Abd Add
 

مستقبل کی افغان ریاست اور طالبان

چھٹی اور آخری قسط

یہ رپورٹ سینٹر آن انٹرنیشنل کوآپریشن (CIC) کی تیار شدہ ہے۔ CIC نیویارک یونیورسٹی کے شعبۂ سماجی اور سائنسی علوم کے تحت قائم تحقیقی مرکز ہے۔ CIC کی ویب گاہ کے مطابق اِس کا بنیادی مقصد عالمی تنازعات اور مسائل میں بین الاقوامی تعاون اور اشتراکِ عمل کو فروغ دینا ہے۔ CIC آسٹریلیا، برازیل، انڈیا، چائنا، قطر، دبئی، امریکا اور یورپ سمیت دنیا بھر کے تحقیقی مراکز اور مجلسِ دانش وراں (Think Tank) سے قریبی تعلقات رکھتی ہے۔


کس کا اسلام؟

ایک بنیادی سوال یہ بھی ہے کہ اسلام کی کون سی تعبیر و تشریح قبول کی جائے۔ کیا وہی اپروچ اپنائی جائے جو تحریک طالبان سے وابستہ افراد نے دورِ امارت میں اپنائی تھی؟ اسلام کی تعبیر و تشریح بنیادی مسئلہ ہے جس کا حل کیا جانا ہر اعتبار سے ناگزیر ہے۔

استثناء کی حالت

جب بھی طالبان کے سامنے دورِ امارت کے سخت اور غیر لچک دار قسم کے اقدامات کی بات کی جاتی ہے تو وہ یہ کہتے ہیں کہ بہت کچھ ایسا تھا جو مخصوص حالات کی بنیاد پر کیا گیا۔ یعنی یہ کہ طالبان نے بہت کچھ اپنی مرضی سے نہیں کیا بلکہ حالات کا تقاضا ہی ایسا تھا کہ یہ سب کرنا پڑا۔ گرلز اسکولز کی بندش، ٹی وی سیٹ رکھنے اور ٹی وی کی نشریات دیکھنے پر پابندی اور امر بالمعروف کا محکمہ … ان تمام امور پر وضاحت پیش کرتے رہنا آج بھی تحریک طالبان کے لیے بہت بڑا دردِ سر ہے۔

تحریک طالبان سے وابستہ شخصیات کہتی ہیں کہ جو کچھ بھی ۱۹۹۶ء سے ۲۰۰۱ء کے دوران کیا گیا اسے بہتر طور پر سمجھنے کے لیے اس دور کے حالات کو اچھی طرح سمجھنا پڑے گا۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ سوویت افواج کے انخلا کے بعد مجاہدین آپس میں بھی لڑے تھے۔ اقتدار کے لیے کشمکش طول پکڑتی گئی اور بہت سے گروپ آپس میں لڑتے رہنے سے کمزور پڑے اور پھر تقریباً ختم ہوگئے۔ تحریک طالبان کو دور امارت میں شمالی محاذ پر زیادہ متوجہ ہونا پڑا تھا۔ شمالی اتحاد نے وسائل پر قبضہ کر رکھا تھا اور ریاست کی عملداری کو چیلنج بھی کیا تھا۔ اسے کنٹرول کرنے کی کوشش میں جنوب اور مشرق میں بہت سے علاقوں پر اس حد تک توجہ نہیں دی جاسکی جس حد تک دی جانی چاہیے تھی۔ اور پھر یہ بات بھی تھی کہ تحریک طالبان سیاسی اعتبار سے بہت کمزور تھی۔ وہ افغان سیاست میں نوزائیدہ بچے کی سی حیثیت رکھتی تھی۔ ایسے میں اقتدار ہاتھ میں آجانا اس کے لیے بہت سی پیچیدگیوں کا باعث بھی بنا تھا۔ تحریک طالبان اقتدار پانے کے بعد ایسا بہت کچھ نہ کر پائی جو کیا جانا چاہیے تھا۔

