بحیرۂ جنوبی چین کا تنازع

پہلی جنگ عظیم میں جرمنی میدان جنگ بنا تھا۔ کئی ممالک کی افواج نے جرمن سرزمین پر اپنا ہنر آزمایا اور پھر یہ لڑائی کئی ملکوں پر پھیلی۔ یہی حال بحیرہ جنوبی چین کا بھی ہے۔ اس خطے میں کئی ممالک کے مفادات ایک دوسرے سے متصادم ہو رہے ہیں۔ سمندری حدود کے تنازعے سے لے کر سمندر کی تہہ میں موجود تیل اور گیس کے ذخائر پر ملکیت کے دعوے تک کئی ممالک بظاہر جنگ لڑنے تک پہنچ چکے ہیں۔ اس موضوع پر کئی کانفرنسیں ہوچکی ہیں۔ مذاکرات کے کئی ادوار ہوئے ہیں۔ ماہرین نے بہت کچھ کہا ہے۔ امریکی جریدے فارن پالیسی کے ستمبر کے شمارے میں رابرٹ کیپلن نے اپنے تجزیے میں لکھا کہ جس طرح جرمنی پہلی جنگ عظیم کا بنیادی میدان بنا تھا بالکل اسی طرح بحیرہ جنوبی چین بھی مستقبل میں ایک بڑی جنگ کا میدان بنے گا۔

رابرٹ کیپلن کی بات درست معلوم ہوتی ہے کیونکہ بحیرہ جنوبی چین کا تنازع فی الحال حل ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ مگر ایک بات طے ہے اور وہ یہ کہ بحیرہ جنوبی چین کا تنازع بین الاقوامی تنازعات کا باعث نہیں بن سکا ہے اور اس حوالے سے امریکا اور چین کے مفادات کا تصادم بھی کوئی ممکن چیز نظر نہیں آتی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سمندری خطہ سرد جنگ کی سی کیفیت بھی پیدا نہیں کر رہا۔ سینٹر فار نیو امریکن سیکورٹی کی ایک حالیہ اسٹڈی ’’کو آپریشن فرام اسٹرینتھ‘‘ میں بتایا گیا ہے کہ امریکا بحیرہ جنوبی چین کو خطے میں ملٹری بلڈ اپ کے لیے جواز کے طور پر استعمال کرسکتا ہے۔ بعض چینی تجزیہ کار خود کو بحیرہ جنوبی چین میں سرد جنگ کے سپاہیوں کی حیثیت سے دیکھنے لگے ہیں۔

جنوری کے آخر میں فلپائن نے امریکا سے وسیع تر دفاعی تعاون کے لیے بات چیت کی۔ امریکا نے فلپائن کی دفاعی صلاحیت مستحکم کرنے اور مشترکہ مشقوں کا دائرہ وسیع کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ اس پر چین کا ردعمل شدید رہا ہے۔ فلپائن کے ساتھ مل کر امریکا خطے میں اپنی عسکری موجودگی بڑھانا چاہتا ہے۔ بحیرہ جنوبی چین کے حوالے سے چین اور فلپائن کے درمیان بھی تنازع پایا جاتا ہے۔ ماہرین نے چین کے ردعمل کو تنازعات کا شاخسانہ قرار دیا ہے۔ امریکا نے فلپائن سے عسکری تعاون بڑھانے کی بات کی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ ملائیشیا کو ناراض کرنا چاہتا ہے۔ ملائیشیا اور فلپائن کے درمیان بھی بورنیو کے حوالے سے تنازع پایا جاتا ہے۔ ملائیشیا کی شمولیت سے گریز کا واضح مطلب یہ ہے کہ امریکا صرف چین کو منہ دینا چاہتا ہے۔ چین کے اخبار گلوبل ٹائمز نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا ہے کہ فلپائن کے خلاف پابندیاں عائد کی جائیں۔ ویسے تو کئی ممالک کے ساتھ چین کے سرحدی تنازعات ہیں اور سمندری حدود کے معاملات بھی الجھے ہوئے ہیں تاہم فلپائن کے ساتھ اس کا تنازع خاصا متحرک ہے۔

فلپائن کو اپنا دفاع مستحکم رکھنے کی خاطر امریکا سے اشتراک عمل کی خاصی بھاری قیمت ادا کرنا پڑی ہے۔ دسمبر میں فلپائن کے مغربی سمت سمندر میں تین چینی جہازوں کی دخل اندازی کے خلاف کارروائی اور احتجاج کو چینی حکومت نے بظاہر نظر انداز کیا جس پر فلپائن کی حکومت کا سیخ پا ہونا فطری امر تھا۔ بحیرہ جنوبی چین پر فلپائن اور تائیوان کی جانب سے ملکیت کا دعویٰ پرانا ہے۔ اس سلسلے میں ایک پرانے نقشے کا حوالہ بھی دیا جاتا ہے۔ چین نے ۱۹۷۴ء میں یکطرفہ کارروائی کرتے ہوئے اپنے جنوب میں واقع سمندر پر تسلط قائم کیا۔ شمال میں پیریسل چین پر ویت نام کا بھی دعوٰی ہے۔ اس سمندر کے جنوبی حصے پر ملائیشیا، فلپائن اور برونائی کے مشترکہ دعوے ہیں۔

