قائداعظمؒ کے تصورِ پاکستان کی ایک جھلک

دانشوروں کا ایک منظم گروہ گزشتہ چند برسوں سے دن رات یہ ڈھنڈورا پیٹنے میں مصروف ہے کہ قائداعظمؒ سیکولر ذہن کے مالک تھے اور وہ پاکستان میں سیکولر نظام نافذ کرنا چاہتے تھے۔ یہ حضرات قائداعظمؒ کی گیارہ اگست ۱۹۴۷ء والی تقریر کو اپنا سیکولر ایجنڈا آگے بڑھانے کے لیے استعمال کرتے ہیں کیونکہ انہیں قائداعظمؒ کی دیگر ہزاروں تقاریر میں کوئی ایسا مواد نہیں ملتا جسے وہ اپنی پروپیگنڈا مہم کا ہراول دستہ بنا سکیں۔ قائداعظمؒ نے تقسیمِ ہند سے قبل تقریباً ۱۰۱؍بار یہ اعلان کیا کہ پاکستان کے نظام کی بنیاد اسلامی اصولوں پر اٹھائی جائے گی اور قیام پاکستان کے بعد چودہ بار یہ واضح کیا کہ پاکستان کے نظام، آئین اور ملکی ڈھانچے کو اسلامی اصولوں پر استوار کیا جائے گا۔ انہوں نے لاتعداد بار کہا کہ قرآن ہمارا رہنما ہے اور ہمیں قرآن ہی سے رہنمائی کی روشنی حاصل کرنی چاہیے۔ ان سیکڑوں اعلانات اور وعدوں کے باوجود یہ حضرات اپنے ذہن کے دریچے کسی اختلافی بات پر کھولنے کے لیے تیار نہیں۔

اللہ جانتا ہے کہ میرا کوئی ذاتی ایجنڈا نہیں، میری سوچ کا محور و مرکز صرف پاکستان ہے اور میں خلوص نیت سے سمجھتا ہوں کہ پاکستان کے نظام کا فیصلہ پاکستان کے عوام نے کرنا ہے جنہوں نے پاکستان کے قیام کا فیصلہ کیا تھا اس لیے اگر مجھے قائداعظمؒ کی تقریروں سے کہیں بھی سیکولر ازم (لادینیت) کی بو آتی تو میں اسے نہ صرف تسلیم کرتا بلکہ کھلے ذہن سے اس کا اظہار کرتا، کیونکہ میرے نزدیک قائداعظمؒ سے عقیدت اور فکری دیانت کا تقاضا یہ ہے کہ بابائے قوم کے فرمودات کو کھلے ذہن اور تعصب سے پاک دل کے ساتھ پڑھا جائے۔ ۱۱؍اگست کو دستور ساز اسمبلی کا صدر منتخب ہونے کے بعد قائداعظمؒ کی تقریر فی البدیہہ تھی اور اس میں انہوں نے کرپشن، سفارش، ذخیرہ اندوزی، فرقہ واریت کے علاوہ جس طرح مذہبی اقلیتوں کو برابری کے درجے کا وعدہ کیا اور مذہبی آزادی کا پیغام دیا وہ دراصل میثاقِ مدینہ کی روح کے مطابق ہے جو حضور نبی کریمؐ نے مدینہ کی ریاست کے سربراہ کی حیثیت سے مذہبی اقلیتوں سے کیا تھا اور انہیں برابر کے شہری حقوق دیے تھے، جو حضرات پاکستان کی پہلی کابینہ میں چوہدری ظفر اللہ خان اور جوگندر ناتھ منڈل (ہندو) کو وزارتیں دینے پر اعتراض کرتے ہیں ان سے گزارش ہے کہ وہ میثاق مدینہ کا مطالعہ کریں۔ قائداعظمؒ کی پہلی مستند سوانح حیات لکھنے والے انگریز مصنف بولتھو کو اس تقریر میں نبی کریمؐ کے خطبہ حجتہ الوداع کی پیروی اور روشنی نظر آتی ہے۔ روشن خیال دانشوروں نے میثاق مدینہ پڑھا ہے نہ یہ خطبہ۔

یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ قائد اعظمؒ ہرگز کوئی مذہبی شخصیت نہیں تھے اور نہ ہی وہ پاکستان کو مذہبی ریاست بنانا چاہتے تھے اور نہ ہی تھیوکریسی کا تصور اسلام میں موجود ہے۔ ان کا تصورِ پاکستان ایک اسلامی، فلاحی اور جمہوری ریاست کا تھا جس کی بنیاد اسلامی اصولوں پر ہو، یعنی جس میں نہ صرف غیر اسلامی قوانین اور رسومات کو ختم کر دیا جائے بلکہ اس کے آئین، قانون اور ڈھانچے کی بنیاد بھی اسلامی اصولوں کی روح کی عکاسی کرے۔ کامن سینس کی بات ہے کہ جس ملک کی بہت بڑی اکثریت مسلمان ہو وہاں غیر اسلامی قوانین بن ہی نہیں سکتے۔ اسلام کی عین روح کے مطابق قائداعظمؒ مذہبی فرقہ واریت اور مذہبی تشدد کے خلاف تھے اور تحمل برداشت (Tolerance) اور سماجی یگانگت پر زور دیتے تھے، چنانچہ موجودہ مذہبی منافرت، فرقہ واریت اور مذہبی تشدد (Millitnacy) اس تصور پاکستان کی نفی کرتا ہے، جو قائداعظمؒ نے پیش کیا تھا اور جس کی حمایت مسلمانانِ ہند و پاکستان نے کی تھی۔ یہ سب کچھ ہماری اپنی حکومتوں کی بے بصیرت پالیسیوں اور حکمرانوں کی نا اہلی کا کیا دھرا ہے جس کے ڈانڈے تحریک پاکستان سے ملانا بہت بڑی بے انصافی ہے۔ جمہوری نظام کے علاوہ قائداعظمؒ پاکستان میں اسلام کی روح کے مطابق قانون کی حکمرانی، انصاف، انسانی مساوات اور سماجی و معاشی عدل چاہتے تھے اور اگر وہ زندہ رہتے تو ایسا ہی ہوتا، لیکن اگر موجودہ پاکستان میں ان اصولوں کے نفاذ کی امید بھی نظر نہیں آتی تو کیا یہ تصور پاکستان کا قصور ہے؟ تصور پاکستان تو ایک آئیڈیل ہے، جسے شرمندۂ تعبیر کرنے کے لیے بھی مزید جدوجہد کی ضرورت ہے، اس لیے میں عرض کیا کرتا ہوں کہ منزل کا شعور زندہ رہنا چاہیے۔ آرزو باقی رہے تو کبھی نہ کبھی منزل بھی مل جاتی ہے۔ قائداعظمؒ قانون کی حکمرانی، معاشی عدل اور انسانی مساوات کے ساتھ ساتھ جاگیرداری نظام کا بھی خاتمہ چاہتے تھے، وہ ہر قسم کی بے انصافی اور فرقہ واریت کو جڑ سے اکھاڑ دینا چاہتے تھے جبکہ آج کا پاکستان جاگیرداروں، رؤسا، بالائی طبقوں اور جرنیلوں کی جاگیر بن چکا ہے۔ اور کرپشن کی کہانیاں سن کر کلیجہ منہ کو آتا ہے، آج کے پاکستان میں قانون کی حکمرانی، معاشی عدل اور انسانی مساوات کے تصورات کو پامال کیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال نے ہر طرف مایوسی کے اندھیرے پھیلا دیے ہیں اور نوجوان نسلوں کو قیام پاکستان کے حوالے سے غیر یقینی میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس فضا میں قائداعظمؒ کے تصور پاکستان کی شمع جلائے رکھنا ضروری ہے تاکہ نوجوان نسل کے سامنے ایک آئیڈیل موجود رہے اور وہ قائداعظمؒ مخالف لابی کے پراپیگنڈے کا شکار نہ ہوں۔

سیکولر حضرات مذہب اور ریاست کی علیحدگی کا پرچار کرتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ ریاست اور چرچ کی علیحدگی کا تصور بنیادی طور پر عیسائیت کا تصور ہے کیونکہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس میں بقول اقبالؒ

جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

ان کا یہ الزام کہ موجودہ فرقہ واریت اور دہشت گردی سیاست کو مذہب سے ملانے کا نتیجہ ہے، سراسر بے بنیاد ہے۔ کیونکہ اسلام بذات خود فرقہ واریت، دہشت گردی اور انتہا پسندی کی مذمت کرتا ہے جیسا کہ میں عرض کر رہا ہوں دراصل یہ سب کچھ ہمارے حکمرانوں کی بے بصیرت پالیسیوں اور عالمی قوتوں کی چالوں کا کیا دھرا ہے جس میں پاکستانی عوام پھنس کر رہ گئے ہیں۔ بلاشبہ قائداعظمؒ نئی مملکت کی بنیادیں اسلامی اصولوں پر استوار کرنا چاہتے تھے۔ یوں تو ان کی سینکڑوں تقریریں اس حقیقت کی غمازی کرتی ہیں لیکن آپ کو اس کی ایک چھوٹی سی جھلک دکھانے کے لیے میں قائداعظمؒ کے خط بنام پیر مانکی شریف (سابق صوبہ سرحد) سے چند سطریں پیش کر رہا ہوں کیونکہ اس خط کا ذکر قائداعظمؒ کی تقاریر اور اکثر کتابوں میں نہیں ملتا اور نہ ہی لوگ عام طور پر اس خط سے آگاہ ہیں۔ یاد رہے کہ صوبہ سرحد میں خان عبدالغفار خان بے پناہ سیاسی اثر رکھتے تھے اور انہیں کانگریس کے ایک ستون کی حیثیت حاصل تھی۔ ان کا صحیح معنوں میں توڑ پیر آف مانکی شریف تھے جن کی مسلم لیگ کے لیے حمایت سیاسی پانسہ پلٹ سکتی تھی۔ ۱۹۴۵ء میں پیر صاحب نے مسلم لیگ میں شامل ہونے سے قبل قائداعظمؒ سے تصور پاکستان کے حوالے سے وضاحت چاہی تو قائداعظمؒ نے پیر صاحب کو ایک خط لکھا جس میں انہوں نے وضاحت کی کہ پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کبھی شریعت کے منافی قوانین نہیں بنائے گی اور نہ ہی پاکستان کے مسلمان غیر اسلامی قوانین کی اجازت دیں گے۔ (بحوالہ دستور ساز اسمبلی کارروائی ۹مارچ ۱۹۴۹ء جلد نمبر ۳صفحہ نمبر ۴۶)

آج یہ تصور کرنا بھی محال ہے کہ قیام پاکستان کے فوراً بعد نوزائیدہ مملکت کو مسائل کے کوہ ہمالیہ کا سامنا تھا جن میں خاص طور پر لاکھوں مہاجرین کی آباد کاری، خالی خزانہ، وسائل کا فقدان اور معاشی بحالی کے ساتھ ساتھ نئی مملکت کے لیے انتظامی ڈھانچے اور مرکزی حکومت کا قیام قابل ذکر ہیں۔ دوسری طرف خود قائداعظمؒ کی صحت دن بدن گر رہی تھی اور کئی دہائیوں کی مسلسل محنت نے انہیں ہڈیوں کا ڈھانچہ بنا دیا تھا، چنانچہ قیام پاکستان کے ایک برس بعد وہ ستمبر ۱۹۴۸ء میں اللہ کو پیارے ہو گئے۔ قائداعظمؒ زندہ رہتے تو کس طرح اپنے وعدے شرمندہ تعبیر کرتے اور کس طرح نئی مملکت کی تعمیر کرتے۔ اس کا اندازہ ان کے دستور ساز اسمبلی کے ۱۴؍اگست ۱۹۴۷ء کے خطاب سے ہوتا ہے جس میں انہوں نے نبی کریمؐ کو اپنا رول ماڈل قرار دیا اور فروری ۱۹۴۸ء کے امریکی عوام کے نام پیغام سے ہوتا ہے جس میں انہوں نے پاکستان کو ایک اعلیٰ درجے کی اسلامی ریاست قرار دیا اورواضح کیا کہ پاکستان کا دستور جمہوری طرز کا ہو گا، جس کی بنیاد اسلامی اصولوں پر رکھی جائے گی۔ اس ارادے کی ایک معمولی سی جھلک پاکستان کے ممتاز جرنیل جنرل محمد اکبر خان (رنگروٹ) کی کتاب ’’میری آخری منزل‘‘ کے صفحہ نمبر ۲۸۱میں ملتی ہے جو بہت سے لوگوں کے لیے اچنبھے کا باعث ہو گی۔ جنرل محمد اکبر (آرمی پی اے نمبر ۱) کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ ۲۵جون ۱۹۴۸ء سے تین دن کے لیے علیل قائداعظمؒ کے زیارت میں مہمان رہے۔ قائداعظمؒ سے ملاقات میں جنرل اکبر نے فوجی میسوں میں انگریز حکومت کی شروع کی گئی شراب نوشی کی رسم کو ختم کرنے کی تجویز دی۔