۱۹۹۲ء سے ۱۹۹۶ء تک کا بیشتر وقت مجاہدین کی آپس کی لڑائی میں گزرا۔ لوٹ مار، قتل و غارت اور اخلاقی برائیاں عروج پر تھیں۔ ایسا بھی ہوا کہ بہت سے علاقوں میں خواتین کو گاڑیوں سے اتار کر ان سے زیادتی کی گئی۔ اتنی ساری خرابیوں کو راتوں رات ختم کرنا ممکن نہ تھا۔ طالبان نے جب اپنی امارت قائم کی تب معاشرے میں سیاسی انتشار بھی تھا اور اخلاقی خرابیاں بھی۔ ایسے میں لازم تھا کہ سخت تر اقدامات کے ذریعے لوگوں کو کنٹرول کیا جاتا اور طالبان نے یہی کیا۔ ہر اس چیز کو راستے سے ہٹایا گیا جو خرابی کی طرف لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ ٹی وی سیٹ رکھنے اور ٹی وی نشریات دیکھنے پر پابندی بھی اِسی لیے عائد کی گئی۔

ایک وقت ایسا تھا کہ بعض طالبان شخصیات اخبارات پر پابندی عائد کرنے کا بھی سوچ رہی تھیں! جب ملا محمد حسن اخوند زادہ وزیراعظم کے منصب کے مساوی حیثیت کے مالک تھے تب وہ اس بات پر بہت جِزبِز ہوتے تھے کہ اخبارات کو زمین پر رکھا جائے۔ ایک بار اخبارات کے ٹکڑوں میں رکھ کر کوئی چیز ان کے سامنے لائی گئی تو وہ سخت ناراض ہوئے اور یہ تک کہا کہ وہ قندھار میں ملا عمر سے ملاقات میں یہ تجویز پیش کریں گے کہ مقدس الفاظ کی حرمت برقرار رکھنے کے لیے اخبارات کی طباعت و اشاعت پر پابندی عائد کردی جائے۔ انہوں نے ایک بار یہ بھی تسلیم کیا تھا کہ انہوں نے زندگی بھر کوئی اخباری مضمون نہیں پڑھا۔ ان کے نزدیک کوئی اخباری مضمون پڑھنے سے کہیں بہتر یہ ہے کہ انسان قرآن کی تلاوت کرے۔

جب طالبان کی توجہ شمالی افغانستان کے معاملات درست کرنے پر مرکوز تھی تب باقی حصوں اور دارالحکومت میں بھی معاملات بہت خراب تھے۔ ہر طرف انتشار تھا اور لوگ اپنے بنیادی مسائل کے حل کی راہ تک رہے تھے۔ صحت عامہ کا برا حال تھا۔ کابل پر طالبان کے قبضے کے ۱۴ ماہ بعد جب برطانوی اخبار گارجین کے نمائندے نے شہر کا دورہ کیا تو معلوم ہوا کہ تمام اسپتالوں میں ویمن وارڈز بند کرکے وزیر صحت ملا عباس ایک ماہ تک غائب رہے۔ بعد میں پتا چلا کہ وہ شمالی افغانستان چلے گئے تھے۔

سخت تر قوانین اور سخت تر سزاؤں سے فیلڈ کمانڈر بہت خوش تھے۔ اس کا بنیادی سبب یہ تھا کہ ان کا تعلق دیہی معاشرے سے تھا۔ دیہی ماحول میں خواتین کو خاصا جکڑ کر رکھا جاتا ہے۔ فیلڈ کمانڈر اور میدان میں دشمن کے مقابل لڑنے والے طالبان سپاہیوں کی اکثریت کا تعلق چونکہ دیہی معاشرے سے تھا اس لیے وہ خواتین کے خلاف سخت تر اقدامات کے حق میں تھے۔ طالبان قیادت کو بھی اندازہ تھا کہ انہیں کب ایسے اقدامات کرنے ہیں جن کی کم ہی مخالفت کی جائے۔ ایسے مواقع بھی آئے کہ کابل میں کوئی حکم جاری ہوا یا فیصلہ کیا گیا اور قندھار میں سپریم کونسل نے اسے الٹ پلٹ دیا کیونکہ فیلڈ کمانڈرز کی ناراضی کا خدشہ تھا!