سمندری حدود کے حوالے سے بحیرہ جنوبی چین میں تنازعات سر اٹھاتے رہے ہیں اور جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔ ۱۹۸۸ء میں چین اور ویت نام کے درمیان اور ۱۹۹۵ء میں چین اور فلپائن کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ امن کے زمانے میں بالعموم ان پانیوں پر اجارہ داری کے دعوے مختلف چھوٹے چھوٹے تنازعات کی شکل میں نمودار ہوتے ہیں۔ کبھی ملٹری بلڈ اپ کا اشارہ دیا جاتا ہے اور کبھی فشنگ ٹرالر یا تیل کی تلاش میں جتے ہوئے جہازوں کو دھمکاکر معاملات کشیدہ کیے جاتے ہیں تاہم یہ سب کچھ سفارت کاری کے میدان میں ہوتا ہے۔

معاشی اعتبار سے بحیرہ جنوبی چین بہت اہم ہے اس لیے کئی ممالک کا بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے۔ کوئی بھی ملک اپنے مفادات سے دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں۔ نصف بین الاقوامی تجارت اس بحری راستے سے ہوتی ہے۔ دنیا بھر میں پکڑی جانے والی مچھلی کا دس فیصد اس خطے سے تعلق رکھتا ہے۔ اگر تجارتی اور تزویراتی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو بحیرہ جنوبی چین کا علاقہ حساسیت کے اعتبار سے خلیج فارس بنتا جارہا ہے۔ چین بھی سمجھتا ہے کہ اس کے لیے یہ خطہ تیل کی سپلائی اور بین الاقوامی تجارت کے حوالے سے کس قدر اہم ہے۔

امریکا ایشیا بحرالکاہل کے خطے میں جو کچھ کر رہا ہے اس سے چین کے لیے خدشات کا پیدا ہونا فطری امر ہے۔ گزشتہ نومبر میں امریکا نے آسٹریلیا کے شہر ڈارون میں اپنے میرینز کو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے کو چین نے امریکا کی جانب سے اس کی طاقت کو کنٹرول کرنے کے اقدام کے روپ میں دیکھا ہے۔ دوسری طرف امریکا فلپائن، ویت نام اور دیگر چھوٹے ممالک سے عسکری معاہدے کرکے چین پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ امریکا کی شہہ پر بہت جلد ویت نام اور فلپائن بحیرہ جنوبی چین سے تیل نکالنا بھی شروع کردیں۔ اگر ایسا ہوا تو چین کے لیے اپنے اشتعال پر قابو پانا بہت دشوار ہوگا۔

چین کی جانب سے ملنے والے اشارے بھی کم خطرناک اور پریشان کن نہیں۔ چین نے اب تک سمندری حدود کا تنازع حل کرنے پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی۔ وہ جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک کی تنظیم آسیان میں اپنے پڑوسیوں سے بات چیت کے موڈ میں نہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ سمندری حدود کا تنازع ہر ملک سے الگ الگ طے کرنا چاہتا ہے۔ اس صورت میں چھوٹے ممالک اپنی کوئی بھی بات منوانے میں خاطر خواہ حد تک کامیاب نہیں ہو پائیں گے۔ ویت نام اور فلپائن سے حالیہ تنازعات نے صورت حال کو نازک بنادیا ہے۔ جولائی میں چین نے آسیان کے تحت ۲۰۰۲ء میں طے پانے والے ایک معاہدے پر عملدرآمد کے لیے گرین سگنل دیا۔ فلپائن اور ویت نام کے ساتھ معاملات درست کرنے کی سمت یہ اہم قدم تھا مگر بات زیادہ آگے نہ بڑھ سکی۔ تب آسیان کا سربراہ انڈونیشیا تھا۔ اب کمبوڈیا ہے۔ آسیان کے آئندہ دو سربراہ ملائیشیا اور برونائی ہیں۔ دونوں ہی بحیرہ جنوبی چین کے معاملات کو پھر اُٹھاکر چین کو ناراض کرنے کا خطرہ مول نہیں لیں گے۔

جولائی میں جس کامیابی کے دعوے کیے گئے تھے وہ اب کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ کوئی ایسا میکینزم بھی نظر نہیں آتا جس سے یہ امید ہو کہ بحیرہ جنوبی چین سے متعلق تنازعات حل ہوسکیں گے۔ تمام چھوٹے ممالک اپنی دفاعی صلاحیت بہتر بنانے پر بہت کچھ خرچ کر رہے ہیں مگر چین زیادہ پریشان دکھائی نہیں دیتا۔ اسے یقین ہے کہ غیر معمولی عسکری قوت کے ذریعے وہ بہت جلد ان تمام ممالک پر اپنا حکم چلانے کی پوزیشن میں ہوگا۔ امریکا کے لیے اپنے عسکری اور تجارتی مفادات کی خاطر اب ایشیا بحرالکاہل کے خطے میں زیادہ متحرک اور سرگرم ہونا ناگزیر ہوگیا ہے۔ اور چین بھی بظاہر امریکی اثرات کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے کیونکہ اسے یہ بات فطری معلوم ہوتی ہے کہ امریکا خطے میں متحرک ہو اور تنازعات کے حل میں اہم کردار ادا کرنے کی خواہش کو عملی جامہ پہنائے۔

(“The Devil in the Deep Blue Detail”.
“The Economist” London. Feb. 4th, 2012)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*