مسلم دنیا اور ’’نا اہلی‘‘ کا بحران

مسلم دنیا زوال کی حدوں کو چھو رہی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے اب کبھی بھرپور اعتماد کا لمحہ نہیں آئے گا اور سب کچھ اِسی طور چلتا رہے گا۔ مگر کیا واقعی ایسا ہے کہ مسلمان اس وقت اپنی تاریخ کے بدترین انحطاط سے دوچار ہیں؟ کیا اِس سے بُرے لمحات بھی مسلم امہ پر وارد ہوئے ہیں؟ کیا بغداد پر ہلاکو خان کے حملے کو آج کے لمحے سے زیادہ خطرناک اور شدید زوال قرار دیا جاسکتا ہے؟

ہم تاریخ کے ہر اہم موڑ اور لمحے کو اس دور کے بنیادی کرداروں، واقعات اور ان کے نتائج کے حوالے سے جانتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ کے مسلمان زوال کی حدوں کو چھو رہے ہیں۔ انحطاط ایسا ہے کہ کچھ بھی درست نہیں یا درست ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ اگر ہم اپنی سہولت کے لیے چاہیں تو مشرق وسطیٰ کی تاریخ کو مختلف ادوار میں تقسیم کرسکتے ہیں، جو کچھ یوں ہیں:۔

٭ نو آبادیاتی دور

٭ جمال عبدالناصر کے بعد کا زمانہ

٭ چھ روزہ جنگ کے بعد کا زمانہ

٭ نائن الیون کے بعد کا دور

٭ عرب بہار کے بعد کا زمانہ

ان تمام زمانوں کے آئینے میں مشرق وسطیٰ کے مسلمانوں کا زوال دیکھا جاسکتا ہے۔ میں تو مشرق وسطیٰ کے مسلمانوں کے زوال کے بنیادی کرداروں کو تین خانوں میں تقسیم کرتا ہوں۔

٭ مسلمانوں کی نا اہلی

٭ امریکی قیادت میں عیسائی دنیا کی مسلمانوں اور اسلام سے مخاصمت۔ اور

٭ دنیا بھر کے یہودیوں کی طرف سے اسرائیل کو ملنے والی حمایت اور امداد

٭ نو آبادیاتی دور

اس میں کوئی شک نہیں کہ عرب دنیا کو موجودہ حالت تک پہنچانے میں مرکزی کردار نو آبادیاتی دور نے ادا کیا ہے۔ اس دور ہی میں سعودی عرب، مصر، شام، لبنان، عراق، اردن اور فلسطین کو سلطنتِ عثمانیہ کے دائرے سے نکال کر آزاد ممالک کا درجہ دیا گیا۔ برطانوی اور فرانسیسی جرنیلوں اور سیاست دانوں نے اپنی آرام دہ کرسیوں میں بیٹھ کر شراب کے جام لنڈھاتے ہوئے عرب دنیا میں سرحدیں قائم کردیں۔ اس کا بنیادی مقصد پوری عرب دنیا کو برطانیہ اور فرانس کے درمیان تقسیم کرنا تھا۔ اس سے قبل یہی کھیل ہندوستان میں کھیلا گیا تھا جہاں نئی سرحدیں قائم کرکے پورے ملک کی مجموعی طاقت انتہائی گھٹادی گئی۔ برطانیہ نے اپنے زیر اثر علاقوں میں بادشاہ مقرر کیے اور فرانس نے اپنے زیر اثر علاقوں میں جمہوریائیں قائم کردیں۔ حقیقی آزادی کا تصور دور دور نہ تھا۔ دونوں بڑی طاقتیں صرف یہ چاہتی تھیں کہ جو علاقے اُن کے حصے میں آئے ہیں وہ اُنہی کے زیر اثر رہیں۔ لبنان میں اُنہوں نے سہہ فریقی آئین نافذ کیا، جو امریکا نے پانچ عشروں کے بعد عراق میں متعارف کرایا۔ یہ آئین متعلقہ ممالک کے لیے تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوا ہے۔ لبنان کو انتظامی سطح پر تین حصوں میں تقسیم کرنے سے خرابیوں نے جنم لیا اور ملک تباہ ہوگیا۔ عراق میں کچھ ایسا ہی ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ برطانیہ اور فرانس نے مل کر عرب دنیا کو تباہ کیا تھا۔ اب امریکا کی باری ہے۔ آپ کسی بھی حالت میں ان کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کی بات نہیں کرسکتے۔ یہ تو آپ کے ضمیر کا معاملہ ہے کہ کسی بھی مصیبت سے کس طور نمٹنا ہے۔ امریکا کو جو کچھ کرنا ہے، وہ کرنا ہے۔ تباہی یا بربادی سے اسے کوئی غرض نہیں۔ ہر بڑی طاقت کا یہی المیہ ہوا کرتا ہے۔ اس معاملے میں اخلاقی اقدار کی کوئی حیثیت اور اہمیت نہیں۔