بعد میں جب طالبان قیادت سے وابستہ اہم شخصیات نے پاکستان اور خلیج میں عشرہ گزارا تب ان میں سے بہت سوں کو تعلیم مکمل کرنے کا موقع ملا۔ واضح رہے کہ طالبان قیادت کی طرف سے تعلیم کی کمی کے معاملے کو بھی کئی بار اٹھایا گیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ طالبان کے ارکان اپنی تعلیم، مطالعے اور خیالات کے تبادلے کو اہمیت دیں۔ جب طالبان قیادت سے وابستہ شخصیات نے مطالعہ وسیع کیا اور بحث و تمحیص کے مراحل سے گزریں تو ان میں وسعتِ نظر پیدا ہوئی اور وہ زندگی کے ہر معاملے کو زیادہ غیر جانب داری سے یعنی حقائق کے آئینے میں رکھ کر سوچنے کے قابل ہوئیں۔

ریکارڈ اور یادداشتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ ملا عمر کے دفتر نے ایسی کئی تجاویز رد کیں جن کے قبول کیے جانے کی صورت میں فیلڈ کمانڈرز کے ناراض ہونے کا خدشہ تھا۔ ایک بار یہ تجویز سامنے آئی کہ مغربی ممالک کی فنڈنگ سے کابل میں بچیوں کا ایسا مدرسہ قائم کیا جائے جس کی مکمل نگرانی صرف طالبان کے ہاتھ میں ہو۔ ملا عمر کے دفتر نے یہ تجویز اس لیے رد کردی کہ دیہی ماحول سے تعلق رکھنے والے فیلڈ کمانڈر ایسا کیے جانے پر مشتعل ہوجاتے۔ وہ لوگ نہیں چاہتے تھے کہ بچیوں کو تعلیم دی جائے۔

یہ بات بھی قابل غور ہے کہ بعض سخت سزائیں دشمنوں سے برسر پیکار لوگوں کی خوشنودی کے لیے منظور کی گئیں۔ بہت سے سخت تر اقدامات کو شریعت کے نام پر منظور کیا گیا اور اس حوالے سے علمائے کرام اور فقیہان محترم سے رائے لینے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی گئی۔

یہ بات خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ طالبان کی سیاسی تربیت نہ ہونے کے برابر تھی۔ وہ بہت تیزی سے ابھرے اور اقتدار کے منبع تک پہنچ بھی گئے۔ جمعیت اسلامی، حزب اسلامی اور دیگر جماعتوں سے تعلق رکھنے والوں کی دو دو عشروں کی تربیت تھی۔ وہ ہر طرح کے حالات میں ایڈجسٹ ہونے کی بھرپور صلاحیت رکھتے تھے۔ طالبان سے وابستگی اختیار کرنے والوں کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل تھی۔ ان کا ذہن بھی ناپختہ تھا اور تربیت بھی۔ نظم و ضبط کی کمی بھی بہت واضح تھی۔

طالبان سے تعلق رکھنے والے بیشتر افراد کی عمومی تعلیم بھی ناکافی تھی اور دینی معاملات میں بھی ان کی معلومات نہ ہونے کے برابر تھیں۔ بیشتر طالبان کو معلوم ہی نہیں تھا کہ سزائیں مقرر کرنے کے معاملے میں شریعت کے اصول اور تقاضے کیا ہیں۔ ان کے نزدیک دینی تعلیمات کو پھیلانے کا ایک طریقہ یہ تھا کہ سخت تر سزائیں دی جائیں۔ پشتون ثقافت سے وابستہ ان نوجوانوں کو معلوم ہی نہ تھا کہ جدید سیاسی کلچر کیا ہے اور دیگر ممالک میں موجود اسلامی تحاریک کے کام کرنے کا انداز کیا ہے، یعنی ان کے سیاسی تجربات کس نوع کے ہیں۔

