Abd Add
 

مستقبل کی افغان ریاست اور طالبان | 3

اسلامی ریاست میں زندگی کس طور کی ہوگی؟

٭ انٹرویوز سے یہ بات بھی واضح ہوئی کہ معاشرت کے حوالے سے طالبان کی سرکردہ شخصیات کے خیالات میں تبدیلی آئی ہے۔ یہ سب کچھ ۱۹۹۰ء کے عشرے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات کا نتیجہ ہے۔ طالبان کے بیشتر قائدین ایک عشرے سے بھی زائد مدت سے پاکستان اور خلیج میں رہے ہیں۔ اس سے ان کی سوچ میں وسعت پیدا ہوئی ہے۔ معاملات کو سمجھنے اور اس حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کرنے کی ان کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔

طالبان کی بہت سی شخصیات نے مزید تعلیم حاصل کی ہے۔ ان کا مطالعہ وسیع ہوا ہے جس کے نتیجے میں سوچ بھی گہری اور پختہ ہوئی ہے۔ متعدد اہم موضوعات پر خیالات کے تبادلے سے بھی ان کی سوچ میں مثبت تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں یعنی اب وہ دوسروں کی بات کو زیادہ آسانی سے قبول کرتے ہیں اور اپنی بات پر بلا ضرورت زور دیتے رہنا ضروری محسوس نہیں کرتے۔ ذہن کی وسعت ممکن بنانے کے ساتھ ہی انہوں نے اسلام کی تعبیر و تشریح کے حوالے سے نئی سوچ بھی اپنائی ہے۔ ان کے مزاج میں وہ لچک پیدا ہوئی ہے جو ایسے معاملات میں لازم ہوا کرتی ہے۔

٭ طالبان میں بہت سے ہیں جو اب یہ سمجھتے ہیں کہ داڑھی نہ بڑھانے یا اسلامی اصولوں سے مکمل مطابقت نہ رکھنے والا لباس پہننے پر سزا دینا اور لڑکیوں کے اسکول بند کردینا انتہائی اقدامات تھے اور نہیں کیے جانے چاہیے تھے۔ اسی طور ٹی وی اور دیگر ذرائع ابلاغ کے بارے میں بھی ان کی سوچ تبدیل ہوئی ہے۔

٭ صنفی یا جنسی تفاوت کے حوالے سے طالبان کے خیالات میں کچھ زیادہ تبدیلی رونما نہیں ہوئی۔ وہ اب بھی اس بات پر قائم ہیں کہ مرد و زن کی دنیائیں الگ الگ ہیں۔ اور یہ کہ انہیں اپنے اپنے دائرۂ کار میں رہتے ہوئے کام کرنا چاہیے۔

مجموعی طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ چند بنیادی معاملات میں طالبان نے وسیع تر سوچ اپنائی ہے۔ وہ سمجھنے، سوچنے اور اپنی بات کو بہتر اور قابل قبول انداز سے بیان کرنے کے معاملے میں مثبت رجحانات کے حامل ہوئے ہیں۔ اسلام کی بنیادی تعلیمات کے حوالے سے ان کی سوچ تقریباً وہی ہوگئی ہے جو پاکستان اور مصر جیسے ممالک کی مذہبی سیاسی جماعتوں میں پائی جاتی ہے۔

سرکردہ طالبان شخصیات سے انٹرویوز کے ذریعے سے یہ بات سامنے آئی کہ طالبان کی سیاسی صفوں میں اب معاملات بہتر ہیں۔ لبرل فورسز کو بھی بہت حد تک قبول کیا جاسکتا ہے مگر اس کے باوجود مذاکرات میں پیچیدگی کا پیدا ہونا خارج از امکان نہیں۔

تعارف

۲۰۰۱ء میں امریکا میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور محکمہ دفاع کی عمارت پر حملوں کے بعد جو صورت حال پیدا ہوئی اس کے حوالے سے طالبان کی مرکزی قیادت اپنی رائے کا اظہار کرتی رہی ہے مگر جنہیں عملی سطح پر اپنایا جاسکے ایسی تجاویز اُس نے شاذ و نادر ہی دی ہیں۔ طالبان کے ہاں شرعی اصولوں کے تحت قائم کی جانے والی ریاست کا تصور بھی خاصا مبہم اور دوسروں کے لیے قدرے ناقابل قبول ہے۔ غیر ملکی فورسز کے مکمل انخلا کے بعد افغانستان میں ریاستی ڈھانچا کیسا ہونا چاہیے، اس حوالے سے بھی طالبان کے تصورات اب تک غیر واضح ہیں۔ سیاسی ونگ کے لوگ خواہ کچھ سوچیں اور کہیں، جو لوگ غیر ملکی افواج اور افغان فورسز سے لڑ رہے ہیں، ان کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ ملک میں کسی بھی نئے ریاستی ڈھانچے کو اپنانے اور استحکام لانے کے لیے لازم ہے کہ غیر ملکی افواج ملک چھوڑ دیں۔ ۲۰۰۷ء طالبان کے ڈپٹی لیڈر ملا برادر نے بھی کہا تھا کہ ابھی کچھ کہا نہیں جاسکتا، وقت آئے گا تو دیکھیں گے۔ طالبان کی بیشتر سرکردہ شخصیات یہی کہتی ہیں کہ ابھی پورے یقین اور وثوق سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

طالبان کی اہم شخصیات سے سیر حاصل گفتگو کے ذریعے ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ تین بنیادی سوالوں کے ان کے پاس کیا جواب ہیں۔ ہم نے میڈیا کو جاری کیے جانے والے ان کے بیانات اور دستاویزات کی مدد سے بھی بہت کچھ جاننے اور کسی نتیجے تک پہنچنے کی کوشش کی ہے۔ اول یہ کہ غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد ابھرنے والے ریاستی ڈھانچے میں کن کن لوگوں کو انتظامی مشینری کا حصہ بنایا جائے گا۔ دوم یہ کہ غیر ملکی افواج کے مکمل انخلا کے بعد ریاستی ڈھانچے کی شکل کیا ہوگی۔ اور سوم یہ کہ اس نئی ریاست کا ایجنڈا کیا ہوگا یعنی بنیادی حقوق، شہری آزادیوں، حقوق نسواں، تعلیم اور صحت کے حوالے سے کیسی سوچ اپنائی جائے گی۔

Leave a comment

Your email address will not be published.


*