٭ جمال عبدالناصر کے بعد کا زمانہ

جب عرب دنیا میں برطانیہ اور فرانس کا عمل دخل بہت بڑھ گیا اور سبھی کچھ ہوتا دکھائی دیا تو عرب دنیا میں بیداری کی لہر کسی حد تک پیدا ہوئی۔ نوجوان فوجی افسران میں یہ شعور پیدا ہوا کہ خطے کو بچانے کے لیے کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی ہوگا۔ مصر میں جمال عبدالناصر نے معاملات کو اپنے ہاتھ میں لیا۔ انہوں نے سابق سوویت یونین سے تعلقات بہتر بنائے۔ اس کے نتیجے میں ان کا رابطہ ناوابستہ تحریک سے ہوا اور خطے کو نئی پہچان ملی۔ جمال عبدالناصر کو عالمگیر شہرت حاصل ہوئی۔ جمال عبدالناصر کو سابق سوویت یونین سے بھرپور اقتصادی اور فوجی امداد ملتی رہی۔

سابق سوویت یونین کے اثرات والے دور میں عرب دنیا میں قوم پرستی کا جادو سر چڑھ کر بولا۔ مصر اور شام نے اس حوالے سے بنیادی کردار ادا کیا۔ بعد میں عراق میں عرب قوم پرستی کی لہر اٹھی۔ اسلامی جمہوریہ کے بجائے عرب جمہوریہ بننے کو ترجیح دی گئی۔ پان عرب ازم کا غلغلہ ایسا اٹھا کہ سب کچھ دب کر رہ گیا۔ عرب دنیا نے خود کو زبان، ثقافت اور نسل کی بنیاد پر ایک کرنے کا خواب دیکھا۔ جمال عبدالناصر اگرچہ گہری بصیرت کا حامل تھا مگر عسکری حکمت عملی کے معاملے میں وہ بُودا ثابت ہوا۔ وہ اور اس کے جرنیل اندازہ نہ لگاسکے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد کی فوجی کارروائیوں کے اثرات کیا ہوسکتے ہیں۔ اسرائیل سے چھ روزہ جنگ نے عرب قوم پرستی اور عرب اتحاد کے تمام خواب چکناچور کردیے۔ مصر، شام اور اردن کی شکست نے عرب قوم پرستی کو بہت دور پھینک دیا۔ اس کے بعد پورے خطے کو ایک لڑی میں پرونے کا خواب بھی آنکھوں سے چِھن گیا۔ عرب دنیا شدید ڈپریشن میں ڈوب گئی۔ یہ دورِ حاضر کے دو بڑے ڈپریشنز میں سے ایک تھا۔