اسلام کے بارے میں ناکافی معلومات نے نوجوان طالبان کی تربیت میں بہت سی الجھنیں پیدا کیں۔ طالبان میں اعلیٰ سطح پر بھی کم ہی لوگ جدید تعلیم حاصل کیے ہوئے تھے اور دین کے بارے میں بھی ان کا مطالعہ مطلوبہ معیار کے مطابق نہ تھا۔ ان میں مکمل عالمِ دین کم ہی تھے۔ طالبان کی مطبوعات میں کئی بار اس نکتے کو اٹھایا گیا کہ جدید تعلیم حاصل کی جائے اور دینی معلومات کے حوالے سے پائی جانے والی خامیاں اور کمزوریاں دور کی جائیں۔

طالبان سے وابستہ ہونے والے بیشتر نوجوان روایتی مدارس کے پڑھے ہوئے تھے جنھیں جدید ترین تعلیم سے قریب بھی نہیں ہونے دیا جاتا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جب یہ لوگ طالبان کا حصہ بنے تو ان میں پائی جانے والی تعلیم کی شدید کمی نے کئی قسم کی خرابیاں پیدا کیں۔

طالبان کی دستاویزات اور گفتگو میں تسلیم کیا گیا ہے کہ جدید رجحانات سے بے خبر ہونے کے باعث ہی طالبان قیادت نے الیکٹرانک میڈیا سے دور رہنے کا فیصلہ کیا۔ ٹی وی کی تکنیکی باریکیوں کو سمجھنا تو دور کی بات ہے، نشریات تیار کرنے والے چلانے والے اینکرز اور دیگر اسٹاف کی بھی شدید کمی تھی۔ طالبان قیادت کو میڈیا کی طاقت کا اندازہ بھی تھا اور اعتراف بھی مگر وہ مجبور تھی کہ کوئی ٹی وی چینل نہ چلائے کیونکہ اس کے لیے درکار افرادی قوت اس کے پاس نہ تھی۔ اگر ٹی وی کی نشریات چلانے کے حوالے سے درکار افرادی قوت ہوتی تو شاید طالبان قیادت کوئی ٹی وی چینل چلانے پر بھی غور کرتی۔ یعنی سوال اسلامی اصول سے زیادہ اپنی کمزور تیاریوں کا تھا۔

طالبان قیادت کو اندازہ ہے کہ ماضی میں جو کمزوریاں سامنے آئیں انہیں کس طور دور کیا جاسکتا ہے۔ اب اگر افغانستان کو حقیقی فلاحی اسلامی ریاست میں تبدیل کرنا ہے تو لازم ہے کہ جدید دور کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے تیاری کی جائے۔ نئی سوچ کے ساتھ نیا عزم بھی درکار ہے اور ایسا لگتا ہے کہ طالبان قیادت اب ایسا کرنے کے لیے تیار ہے۔

ارتقا

ایک دور تھا کہ طالبان میں پڑھے لکھے کم تھے اور جو تھے وہ بھی زیادہ وسیع نقطۂ نظر کے حامل نہ تھے۔ پاکستان اور خلیج میں ایک عشرے سے بھی زائد مدت سے مقیم طالبان شخصیات نے خود کو ارتقائی مراحل سے خوب گزارا ہے۔ اب وہ جدید ترین رجحانات سے بخوبی واقف ہیں۔ وہ زیادہ پڑھ لکھ گئے ہیں۔ مطالعے کی عادت نے ان میں غیر معمولی تبدیلیوں کی راہ ہموار کی ہے۔ انہیں اچھی طرح اندازہ ہے کہ اب انہیں کیا کرنا ہے اور کس طور آگے بڑھنا ہے۔ اب طالبان سے وابستہ نمایاں شخصیات محدود سوچ نہیں رکھتیں۔ وہ کافی وسیع نظر رکھتے ہیں۔ اب توقع کی جانی چاہیے کہ اگر طالبان کو دوبارہ ابھرنے کا موقع ملے گا تو وہ زیادہ تیاری کے ساتھ اور زیادہ وسعتِ نظر کو ساتھ لیے میدان میں اتریں گے اور اقتدار کے ایوانوں میں وہ کردار ادا کریں گے جو حقیقی فلاحی اسلامی ریاست کا وجود یقینی بنانے کے لیے ادا کیا جانا چاہیے۔