جواب میں قائداعظمؒ نے اپنے اے ڈی سی کو بلایا اور کانفیڈینشل باکس لانے کو کہا ’’قائداعظمؒ نے جیب سے چابی نکالی اور باکس کو کھول کر مراکشی چمڑے سے جلد بند ایک کتاب نکالی۔ انہوں نے اسے اس مقام سے کھولا جہاں نشانی رکھی ہوئی تھی اور فرمایا: جنرل یہ قرآن مجید ہے اس میں لکھا ہے کہ شراب و منشیات حرام ہیں، لہٰذا میں نے عرض کیا کہ آپ ایک حکم جاری کریں اور افسروں کو متنبہ کریں کہ شراب حرام اور منع ہے۔

قائداعظمؒ مسکرائے اور فرمایا کہ کیا تم سمجھتے ہو کہ قائداعظمؒ کا حکم قرآن مجید کے احکامات سے زیادہ مؤثر ہو گا۔۔ اسٹینو کو بلایا گیا، قائداعظمؒ نے ایک مسودہ تیار کیا اس میں قرآنی آیات کی جانب توجہ دلا کر فرمایا کہ شراب منشیات حرام ہیں۔ میں نے اس مسودے کی نقل لگا کر شراب نوشی بند کرنے کا حکم جاری کر دیا، جس پر میری ریٹائرمنٹ تک عمل ہوتا رہا‘‘۔

قائداعظم کانفیڈینشل باکس ہمیشہ ساتھ رکھتے تھے اور اس باکس میں قرآن مجید کا نسخہ بھی شامل تھا۔ اگر انہیں موقع ملتا تو وہ یقیناً اسلامی اصولوں کے نفاذ کے لیے اقدامات کرتے اور تصور پاکستان کو حقیقت کا جامہ پہناتے، لیکن بدقسمتی سے موت کے بے رحم ہاتھوں نے قائد کو ہم سے چھین لیا اور تکمیل پاکستان کی جدوجہد ادھوری رہ گئی اور پھر ملک پر جاگیردار، گدی نشین، موروثی سیاستدان، امرا اور جرنیل چھا گئے، جنہوں نے پاکستان کو صحیح معنوں میں پاکستان نہ بننے دیا۔ کھلے ذہن اور صاف دل سے سوچیے کہ قائداعظمؒ کی ہدایت پر پہلے یوم آزادی پر ۱۵؍اگست ۱۹۴۷ء کو مشرقی پاکستان میں مولانا ظفر عثمانی نے پاکستان کا پرچم لہرایا۔ مولانا ظفر عثمانی مولانا اشرف تھانوی کے خواہر زادے تھے۔ کراچی میں پرچم کشائی کے لیے قائداعظم مولانا شبیر عثمانی کو ساتھ لے کر گئے جن کا مولانا اشرف تھانوی سے گہرا تعلق تھا۔ اس کا کیا مطلب ہے؟ قائداعظم نے ایسا کیوں کیا؟ کیا پیغام دینا مقصود تھا؟ کیا اس وضاحت کی ضرورت ہے کہ قائداعظمؒ کیا چاہتے تھے؟

(بشکریہ: روزنامہ ’’جنگ‘‘ کراچی۔ ۲۵ دسمبر ۲۰۱۴ء)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*