٭ چھ روزہ جنگ کے بعد کا زمانہ

اسرائیل سے عرب دنیا کی جنگ نے بہت کچھ بدل کر رکھ دیا۔ عرب ریاستیں فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے نکالنے کے درپے تھیں مگر اسرائیل سے جنگ ہارنے کے بعد انہوں نے فلسطینیوں کو اپنی سرزمین پر آباد ہونے کی ترغیب دی۔ اس کے بعد فلسطینیوں کی طرف سے فدائی حملوں کا آغاز ہوا۔ جنگ کے میدان میں شکست کھانے والوں نے ڈھکی چھپی جنگ کا سہارا لیا اور بھرپور کوشش کی گئی کہ جو کچھ بھی میدان میں ہارا گیا ہے، اُس کے ازالے کے طور پر اسرائیل کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا جائے۔ اسرائیل کے خلاف فلسطینیوں کے دلوں میں شدید نفرت پیدا ہوئی۔ اردن اور لبنان میں تنظیم آزادی فلسطین ایک اہم عنصر کے طور پر ابھری۔ لبنان پر اسرائیل نے حملہ کیا۔ اس کے بعد فلسطینیوں نے امن کا نعرہ لگایا اور اسرائیل نے دو ریاستوں کے تصور پر آمادگی ظاہر کرنے کا عندیہ دیا۔ مصر کے صدر انور سادات اور اردن کے شاہ حسین نے خود کو فلسطینی کاز سے الگ کیا اور اسرائیل سے تعلقات بہتر بنانے پر آمادگی ظاہر کی۔ اِس کے عوض انہیں امریکا نے بھرپور اقتصادی اور عسکری امداد کی یقین دہانی کرائی۔ یاسر عرفات نے اسرائیل کے وزیر اعظم یزاک رابن سے امن معاہدہ کیا، جس کے عوض انہیں فلسطینی بلدیاتی ادارے چلانے کے لیے رام اللہ واپسی کی اجازت دی گئی۔ اسی دوران اسرائیل کو اندازہ ہوا کہ فلسطینی اب یتیم ہوچکے ہیں۔ انہیں کوئی بھی قبول کرنے اور امداد دینے کو تیار نہیں۔ ان کی طاقت گھٹ گئی تھی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اب ان کے مطالبات کو تسلیم کرنا بھی اسرائیل کی مجبوری نہ رہا۔ دوسری طرف امریکا نے ہر معاملے میں اسرائیل کا بھرپور ساتھ دینا شروع کردیا تاکہ ’’عظیم تر اسرائیل‘‘ کی راہ ہموار کی جاسکے۔ امن مذاکرات کے نام پر فلسطینیوں کو دھوکا دینے کا سلسلہ جاری رہا۔ مذاکرات کی میز پر فلسطینی چند مطالبات پیش کرتے۔ ان مطالبات کے جواب میں اسرائیل فلسطینیوں کے کیمپوں پر مزید بمباری کرتا، مزید تباہی پھیلاتا اور پورے خطے کے لیے مزید عدم استحکام کی راہ ہموار کرتا۔ اسی دوران فلسطینی علاقوں میں یہودیوں کو آباد کرنے کا سلسلہ بھی جاری رہا۔

ایک طرف یہ سب کچھ ہو رہا تھا اور دوسری طرف اسلامی دنیا میں غیر معمولی تبدیلیاں رونما ہو رہی تھیں۔ ایران میں خمینی کی قیادت میں تبدیلی کی لہر آرہی تھی۔ سابق سوویت یونین کمزور پڑتا جارہا تھا جس کے نتیجے میں اس کے کیمپ کے ممالک امریکا اور یورپ کی طرف جھک رہے تھے۔ یہ سب کچھ غیر معمولی تھا۔ عرب دنیا میں بھی سابق سوویت یونین کا اثر و رسوخ گھٹتا جارہا تھا۔ پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ سابق سوویت یونین کا اثر صفر کے مساوی رہ گیا۔

۱۹۸۹ء میں سوویت یونین کی شکست و ریخت واقع ہوگئی۔ اس واقعے نے پوری دنیا پر اپنے اثرات مرتب کیے۔ جو لوگ سوویت بلاک سے جُڑے ہوئے تھے ان کے لیے اب اپنے آپ کو مستحکم رکھنا انتہائی دشوار ہوگیا۔