ایک دور تھا کہ طالبان قیادت نے علامہ یوسف قرضاوی اور مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتب پر بھی پابندی عائد کر رکھی تھی۔ اب ایسا نہیں ہے۔ آج طالبان شخصیات علامہ یوسف قرضاوی کے حوالے دینے سے یکسر گریز نہیں کرتیں اور ان دونوں جید علماء کی کتب سے استفادے پر بھی کوئی پابندی نہیں۔ تحریک طالبان کو ایسی ہی تبدیلیوں اور وسعتِ نظر کی ضرورت ہے۔

ارتقائی مرحلہ

ایک عشرے سے بھی زائد مدت کے دوران طالبان کی سرکردہ شخصیات ارتقاء کے مختلف مراحل سے گزری ہیں۔ انہوں نے پاکستان اور خلیجی ممالک میں رہتے ہوئے اپنے آپ کو تبدیل کیا ہے۔ ان کے ذہنوں میں اب بہت کچھ پایا جاتا ہے۔ افغانستان کے دیہی اور گھٹے ہوئے معاشرے کی معمولی یا پست سطح سے بلند ہوکر انہوں نے سوچنا اور سمجھنا سیکھا ہے۔ اب وہ کوئی بھی سوال سن کر بات کرسکتے ہیں۔ کسی کا نقطہ نظر ہضم کرسکتے ہیں۔ انہی بخوبی اندازہ ہے کہ انہیں دوسروں کی بات سننی ہے، اپنی بات سناتے رہنے کے بجائے دوسروں کی رائے کا احترام کرتے ہوئے کسی بھی معاملے میں تبادلہ خیال کی گنجائش سلامت رکھنی ہے۔ اب اخوان اور جماعت اسلامی کے بارے میں پڑھنا بھی معیوب نہیں سمجھا جاتا۔ جماعت اسلامی پاکستان کے سابق امیر سید منور حسن اور دیگر رہنماؤں کے خیالات جاننے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا۔ الیکٹرانک میڈیا اور انٹر نیٹ کے ذریعے زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ کسی بھی موضوع پر بولنے کا وقت آئے تو تیاری پوری ہو۔

ماضی کی کوتاہیوں کی ازالہ کرتے ہوئے ملا عبدالسلام ضعیف اور وکیل احمد متوکل نے ایک تنظیم بنائی ہے،جو کابل میں گرلز اسکول اور یونیورسٹی چلا رہی ہے۔ اس ایک تبدیلی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ طالبان سے وابستگی رکھنے والوں کی سوچ میں تبدیلی کس حد تک واقع ہوچکی ہے۔

لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے بھی بنیادی تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ یہ کہ لڑکیوں کی تعلیم بری چیز نہیں، اصل مسئلہ مخلوط تعلیم کا ہے۔ نئی نسل کو تخریب سے بچانے کے لیے لازم ہے کہ تعلیم الگ الگ کی جائے۔ لڑکیوں کو تعلیم دلانا ضروری ہے مگر ایسے ماحول میں کہ ان میں کوئی اخلاقی خرابی پیدا نہ ہو اور کوئی ان کے صنفِ نازک ہونے کا کسی بھی طور فائدہ نہ اٹھاسکے۔

طالبان رہنما کہتے ہیں کہ خواتین کے کام کرنے پر بھی ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ سوال صرف اسلام کی طے کردہ حدود و قیود کا خیال رکھنے کا ہے۔ اگر مرد و زن کا اختلاط نہ ہو تو کسی بھی ورکنگ پلیس میں خواتین کی موجودگی کسی بھی اعتبار سے کوئی بری بات نہیں۔ اگر خواتین کی فیکٹریز یا دفاتر الگ ہوں اور ہسپتالوں میں بھی خواتین الگ تھلگ رہیں تو ان کے کام پر کوئی اعتراض کیوں ہوگا۔

