Abd Add
 

مستقبل کی افغان ریاست اور طالبان | 4

چوتھی قسط

سیاسی ونگ سے جامع گفتگو

طالبان کے سیاسی ونگ سے تعلق رکھنے والی شخصیات کے خیالات اور نظریات جاننے کے لیے ۱۹ شخصیات سے انٹرویو کیے گئے۔ ان میں سے ایک شخصیت کا چونکہ طالبان سے کسی بھی قسم کا کوئی تعلق نہیں تھا اس لیے اس کے خیالات اس رپورٹ میں شامل نہیں کیے گئے۔ اسی طور جن دو دو شخصیات نے دوسروں کے خیالات کی محض تصدیق کی اور اپنے خیالات کے اظہار سے اجتناب برتا ان کی باتیں بھی اس رپورٹ کا حصہ نہیں بنائی گئیں۔

زیر نظر رپورٹ میں جن ۱۶ شخصیات سے کیے جانے والے انٹرویوز کے مندرجات پیش کیے جارہے ہیں ان کی شناخت پوشیدہ رکھی گئی ہے، تاہم انگریزی کے دو حروف پر مبنی نام ہر ایک کو ضرور دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ یہاں ان کا مختصر تعارف بھی کرایا جارہا ہے تاکہ قارئین اس شخصیت کے بارے میں تھوڑا بہت اندازہ ضرور لگائیں۔

وائی ایم ۔۔۔ یہ طالبان کے سیاسی دفتر (قطر) کے ایک رکن ہیں۔ طالبان کے تحت قائم اسلامی امارت میں انہیں امور خارجہ سے متعلق اہم منصب سونپا گیا تھا۔

ایس این ۔۔۔ یہ قطر میں واقع سیاسی دفتر کے رکن ہیں مگر ان کا طالبان کے حوالے سے کوئی سابق پس منظر نہیں۔

بی کے ۔۔۔ سابق سفارت کار ہیں۔ قطر میں دفتر کے قیام سے قبل یہ امن کوششوں کے حوالے سے خاصے متحرک تھے۔ اب قطر میں مقیم ہیں۔

ایل ایم ۔۔۔ اس وقت طالبان کے سیاسی دفتر (قطر) سے وابستہ ہیں۔ سابق رکن نہیں۔ طالبان کی قیادت میں شامل بیشتر شخصیات سے خاندانی مراسم ہیں۔

ایم ایچ ۔۔۔ یہ صاحب پاکستان سے طالبان کے میڈیا آپریشنز چلانے میں معاونت کرتے رہے ہیں۔ اسلامی امارت کے دور میں بھی ان کی ایسی ہی پوزیشن تھی۔

سی ایچ ۔۔۔ ان کا تعلق طالبان کے میڈیا آرم سے ہے۔ امارت کے دور میں میڈیا آفیشل تھے۔ طالبان کی سرکردہ شخصیات سے ان کے خاندانی مراسم ہیں۔

بی ایس ۔۔۔ پاکستان میں مقیم ہیں۔ تعلق طالبان کے میڈیا آرم سے ہے۔ میڈیا میں اور عوامی سطح پر دانش ورانہ یکسوئی کے ساتھ طالبان کا موقف بیان کرنے میں یہ پیش پیش رہے ہیں۔ طالبان کے چند میڈیا آؤٹ لیٹس چلانے میں بھی معاونت کرتے رہے ہیں۔

اے ایم ۔۔۔ یہ طالبان قیادت سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیت ہیں۔ امارت کے دور میں کلیدی وزیر رہے۔ حالیہ امن کوششوں میں انہوں نے غیر معمولی معاونت کی ہے۔

ڈی ایف ۔۔۔ سابق سفارت کار ہیں۔ اب افغان حکومت کی طرف سے طالبان قیادت سے روابط استوار رکھے ہوئے ہیں تاکہ مصالحت کا عمل تیز ہو۔

پی ڈی ۔۔۔ مذہبی لیڈر ہیں۔ امارت کے دور میں وزیر رہے۔ نظریاتی ونگ سے وابستہ، شریعت سے متعلق توضیح کا فریضہ انجام دیتے رہے ہیں۔ افغان حکومت سے مصالحت کرانے کے معاملے میں طالبان سے رابطے میں رہتے ہیں۔

این ڈبلیو ۔۔۔ ملا عمر کے دفتر میں کام کرتے رہے ہیں۔ قندھار میں طیب آغا سے ان کا قریبی تعلق تھا۔ اب آزاد اور غیر جانبدار حیثیت رکھتے ہیں، تاہم طالبان سے روابط ہیں، بالخصوص جنوب مشرقی افغانستان میں۔

