامہ پہنانے میں مصروف نظر آتی ہے۔ان سب باتوں کی وجہ ہیں محمد بن سلمان،سعودیہ کے وزیر دفاع اور بادشاہ سلمان کے شاہی فرمان کے مطابق نائب ولی عہد،جنہوں نے غیر معروف ہوتے دارالحکومت ریاض کو دوبارہ شہ سرخیوں میں جگہ دلا دی ہے۔ جنوری میں بننے والے بادشاہ سلمان جو کہ [مزید پڑھیے]

اسلام پسندوں کا اقتدار، مغرب اور عرب حلقے

May 1, 2013 // 0 Comments

عرب ممالک میں استبداد، کرپشن اور نظام حکومت کے سقوط کے بعد جو کچھ ہو رہا ہے وہ عجیب و غریب اور مشکوک و مشتبہ ہے۔ دو برس قبل ’’عرب بَہار‘‘ نے تیونس سے لے کر مصر، لیبیا، یمن اور شام کو اپنی لپیٹ میں لیا، ان میں سے بیشتر ممالک نے جمہوری راستے کے واضح شعارات (پارلیمانی و صدارتی انتخابات سے لے کر دستوری ترمیمات کے استصواب تک) کو اپنایا، لیکن اس کا اثر نہ سیاسی استحکام پر دکھائی دیا، نہ اقتصادی خوشحالی پر۔ اگر ہم شام کو چھوڑ دیں جہاں پُرامن عوامی انقلاب گھمسان کی جنگ میں بدل چکا ہے، تو باقی ممالک تیونس سے لے کر مصر، لیبیا اور یمن تک میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ کیوں ہو رہا ہے؟ [مزید پڑھیے]

1 2