سوویت یونین کی شکست و ریخت کے بعد امریکا نے نئے ورلڈ آرڈر کو متعارف کرانے کے نام پر پوری عرب دنیا کو عراق کے خلاف کردیا۔ بہانہ یہ گھڑا گیا کہ اِس صورت میں انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے گی۔ اس کے بعد نائن الیون جیسے واقعے کا رونما ہونا لازم تھا۔ پھر افغانستان اور عراق پر جنگ مسلط کردی گئی۔ جارج واکر بش نے یقین دلایا کہ عراق کے خلاف جنگ سے انصاف کی حکمرانی یقینی بنائی جاسکے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ عراق پر تھوپی جانے والی جنگ کے نتیجے میں صرف نا انصافی کا بول بالا ہوا اور نفرت میں اضافہ ہوا۔ یہ سب کچھ اس قدر ہنگامہ خیز تھا کہ اس کے نتیجے میں بہت سی خرابیوں کو پیدا ہونا ہی تھا۔

٭ نائن الیون کے بعد کا دور

نائن الیون کے بعد عراق کو پہلی فرصت میں نشانہ بنایا گیا۔ جارج ہربرٹ بش نے جو کام بہت حد تک کر ڈالا تھا اور اب ایک آنچ کی کسر رہ گئی تھی، وہ کسر اُن کے برخوردار جارج واکر بش نے پوری کردی۔ جو کچھ عراق میں ہوا، اس کے نتیجے میں پوری دنیا میں جہاد کی لہر پیدا ہوئی۔ کئی عرب ممالک میں امریکا اور یورپ کی سازش کے خلاف عوام کے جذبات بھڑک اٹھے۔

٭ عرب بہار کے بعد کا زمانہ

تین سال قبل مصر سے عرب بہار کا آغاز ہوا۔ عوامی بیداری کی لہر نے کئی ممالک کو لپیٹ میں لیا۔ مصر کے بعد لیبیا اور تیونس میں بھی لوگ مطلق العنان حکمرانوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ شام میں جب عوامی بیداری کی لہر اٹھی تو اقلیت کی حکمرانی کو مزید مستحکم کرنے کے لیے روس، چین، ایران اور حزب اللہ ملیشیا کا سہارا لیا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ برآمد ہوا ہے کہ اب شام میں لوگ تین دھڑوں میں تقسیم ہوگئے ہیں۔ یہی کچھ عراق میں بھی تو ہوا تھا۔

عرب بہار کے بعد یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ عرب قوم یا عرب قومیت نام کی کوئی چیز نہیں۔ تمام عرب ممالک کو ایک لڑی میں پرونے کا خواب اب بکھر چکا ہے۔ اب یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ فرقہ واریت اسلامی دنیا کے لیے زہر قاتل ہوچکی ہے اور یہ ایسی حقیقت ہے جس سے نظر چرائی نہیں جاسکتی۔ حزب اللہ نے شام میں حکمرانی عوام کو منتقل ہونے سے روکنے میں جو کردار ادا کیا ہے، اس نے اس ملیشیا کے کٹر حامیوں کو بھی مایوس کیا ہے۔ ایران جیسی انقلابی ریاست ایک بار پھر صفویوں کے ہاتھ میں جاسکتی ہے۔

اسرائیل کا وجود اس لیے برقرار ہے کہ امریکا اور مغرب اپنے مفادات کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے اسرائیل کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔ سوال یہودیت کا نہیں، تزویراتی حقائق کا ہے۔ مغرب اپنے مفادات کو حقیقی تحفظ فراہم کرنے کے لیے علاقے میں وائس ریجنسیز کی تلاش میں ہے۔ ایجنٹس کے بغیر وہ چل نہیں سکتا۔ اس خطے میں مغرب کا اگلا ممکنہ ایجنٹ کردستان ہو سکتا ہے۔ کردستان کا قیام ایران، عراق، ترکی اور شام کو کنٹرول کرنے میں غیر معمولی حد تک معاون ثابت ہوسکتا ہے۔