افغانستان میں غیر ملکی افواج کا تسلط ایک طویل مدت تک رہا ہے اس لیے مالیاتی سطح ہی پر نہیں بلکہ اخلاقی اور نظریاتی سطح پر بھی خاصا بگاڑ پایا جاتا ہے۔ معاشرے کی تطہیر لازم ہے۔ اس حوالے سے ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جن سے معاشرے میں کوئی بگاڑ بھی پیدا نہ ہو اور خرابیاں بھی ختم ہوتی جائیں۔

طالبان سے وابستہ سرکردہ شخصیات کو اب یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ دورِ امارت میں بعض اقدامات انتہائی سخت تھے اور اگر اس وقت لچک دکھائی جاتی تو زیادہ خرابیاں پیدا نہ ہوئی ہوتیں۔ امر بالمعروف (مذہبی پولیس) سے تعلق رکھنے والے اہلکار بعض معاملات میں غیر معمولی سختی دکھاتے تھے۔ بعض اقدامات بھی سخت تر تھے۔ نماز پڑھنے پر بہت زور دینا اور نماز کے وقت سب کو لازمی طور پر مسجد جانے کا حکم دینا کسی طور ایسا اقدام نہ تھا جس کے منفی نتائج برآمد نہ ہوتے۔ اہلکار یہ بھی نہیں دیکھتے تھے کہ کوئی بیمار یا زخمی ہے یا پھر کسی اور وجہ سے نماز کے لیے نہیں جاسکتا۔ ان کا حکم صرف یہ ہوتا تھا کہ اذان ہوگئی ہے تو مسجد جاؤ۔

ملا عمر کی امارت کے دور کے وزیر انصاف ملا نورالدین ترابی تسلیم کرتے ہیں کہ لوگوں کو راستے میں روک کر داڑھی چیک کرنا، لڑکیوں کے اسکول بند کرنا اور ایسے ہی دوسرے بہت سے اقدامات غلط تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو موسیقی سے دور رکھنے کے لیے کیسٹیں توڑنا، وی سی آر توڑ ڈالنااور ایسے دیگر اقدام، یہ سب غیر متعلق تھا۔ یعنی یہ ایسی باتیں تھیں جن میں الجھ کر بعض بڑے مقاصد کو نظر انداز کردیا گیا۔

یہ بات کھل کر سامنے آئی ہے کہ طالبان کو ماضی کی غلطیوں کا پوری شدت سے احساس ہے۔ وہ اب تک اپنے بنیادی موقف پر تو قائم ہیں،مگر سوچ اور رویے میں غیر معمولی لچک پیدا ہوچکی ہے۔ شریعت کو نافذ کرنے کے موقف پر تو وہ اب بھی ڈٹے ہوئے ہیں مگر اس کے طریق کار پر بحث کے لیے بھی تیار ہیں۔ انہیں اندازہ ہے کہ غیر لچک دار رویہ اپناکر وہ دوسروں کے ساتھ ساتھ اپنے لیے بھی مشکلات پیدا کریں گے۔