ایل اے ۔۔۔ طالبان کے بانی ارکان میں سے ہیں۔ اب باضابطہ رکن تو نہیں ہیں تاہم طالبان کی اہم شخصیات سے رابطے میں رہتے ہیں۔

ایس ایچ ۔۔ سابق نائب وزیر ہیں۔ میڈیا سے روابط ہیں۔

ڈبلیو ڈبلیو ۔۔ وزارتِ خارجہ کے سابق افسر ہیں۔ مصالحت کے حوالے سے طالبان کی اعلیٰ قیادت سے رابطے میں ہیں۔

آر زیڈ ۔۔۔ سول سوسائٹی کی اہم شخصیت ہیں۔ طالبان کے ایک کمانڈر کے قریبی رشتہ دار ہیں۔

ایم کیو ۔۔۔ طالبان کمانڈر ہیں۔ اب دنڈ، قندھار میں سکونت اختیار کرچکے ہیں۔

حدود کا اعتراف

اس رپورٹ کی تیاری کے لیے جو طریق کار اختیار کیا گیا اُس میں تین بنیادی خامیاں رہ گئی ہیں۔

٭ انتخاب میں جانبداری کا ارتکاب ہوگیا۔ صرف ان طالبان کا انٹرویو کیا گیا ہے جو دوسروں کو قبول کرنے کا مزاج رکھتے ہیں۔

٭ بیشتر شخصیات کا تعلق سیاسی ونگ سے ہے۔ غیر عسکری شخصیات سے بات کرنے کے باعث یہ معلوم کرنا انتہائی دشوار ہوگیا کہ جو لوگ اب تک میدان میں ہیں، یعنی غیر ملکی افواج اور افغان فورسز سے برسر پیکار ہیں وہ کیا سوچتے ہیں اور مستقبل کے افغانستان کے بارے میں ان کی رائے کیا ہے۔ انٹرویوز کے دوران بیشتر شخصیات نے تسلیم کیا کہ عسکری ونگ کی کھڑی کی ہوئی مشکلات تنظیمِ طالبان کے پورے ڈھانچے کو بھی متاثر کرتی ہیں۔ جو کچھ ان انٹرویوز میں بیان کیا گیا ہے اُسے طالبان کی نمائندہ سوچ سمجھ کر قبول نہیں کیا جاسکتا۔ عسکری ونگ والوں کی ٹھوس رائے سامنے نہیں آسکی۔

اقتدار میں شراکت : کون موافق ہے؟

آیے، اقتدار میں شراکت کے حوالے سے طالبان کی تاریخ کا جائزہ لیں۔

۱۹۹۰ء کے عشرے میں طالبان نے سابق مجاہدین کے ایک گروپ سے گفت و شنید کی مگر بات نہ بنی۔ طالبان اور دیگر نے مل کر کوشش کی، مگر ۲۰۰۱ء تک معاملات زیادہ تبدیل نہ ہوئے۔ طالبان کی اہم شخصیات نے اپنے انٹرویو اور چند حالیہ بیانات میں تسلیم کیا ہے کہ سیاسی اجارہ داری سب کچھ تباہ کر دیتی ہے۔ طالبان قیادت سے تعلق رکھنے والے ارکان نے بھی اب جدید دور کے تقاضوں کو سمجھنا اور نبھانا شروع کردیا ہے۔

انٹرویوز میں طالبان کی اہم شخصیات نے اسلامی امارت کے دور میں اقتدار میں شراکت کے حوالے سے کیے جانے والے تجربات یا کوششوں کے بارے میں بتایا۔ انہوں نے تین خطوط پر اپنے خیالات بیان کیے۔

٭ اسلامی امارت چاہتی تھی کہ مستقبل میں اقتدار میں شراکت کا ڈھانچا تیار کرنے کے حوالے سے کوئی وسیع البنیاد معاہدہ ہو جائے۔ کابل میں وزراء کونسل بنائی گئی مگر ابتدائی مرحلے میں نگراں حکومت تشکیل دی گئی تھی۔ وزراء کی حیثیت نگراں کی ہوگی۔ اسلامی امارت نے اس اتفاق رائے کے ساتھ کام شروع کیا کہ سیاسی حریفوں کو بھی ایڈجسٹ کیا جائے گا اور اگر اس کے لیے چند ایک ’’اپنوں‘‘ کو وزراء کونسل سے نکالنا بھی پڑا تو ایسا کرنے سے گریز نہیں کیا جائے گا۔