امریکا اور اسرائیل کی بھرپور کوشش ہے کہ اسلامی دنیا میں جہاں بھی ممکن ہو، مناقشے زندہ رکھو، لوگوں کو آپس میں لڑواتے رہو۔ خلیجی ریاستوں کے حکمرانوں کو زیادہ سے زیادہ تعیش کی نذر کرتے رہو تاکہ ان کی طرف سے کبھی کوئی حقیقی خطرہ پیدا نہ ہو۔

مشرق وسطیٰ اور دیگر خطوں کے مسلم ممالک میں اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے کے لیے ایک ممکنہ ہتھیار رشوت ہوسکتا تھا اور یہ ہتھیار بہت عمدگی سے اور بروقت استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ کرپشن کے ذریعے حکمرانوں اور اُن سے جُڑے ہوئے لوگوں کو ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔ افغانستان اور عراق میں ہونے والی شکست کو امریکا نے اسی طور فتح میں تبدیل کیا ہے۔ ایک طرف تو کھربوں ڈالر بچائے گئے اور دوسری طرف ہزاروں فوجیوں کی جان بچانے میں بھی کامیابی ملی ہے۔

ایسا نہیں ہے کہ امریکا اور یورپ کا سامنا کرنا ناممکن ہے۔ چند ایک تنظیموں نے ثابت کیا ہے کہ اگر نیت درست ہو اور حکمت عملی عمدگی سے ترتیب دی جائے تو بہت کچھ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ طالبان اور آئی ایس آئی ایس نے ثابت کیا ہے کہ ان کے طور طریقے سیاست میں نہیں چل سکتے۔ وہ میدان میں لڑ سکتے ہیں، غیر معمولی سختی کے ساتھ کام کرسکتے ہیں مگر سیاسی انداز اختیار نہیں کرسکتے۔ اگر وہ کبھی اقتدار میں آ بھی جائیں تو لوگ ان کے اقتدار کو کچھ ہی دنوں میں مسترد کرنے میں نجات محسوس کریں گے۔

آئی ایس آئی ایس کے اجزائے ترکیبی بہت حیرت انگیز ہیں۔ اس گروپ میں مغرب کے پروردہ نوجوان بھی شامل ہیں جو مغربی طرز زندگی کے دلدادہ ہیں۔ ساتھ ہی اس میں عراق کی سابق حکمراں جماعت بعث سے تعلق رکھنے والے بہت سے لوگ بھی شامل ہیں۔ عام آدمی مشکل ہی سے یہ حقیقت برداشت کر پائے گا کہ نظریات میں انتہائی اختلاف رکھنے والے ایک پلیٹ فارم پر کیسے جمع ہوسکتے ہیں۔

ایران اپنی راہ سے ہٹ چکا ہے۔ اس نے ماضی میں کشمیر، بوسنیا، چیچنیا، فلسطین اور کوسوو کے مظلوم مسلمانوں کی حمایت کرکے اسلامی دنیا کے دل جیتے تھے۔ مگر شام میں عوام کے خلاف جاکر ایران نے وہ پوزیشن تبدیل کردی ہے۔ ایران نے عراق اور شام میں عوام کے خلاف جانے والوں کا ساتھ دیا ہے۔ تکفیری گروپوں کو مضبوط کرکے اس نے اپنے مفادات کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔

یہ بات بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ سعودی حکمران خاندان حرمین شریفین کا نگہبان اور خادم نہیں ہے۔ اس حکمران خاندان نے دنیا بھر میں ایسے مدارس کو امداد فراہم کی ہے جس نے علم و حکمت کے مخالفین پیدا کیے ہیں۔ ان مدارس سے تعلیم پانے والے ایسے سخت نظریات کے حامل ہوتے ہیں جن میں کسی بھی طرح لچک نہیں ہوتی اور وہ روشن خیالی کی ہر سطح پر شدید مخالفت کرتے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ایران اور سعودی عرب اسلامی دنیا میں مناقشوں کی قیادت کر رہے ہیں۔ ان دونوں کو اب ایک طویل جنگ کی قیادت سے گریز کرنا چاہیے۔ ان کی سرپرستی ہی میں تو مختلف گروپس فرقہ واریت کی بنیاد پر لڑ رہے ہیں۔ اگر یہ بیچ میں نہ ہوں تو بہت سے مناقشے خود بخود ختم ہوجائیں۔

جب غزہ کے تنازع کی گرد بیٹھے گی، تب فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کو اندازہ ہوگا کہ منزل کی طرف جانے والے راستے کون سے ہیں۔ اسرائیل نے دوسری جنگ عظیم کے دوران جن مظالم کا سامنا کیا تھا، اُن کا ڈھول پیٹ پیٹ کر اس نے احساس جرم سے بوجھل یورپ سے بہت سے فوائد بٹورے ہیں۔ مگر اب ان سے ہمدردی ختم ہوتی جارہی ہے۔ لوگ دیکھ رہے ہیں کہ وہ دوسروں کے ساتھ کیا کر رہے ہیں۔ رائے عامہ کے جائزوں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یورپ کو ناپسند کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ امریکا میں بھی رائے عامہ تبدیل ہو رہی ہے۔ وہ دن زیادہ دور نہیں جب امریکی حکمران جماعتیں یہودی لابی کی ہر بات ماننے سے صاف انکار کرنے پر مجبور ہوں گی۔ اب تک یہی ہوتا آیا ہے کہ یہودی لابی کو خوش کرنے کے چکر میں بہت کچھ ہنسی خوشی برداشت کیا جاتا ہے۔ مگر یہ سب کچھ خود بخود نہیں ہوگا۔ فلسطینیوں اور ان کے حامیوں کو اس حوالے سے رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے بہت کچھ کرنا ہوگا۔ شمالی امریکا اور یورپ کے بہت سے شہروں میں جن لوگوں نے غزہ کے باشندوں پر اسرائیلی مظالم کے خلاف مظاہرے کیے، ان میں اکثریت غیر عرب اور غیر فلسطینیوں پر مشتمل تھی۔ یہ سب کے لیے امید اور امکان کی کھڑکی جیسا ہے۔ اگر بھرپور اور بے داغ کوشش کی جائے تو امریکا اور یورپ میں اسرائیل کے خلاف رائے عامہ کو عمدگی سے ہموار کیا جاسکتا ہے۔ مغرب میں رائے عامہ کو تبدیل ہونے سے روکنے کے لیے یہودی تنظیمیں اربوں ڈالر خرچ کر رہی ہیں۔

اگر اسلامی دنیا کو فلسطینی کاز اور دیگر معاملات میں عالمی رائے عامہ ہموار کرنی ہے تو سیاہ فام اور ہسپانکس کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا۔ جب تک مسلمان اپنے پیغام کو زیادہ سے زیادہ لگن اور جذبے سے دوسروں تک نہیں پہنچائیں گے، تب تک معاملات کو درست کرنے میں خاطر خواہ مدد نہیں ملے گی۔ عربوں کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ عرب قوم پرستی کے دن لد گئے۔ اب اس سے آگے جاکر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر مسلمان اپنے کسی بھی کاز کے لیے بھرپور حمایت حاصل کرنا چاہتے ہیں تو انہیں بھی دنیا بھر میں مظلوم اور کچلے ہوئے لوگوں کی حمایت کرنی ہوگی۔ انہیں ثابت کرنا ہوگا کہ وہ ہر مظلوم کے ساتھ ہیں۔

“The crisis of competence in the Middle East: half a century of humiliations”.

(“newageislam.com”. August 27, 2014)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*