Abd Add
 

مستقبل کی افغان ریاست اور طالبان

یہ رپورٹ سینٹر آن انٹرنیشنل کوآپریشن (CIC) کی تیار شدہ ہے۔ CIC نیویارک یونیورسٹی کے شعبۂ سماجی اور سائنسی علوم کے تحت قائم تحقیقی مرکز ہے۔ CIC کی ویب گاہ کے مطابق اِس کا بنیادی مقصد عالمی تنازعات اور مسائل میں بین الاقوامی تعاون اور اشتراکِ عمل کو فروغ دینا ہے۔ CIC آسٹریلیا، برازیل، انڈیا، چائنا، قطر، دبئی، امریکا اور یورپ سمیت دنیا بھر کے تحقیقی مراکز اور مجلسِ دانش وراں (Think Tank) سے قریبی تعلقات رکھتی ہے۔


افغانستان میں مستقبل کے ریاستی ڈھانچے کے بارے میں طالبان کے سرکردہ ارکان اور رہنماؤں کے خیالات جاننے سے متعلق اس رپورٹ کے مصنفین بنیادی خیال کے لیے ایڈمنڈ ہیلے کے اور تعاون کے لیے فارن اینڈ کامن ویلتھ آفس (یو کے) کے شکر گزار ہیں۔ نیو یارک یونیورسٹی کے سینٹر آن انٹر نیشنل کوآپریشن کا دی افغانستان پاکستان ریجنل پروگرام حکومتِ ناروے کا بھی خاص طور پر احسان مند ہے کیونکہ اس کے تعاون کے بغیر اس رپورٹ کی اشاعت ممکن نہ ہوتی۔ اس رپورٹ میں دیپالی مکھوپادھیائے کی آراء سے بھی استفادہ کیا گیا ہے۔

تعارف

(اس تعارف کے مصنف بارنیٹ آر ریوبن نیو یارک یونیورسٹی کے سینٹر آن انٹر نیشنل کوآپریشن کے ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر اور سربراہ ہیں۔)

اس بات کا سمجھنا مشکل نہیں کہ جو لوگ آپ کو قتل کرنے کے درپے ہوں ان کے افکار و اعمال کا متوازن تجزیہ کرنا بہت دشوار ثابت ہوا کرتا ہے۔ افغانستان میں حکومت اور امریکی افواج سے جُڑے ہوئے لوگ، جنہیں یومیہ بنیاد پر شدت پسندانہ اور القاعدہ قسم کے ہتھکنڈوں کا سامنا رہتا ہے، کہتے ہیں کہ طالبان جنگ کرنے کے معاملے میں سخت تر شرائط رکھنے پر تُلے ہوئے ہیں۔ اگر طالبان نمائندہ جمہوریت کو ختم کرکے ۱۹۹۶ء تا ۲۰۰۱ء افغانستان میں پایا جانے والا ریاستی ڈھانچا ہی بحال کرنا چاہتے ہیں اور وہی پالیسیاں اپنانا چاہتے ہیں جن سے افغانستان کے لیے ترقیٔ معکوس کا در کھلا تھا تو کہنا پڑے گا کہ وہ کسی بھی طور افغانستان کے بحران کا سیاسی حل تلاش کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔

طالبان کے سیاسی دھڑے سے تعلق رکھنے والی سرکردہ شخصیات، ڈیڑھ عشرے کے دوران طالبان کی طرف سے جاری کردہ مطبوعات اور کسی بھی صورت حال سے متعلق باضابطہ بیانات کے تجزیے کے بعد آنند گوپال اور برہان عثمان مختلف نتائج تک پہنچے ہیں۔ ایسے طالبان کم ہیں جو ۱۹۹۶ء سے ۲۰۰۱ء تک کے زمانے کو دہرانے کے حق میں ہیں۔ ان کا بنیادی شِکوہ یہ ہے کہ انہیں ناکردہ جرم (نائن الیون) کی سزا دینے کے لیے ان کی سرزمین پر امریکی فوج اتری ہوئی ہے۔ افغانستان کے موجودہ غیر اسلامی آئین کے لیے بھی وہ ان حالات ہی کو ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا نے افغانستان کی سرزمین پر قدم جما رکھے ہیں اور طالبان یا ان کے ہم خیال افراد کو کچلنے کے لیے سرگرم ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سابق سوویت یونین کی افواج کے انخلاء کے بعد افغانستان میں جو انتشار، جرم پسندی اور تقسیم پیدا ہوئی تھی وہ اب نہیں رہی۔ ایسے میں طالبان کے پاس لڑنے کے لیے صرف ایک جواز رہ جاتا ہے … افغان سرزمین پر غیر ملکی افواج کی تعیناتی۔

طالبان اور موجودہ نظام کے حامی افغان حکام ٹریک ٹو نوعیت کی گفت و شنید میں مصروف رہے ہیں۔ ملک کو چلانے کے معاملے میں تو فریقین میں حیرت انگیز حد تک اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ پہلے میں بھی یہی سمجھتا تھا کہ افغان تنازع کا کوئی حل تلاش کرنا اتنا مشکل نہ ہوگا جتنا ہم سمجھتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ طالبان اور دیگر افغانوں کے درمیان نظریاتی فرق بھی ہے مگر اصل مسئلہ یہ ہے کہ غیر ملکی افواج کا کس طرح مکمل انخلا کیا جائے۔ اس وقت امریکی پالیسی سازوں نے اس نکتے پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے کہ افغانستان میں ایک گروپ کو شکست دینے اور تباہی سے دوچار کرنے کے لیے دوسرے گروپ کو مستحکم کیا جائے۔ یہی سبب ہے کہ طالبان کو القاعدہ اور اس کے ہم خیال گروپ امداد فراہم کرتے رہتے ہیں تاکہ وہ اپنے طے کردہ اہداف کے حصول کے لیے متحرک رہیں۔