٭ انٹرویوز میں بتایا گیا کہ کئی مواقع پر اقتدار میں دوسروں کو بھی شریک کیا گیا۔ ۱۹۹۹ء کی کابینہ میں طالبان سے نظریاتی اختلاف رکھنے والوں کو بھی شریک کیا گیا۔ پس منظر بتاتا ہے کہ طالبان کی قیادت اپنے گروپ یا حلقے سے کہیں آگے بڑھ کر دوسروں کو اپنانا اور احترام سے نوازنا چاہتی تھی۔ طالبان نے ۱۹۹۴ء سے ۱۹۹۶ء کے دوران حکومت کو غیر معمولی حد تک وسیع البنیاد بنانے کی کوشش کی۔ اس کے لیے خوست میں جلال الدین حقانی، کابل میں حرکت انقلابی کے سربراہ مولوی محمد نبی، حرکت انقلابی کے نمائندوں منصور (پشاور)، زرمت (پکتیا) اور حزب اسلامی (خالص گروپ) کے مولوی یونس خالص سے بات چیت کی گئی۔

٭ شمالی اتحاد اور شیعہ جماعتوں سے بھی معاملات طے کرنے کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔ ۱۹۹۶ء سے ۲۰۰۰ء کے دوران متعدد مواقع پر احمد شاہ مسعود اور برہان الدین ربانی سے رابطہ کرکے اقتدار میں شراکت پر بات چیت کی گئی۔ اسی طور ۱۹۹۸ء سے ۲۰۰۰ء تک شمالی اتحاد کے ازبک جنگجو رہنما عبدالرشید دوستم سے بھی معاملات درست رکھنے کی کامیاب کوشش کی گئی۔ یہ سب کچھ اس حقیقت کے باوجود ممکن ہوا کہ ۱۹۹۷ء میں عبدالرشید دوستم کے منحرف کمانڈر جنرل مالک سے بھی طالبان نے مذاکرات کیے۔ ان مذاکرات کے نتیجے میں جو معاہدہ طے پایا اس کی بنیاد ہی پر طالبان مزارِ شریف میں داخل ہو پائے۔ مگر کچھ ہی دنوں کے بعد جنرل مالک پلٹ گئے۔ انہوں نے طالبان سے کیے ہوئے معاہدے کو نظر انداز کرتے ہوئے طالبان کے خلاف ہتھیار اٹھالیے۔ تنظیم طالبان کے ہزاروں کارکن مارے گئے اور چند سرکردہ شخصیات کو قید کرلیا گیا۔ جنرل مالک کی طرف سے اس نوعیت کی غداری کو بنیاد بناکر طالبان میں اعلیٰ سطح کی شخصیات نے مذاکرات کی مخالفت شروع کردی۔ جنرل مالک کے ساتھیوں کا کہنا تھا کہ طالبان نے وعدہ خلافی کی تھی۔ انہوں نے جنرل مالک کو محض نائب وزیر دفاع بنایا جبکہ وہ شمالی افغانستان کا کنٹرول چاہتا تھا۔

شمالی اتحاد سے اسی سال پھر بات چیت شروع کی گئی۔ پی ڈی نے بتایا کہ طالبان برہان الدین ربانی کو وزراء کونسل کا سربراہ بنانے کے لیے تیار تھے مگر بات نہ بن سکی۔

مارچ ۱۹۹۷ء میں اشک آباد میں مذاکرات میں شریک اے ایم نے بتایا کہ ملا عمر قیادت چھوڑنے کے لیے بھی تیار تھے۔ مگر پھر مجموعی سپریم لیڈر کے حوالے سے اختلافات شروع ہوئے۔ سابق مجاہدین نے اس بات پر اصرار کیا کہ سابق بادشاہ ظاہر شاہ کو نگراں حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے لایا جائے۔ اسی صورت وسیع البنیاد حکومت کی راہ ہموار ہوگی۔ مسئلہ یہ تھا کہ ظاہر شاہ مذہبی رہنماؤں سے الرجک تھے۔ وہ ایسی حکومت نہیں بنا سکتے تھے جس میں معاشرے کے ہر طبقے اور جماعت کی نمائندگی ہو۔

ان تمام باتوں سے عمومی تاثر یہ ابھرتا ہے کہ طالبان کی قیادت اقتدار میں دوسروں کو شریک کرنے پر آمادہ تھی۔ ایک حد تک یہ بات درست بھی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ طالبان قیادت کلیدی معاملات کسی اور کے حوالے کرنے کے لیے تیار نہ تھی۔ فوج کی تشکیل کے معاملے میں وہ کسی پر زیادہ بھروسہ کرنے کو تیار نہ تھی اور اوامر و نواہی کی وزارت سے متعلق معاملات بھی کسی کو سونپنا نہیں چاہتی تھی۔ اگر کبھی کوئی کلیدی منصب کسی ’’غیر‘‘ کو دیا بھی جاتا تھا تو اس کی کوئی واضح سیاسی شناخت نہیں ہوتی تھی۔

