Abd Add
 

غزہ: تعمیر نو کے وعدے کب پورے ہوں گے؟

گزشتہ موسم گرما میں غزہ پر اسرائیلی حملوں سے تباہ ہونے والے اُنیس ہزار مکانات میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں جس کی تعمیر نو ہو چکی ہو۔ ۵ء۳ بلین ڈالر کی امداد کے وعدوں کے چھ ماہ بعد بھی صورتحال مایوس کن ہے اور امدادی رقم کا ایک چوتھائی حصہ ہی غزہ پہنچ سکا ہے۔ غزہ کی اٹھارہ لاکھ کی آبادی میں سے ایک لاکھ لوگ سخت سردی اور بارشوں کا موسم خیموں، ٹرالروں اور تباہ شدہ مکانات کے ملبے پر گزارنے کے بعد بھی بے گھر ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ اسرائیلی حکومت ہے، جو غزہ کو بہت کم مقدار میں سیمنٹ درآمد کرنے کی اجازت دے رہی ہے، اس کا موقف ہے کہ تعمیراتی مواد فوجی مقاصد اور سرنگوں کی تعمیر کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ غزہ کے لوگ صرف بلیک مارکیٹ ہی سے تھوڑا بہت مواد حاصل کرپاتے ہیں۔ ـــغزہ کے نائب وزیر مکانات ناجی یوسف سرہان کا کہنا ہے کہ ـ’’سیمنٹ ایسا ہو گیا ہے جیسے تابکار مادہـ‘‘۔

اقوام متحدہ تعمیراتی مادے کے بہائو کی خود نگرانی کر رہی ہے۔ اسرائیل سے غزہ صرف ایک راستے سے تجارتی سامان لے جانے کی اجازت ہے، جس کی سخت نگرانی کی جاتی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق مطلوبہ مواد (پانچ ملین ٹن) کا صرف دسواں حصہ ہی اب تک اندر آنے دیا گیا ہے۔ سرہان کا کہنا ہے کہ ’’اس شرح سے غزہ کی تعمیر نو کو بیس سال لگیں گے‘‘۔ بلیک مارکیٹ سے خریداری کے لیے خاصی بڑی رقم کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ غزہ کے بیشتر لوگ غریب ہیں اور نصف بے روزگار۔

غزہ کی پٹی میں شمالی کنارے پر واقع قصبے بیت حنین کے رہائشی عمر فیاد پریشان ہیں کہ ان کے گھر کی چار منزلہ عمارت گر کر ان کے خاندان کو دفن کر دے گی، کیونکہ ایک اسرائیلی شیل ان کے برابر والے مکان پر گرنے کی وجہ سے ان کا مکان بھی کمزور ہو گیا ہے۔ عمر کہتے ہیں کہ ـ’’ہمیں کچھ بھی نہیں ملا، نہ پیسہ، نہ تعمیراتی مواد، نہ لوہا، نہ سیمنٹ، کچھ بھی نہیں‘‘۔ انہوں نے ایک چرخی بنائی ہے جس کے ذریعے وہ ملبہ ہٹاتے ہیں اور کنکریٹ کی سلیب سے لوہا نکالتے ہیں اور مواد کے بکنے کی امید لگائے ہوئے ہیں۔

اسرائیل نے ۲۰۰۷ء سے غزہ کا محاصرہ کیا ہوا ہے، جب حماس نے انتخابات جیتنے کے بعد اپنے حریف ’الفتح گروپ‘ کو طاقت کے زور پر غزہ سے نکلنے پر مجبور کردیا تھا۔ مصر میں ۲۰۱۳ء میں اخوان المسلمون کی حکومت (جس کے حماس سے دوستانہ تعلقات تھے) کا تختہ الٹ کر قائم ہونے والی حکومت نے حال ہی میں غزہ کراسنگ پر پابندیاں انتہائی سخت کر دی ہیں۔ مصر کی سرحد پر واقع رفاہ کراسنگ اس سال ابھی تک صرف پانچ دن کے لیے کھولی گئی ہے۔ فلسطین کے لیے اقوام متحدہ کے سبکدوش ہونے والے سفیر رابرٹ سیری نے اسرائیلی محاصرے کے خاتمے کے لیے جنگ بندی کا ایک معاہدہ تجویز کیا ہے، جسے حماس کی جنگ بندی سے مشروط کیا گیا ہے۔ لیکن یہ تجویز ہر کسی کو پسند نہیں آئی۔

اسلامک جہاد (جو کہ حماس سے زیادہ عسکریت پسند ہے) کے خالد البطش کا کہنا ہے کہ ’’یہ تجویز لوگوں کو مارفین دے کر غافل کرنے کے مترادف ہے‘‘۔ـــ لیکن حماس کے ایک اہم ذمہ دار کا کہنا ہے کہ ’’اس معاہدہ پر غور کیا جا رہا ہے‘‘۔ گزشتہ تین جنگوں سے حماس کو کچھ حاصل نہیں ہوا، سوائے اس بات کو اسرائیل پر ثا بت کرنے کے ’’حماس سے کسی صورت جان نہیں چھڑائی جاسکتی‘‘۔

معاہدے کی تکمیل کے لیے حماس کو الفتح گروپ سے اپنے اختلافات ختم کرنا ہوں گے، ان دونوں گروپوں میں گزشتہ سال متحدہ حکومت کا ایک معاہدہ طے پایا تھا، جس پر ابھی تک عملدرآمد نہیں ہوسکا ہے۔ حماس کی فوج نے ابھی تک غزہ کا کنٹرول اپنے پاس رکھا ہوا ہے، جبکہ جنوبی پٹی یعنی فلسطینی اتھارٹی کے انتظامی معاملات فتح گروپ سنبھالے ہوئے ہے۔ فلسطینی حکومت نے غزہ میں کام کرنے والے سرکاری ملازمین کی تنخواہ دینے سے انکار کر دیا ہے اور فلسطینی وزیراعظم نے گزشتہ سال جون سے اب تک غزہ کے صرف تین دورے کیے ہیں جن سے کچھ حاصل نہیں ہو سکا۔

حالیہ بارشوں سے غزہ کی سڑکیں اور عارضی خیمے سیلاب کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ غزہ میں پُرہجوم مہاجر کیمپ میں قائم شعتی مارکیٹ میں تاجر چائے کے کپ تھامے بیکار بیٹھے نظر آتے ہیں، خریدار بہت کم ہیں۔ بہت سے دکاندار تو اتنا بھی نہیں کما پاتے کہ وہ کرایہ ادا کر سکیں۔ ابو رازق جو کہ بیکری کے مالک ہیں، کا کہنا ہے کہ ’’ان حالات میں ایک خاندان کے لیے کھانا پورا کرنا ایک بڑی کامیابی ہے‘‘۔ یہ ہے وہ سب کچھ جس کی ہم امید کر سکتے ہیں، مستقبل بھی ایسا ہی نظر آرہا ہے۔

(مترجم: حافظ محمد نوید نون)

“The Gaza Strip: As bleak as ever”.
(“The Economist”. April 25, 2015)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*