طالبان کی قیادت سے وابستہ افراد اب اس نکتے پر زور دے رہے ہیں کہ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کو بھی بروئے کار لایا جائے۔ سوال صرف بنیادی اصولوں کو نظر انداز نہ کرنے کا ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ الیکٹرانک میڈیا کی طاقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ وہ چاہتے ہیں کہ الیکٹرانک میڈیا اور انٹرنیٹ وغیرہ کو بھی اچھی طرح بروئے کار لاکر لوگوں کو ہم خیال بنایا جائے، مگر اس کے لیے وہ انتہا پسندی کے بجائے لچک دار رویہ اپنانے کو تیار ہیں۔ طالبان کا موقف یہ ہے کہ الیکٹرانک میڈیا کو کام کرنے کی اجازت ضرور دی جائے، مگر اس طور کہ نئی نسل کے لیے زیادہ خرابیاں پیدا نہ ہوں۔ میڈیا کے بے لگام ہونے سے نئی نسل کی تباہی کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ یعنی اگر میڈیا کو کام کرنے کی اجازت دی جائے تو چند حدود و قیود کے تعین کے ساتھ۔ بے لگام آزادی صرف خرابیاں لائے گی۔ اسی طور طالبان اظہار رائے کی آزادی کے معاملے میں بھی چند حدود و قیود کا احترام چاہتے ہیں۔ یعنی کوئی اس طور اپنی رائے کا اظہار نہ کرے کہ دوسروں کی دل آزاری ہو اور وہ محسوس کرے کہ اس کی توہین کی گئی ہے۔

خلاصۂ کلام

یہ تسلیم کرنا ہی پڑے گا کہ طالبان قیادت کا ایک معتدبہ حصہ اب ارتقائی مراحل سے گزر چکا ہے۔ ان کی سوچ نئی ہے، جس میں رواداری بھی ہے اور وسعت بھی۔ وہ دوسروں کو قبول اور ہضم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ وہ اپنے آپ کو الگ تھلگ رکھنے کی ذہنیت سے دور ہوچکے ہیں۔

طالبان اب بھی شریعت کے نفاذ پر کوئی سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ملک کا سیاسی نظام خواہ کچھ ہو، اولیت شریعت کی ہونی چاہیے۔ اسی طور مختلف سنگین جرائم کی سزائیں بھی وہی ہونی چاہئیں جو شریعت نے طے کر رکھی ہیں۔ جہاں تھوڑی بہت گنجائش رکھی جاسکتی ہے، رکھی جانی چاہیے۔

غیر ملکی افواج کے انخلا کے حوالے سے طالبان کوئی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ افغان سرزمین ان غیر ملکیوں کے وجود سے پاک ہو جائے تاکہ معاشرے کے تمام طبقے مل کر ایک نئی زندگی شروع کریں۔ وہ افغانستان کو ہر اعتبار سے پرامن اور مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں،مگر اس کی اولین شرط، ان کے نزدیک یہ ہے کہ تمام غیر ملکیوں کو ملک کے معاملات سے الگ تھلگ کردیا جائے اور جنہیں نکل جانا چاہیے انہیں بس نکل جانا چاہیے۔

اب صرف ایک خدشہ رہ گیا ہے،وہ یہ کہ طالبان کی قیادت سے وابستہ جن سرکردہ شخصیات نے سیاسی سطح پر مصالحت کی بات کی ہے ان سے فیلڈ کمانڈرز اور عام طالبان سپاہی متفق ہیں یا نہیں۔ اگر وہ متفق نہ ہوئے اور اپنے موقف پر ڈٹے رہے تو مشکلات پیدا ہوں گی۔ اس کے لیے لازم ہے کہ جنہیں بھی ملک میں انتشار اور تشدد سے نقصان اٹھانا پڑا ہے ان کی شکایات سنی جائیں اور ازالے کی کوشش بھی کی جائے۔ جن لوگوں نے کسی دباؤ کے بغیر محض اپنی مرضی کے مطابق فاش غلطیاں کی ہیں، مظالم ڈھائے ہیں ان سے جواب طلبی ہونی چاہیے اور جہاں ناگزیر ہو وہاں سزائیں بھی دی جائیں۔ اگر کسی کو سزا نہ ملی تو معاملات خرابی ہی کی نذر رہیں گے۔ ایک اہم مسئلہ لڑنے والوں کو مرکزی دھارے میں لانے کا بھی ہے۔ یہ عمل پوری احتیاط سے انجام کو پہنچنا چاہیے تاکہ کسی بڑی خرابی کی راہ مسدود کی جاسکے۔

Leave a comment

Your email address will not be published.


*