جب طالبان نے سب کو کھلے دل نے اپنایا تو قول و فعل کا تضاد پیدا ہوا اور ان کی حکومت کا سیاسی جواز دب کر رہ گیا۔ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ افغانستان قومی ریاست ہے۔ طالبان نے بھی اِسے قومی ریاست ہی کے طور پر برتنے کی کوشش کی۔ کابل میں وہی حکومت تادیر قائم رہ سکتی تھی جس میں معاشرے کے ہر طبقے کی بھرپور نمائندگی ہو اور اقتدار میں سب کا حصہ وہی ہو جو ہونا چاہیے۔ طالبان نے دوسروں کو اقتدار میں شریک کرنے کی بات ضرور کی مگر شریک کرنے کا عمل خاصا نیم دلانہ تھا۔

ڈی ایف نے بتایا کہ جاگیر داری اور جنگجوئی کو محض چند مراعات دے کر یا سب کو ملاکر چلنے والا نظام بناکر ختم نہیں کیا جاسکتا۔ جاگیردار اور جنگجو رہنما موقع ملتے ہی اپنی طاقت بحال کرنے اور اس میں اضافہ یقینی بنانے میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ اگر ملک کو مستحکم رکھنا ہے تو ایک ایسا نظام لانا ہوگا جس پر سب کا اتفاق ہو اور جنگجو رہنماؤں یا جاگیر داروں کو پنپنے کا زیادہ موقع نہ ملے اور وہ ریاست کو چیلنج کرنے کی پوزیشن میں نہ آسکیں۔ شدید انتشار کی حالت میں کوئی بھی ریاست اسی طور تعمیر و ترقی کے مراحل سے گزرتی ہے۔

پی ڈی نے بتایا کہ طالبان نے جو حکومت قائم کی تھی وہ انقلابی نوعیت کے اقدامات پر یقین رکھتی تھی اور اس کا ایک ٹھوس سبب بھی تھا۔ ملک میں کوئی باضابطہ اور بھرپور حکومت نہ تھی۔ ریاستی مشینری بھی خاصی کمزور ہوچکی تھی۔ ایسے میں صرف ان کے ساتھ کام کیا جاسکتا تھا جن پر پورا بھروسہ تھا۔ اور جو بھی رکاوٹ اٹھ کھڑی ہوتی تھی اسے ہٹانے ہی کا سوچا جاتا تھا۔ اور یہ سب کچھ اس وقت تک کیا جانا تھا جب تک انتشار ختم نہ ہو جاتا اور ملک میں نظم مکمل طور پر بحال نہ ہو جاتا۔

جو کچھ طالبان قیادت نے کیا اس کے نتیجے میں شدید دورنگی اور دو رخی کیفیت پیدا ہوئی۔ اسلامی امارت کے تحت تمام گروپوں سے بات ضرور کی گئی مگر انہیں اقتدار میں حقیقی شراکت سے ہمکنار کرنے میں زیادہ دلچسپی نہیں لی گئی۔ سیاسی اور نظریاتی اختلاف رکھنے والی سرکردہ شخصیات کو چند ایک آفرز ضرور کی گئیں مگر وہ محدود نوعیت کی تھیں۔ برہان الدین ربانی کو وزارتِ عظمٰی کی پیشکش ضرور کی گئی مگر کلیدی وزارتیں دینے سے صاف انکار کردیا گیا۔

ملا عبدالسلام ضعیف نے بتایا کہ وہ جب احمد شاہ مسعود سے ملاقات کے لیے روانہ ہو رہے تھے تب طالبان کے امیر ملا عمر نے کہا کہ فوج کی تشکیل اور اس کے کنٹرول جیسے اہم معاملات میں احمد شاہ مسعود کو شریک نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے خیال میں ایسا کرنا مسائل کو سلجھانے کے بجائے مزید الجھا دے گا۔ احمد شاہ مسعود کا کہنا تھا کہ سوویت افواج کو ملک سے نکالنے میں انہوں نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے اس لیے فوج کی تشکیل جیسے اہم معاملے میں انہیں بھی شریک کیا جانا چاہیے۔ طالبان قیادت نہ مانی اور بات نہ بن سکی۔ ملا عمر اس موقف سے ہٹنے کو تیار نہ ہوئے کہ جامع اور مستعد فوج کے لیے واحد اور متفقہ کمانڈ کی ضرورت ہے۔

Leave a comment

Your email address will not be published.


*