جن طالبان سے مصنفین نے بات کی انہوں نے تسلیم کیا کہ ان کے اور میدان میں غیر ملکی افواج یا افغان فورسز سے لڑنے والوں کے خیالات میں بہت فرق پایا جاتا ہے۔ جن لوگوں کا غیر معمولی جانی نقصان ہوا ہے وہ چاہتے ہیں کہ انتقام لیں یا پھر مذاکرات کی صورت میں ان کے نقصان کی تلافی کی جائے۔ جو لوگ اب تک میدان میں ہیں یعنی افغان فورسز اور غیر ملکی افواج سے لڑ رہے ہیں ان کے جذبات کو سمجھنا اور انہیں قابو میں رکھنا طالبان کی مرکزی قیادت کا فریضہ ہے۔ ایسا بھی ہوچکا ہے کہ قیادت نے کوئی ہدایت جاری کی مگر کسی مقام پر جان کی بازی لگاکر دشمنوں کو پیچھے ہٹانے اور ایک وسیع علاقے پر قبضہ کرنے والے طالبان نے لوٹ مار بھی کی اور دشمنوں سے انتقام بھی لیا۔ ستمبر ۲۰۱۵ء میں قندوز میں ایسا ہی ہوا تھا۔

ملا عمر کے انتقال اور ملا اختر محمد منصور کی ہلاکت سے طالبان پر مرتب ہونے والے اثرات کا اندازہ لگانا ابھی قبل از وقت ہوگا۔ طالبان کے سیاسی دفتر نے طیب آغا کی قیادت میں جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنے کے لیے بات چیت شروع کی تھی۔ یہ بات سب پر عیاں تھی کہ طیب آغا ملا عمر کے نمائندے کا سا مقام رکھتے تھے۔ یہ معلوم ہونے پر پاکستان کی حکومت اور طالبان نے ملا عمر کی موت کو دو سال تک چھپائے رکھا، طیب آغا نے استعفٰی دے دیا۔ کم ہی لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ طالبان کی مرکزی قیادت اور طالبان کے سیاسی دفتر کے درمیان اس وقت کس نوعیت کا تعلق ہے۔

پاکستان نے ۲۰۰۱ء کے بعد افغانستان میں ابھرنے والی مجموعی صورت حال کو اپنے لیے شدید خطرہ تصور کیا اور یوں افغان بحران کو کنٹرول کرنے کی اپنی سی کوشش کی۔ پاکستان اگر افغانستان میں زیادہ ملوث نہ ہوا ہوتا تو آج صورت حال بہت مختلف ہوتی۔ امریکا اور افغان صدر اشرف غنی پاکستان سے بات چیت کرنے کے لیے تیار ہیں۔ وہ پاکستان کے مفادات کو تسلیم کرتے ہیں اور اس کے تحفظات دور کرنے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ مگر تجزیہ کار کہتے ہیں کہ طالبان کچھ زیادہ مانگ رہے ہیں۔

مسلح جدوجہد یا شورش دنیا کے ہر خطے میں ہوتی رہی ہے۔ جیسا دوسرے مقامات پر ہوتا ہے ویسا ہی افغانستان میں بھی ہوا۔ طالبان نے بھی منشیات، اسمگلنگ اور قدرتی وسائل کی بندر بانٹ کے ذریعے اپنے مالیاتی ذرائع مستحکم کرلیے۔ ایک دور تھا کہ طالبان کی فنڈنگ کے لیے غیر قانونی ذرائع سے بھی رقوم کا بندوبست کیا جاتا تھا مگر وہ دور گیا۔ اب فنڈنگ ہی سب کچھ ہے۔

غیر ملکی افواج کے انخلاء کے حوالے سے اختلافات نے اب تک افغانستان کی سیاسی قیادت اور طالبان کی جان نہیں چھوڑی۔ ایک خوش آئند بات یہ ہے کہ افغان حکومت کے نمائندے اور طالبان ملک کے مستقبل پر بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ طالبان کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ وہ غیر ملکی افواج کے انخلا تک بات چیت کے لیے تیار نہیں۔ دوسری طرف افغانستان کی وہ سیاسی جماعتیں اور شخصیات طالبان کی واپسی کے لیے تیار نہیں جو اپنے تحفظ کے لیے بیرونی افواج کو ناگزیر سمجھتی ہیں۔ ان کا زور اس بات پر ہے کہ پہلے کوئی سیاسی تصفیہ کرلیا جائے۔ اس کے بعد غیر ملکی افواج کو بھی نکال باہر کیا جائے گا۔

صحافی جیفرے گولڈ برگ نے کئی انٹرویوز کے بعد امریکا کے صدر براک اوباما کے حوالے سے کہا ہے کہ انہیں بھی وہی بیماری لاحق ہے جو دوسرے بہت سے سیاست دانوں کو لاحق رہی ہے … یہ کہ امریکا انتہائی منفرد ملک ہے اور یہ کہ باقی دنیا امریکنوں کی شدید دشمن ہے۔ امریکی پالیسی میکرز کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسلامی انتہا پسندی سمیت ہر طرح کی انتہا پسندی امریکا کے خلاف ہے۔ امریکا میں یہ تاثر عام ہے یا پروان چڑھایا گیا ہے کہ افغانستان میں جاری جنگ سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسا سوچنا ہماری سادہ لوحی کہلائے گا۔ افغانستان میں جنگ اسی وقت ختم ہوگی جب ہم ایسا کرنا چاہیں گے۔

(۔۔۔ جاری ہے!)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*