ایران کے توسیع پسندانہ عزائم اور اسرائیل

ستمبر کے آغاز میں مغربی شام کے قصبے مسیاف پر میزائل حملہ کیا گیا، شام میں سرگرم حکومتوں یا عسکری تنظیموں میں سے کسی نے بھی اس فضائی حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، شاید اس کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ کیونکہ حملے کا ہدف شامی حکومت اور حزب اللہ تھی۔ یہ کافی تھا اس بات کا یقین کرنے کے لیے کہ حملہ اسرائیل کی جانب سے کیاگیا ہے۔ یہودی ریاست طویل عرصے سے شام میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کررہی ہے، لیکن اس میں زیادہ تر حملے دمشق کے اطراف میں یا شام لبنان سرحد پر کیے گئے۔ اس بار حملہ کا ہدف اسرائیلی سرحد سے ۳۰۰ کلومیٹر دور اور روسی اینٹی ایئر میزائل بیس کے قریب تھا۔ اس حملے کا منصوبہ صرف شام اور حزب اللہ کے میزائل پروگرام کو نقصان پہنچانے کے لیے نہیں بنایاگیا تھا، بلکہ مقصدیہ پیغام دینا تھا کہ اگر روس، ایران اور حزب اللہ کو نہیں روکے گا تو اسرائیل بھرپور جواب دے گا۔ مشرق وسطیٰ میں ایرانی پھیلاؤ میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ ایران نے عرب ریاستوں کو تباہ کرنے کے ساتھ شیعہ اور علوی کمیونٹی سے تعلقات مستحکم کیے ہیں، عرب حکمراں شیعہ اتحاد کے قیام سے پریشان ہیں۔ شام میں اسد حکومت کی مدد کرنے والے جنگجوؤں کو ایران نے اکٹھا کیا، انہیں کھوئے ہوئے علاقے واپس لینے کے قابل بنایا۔ ۵ستمبر کو شامی فوجیوں اور ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا نے مشرقی شہر دارعزرو میں موجود گیریژن کو داعش سے آزاد کرایا، جو ۲۰۱۴ء سے شدت پسند تنظیم کے قبضے میں تھا۔ اس پیش رفت سے ایران نے ایک ایسے زمینی راستے کو محفوظ بنالیا جو تہران سے ہوتا ہوا بغداد کے راستے بحیرہ روم تک آتا ہے۔ اس سے ایران کے لیے عراق، افغانستان اور پاکستان سے حزب اللہ کو جنگجو اور ہتھیار فراہم کرنا بہت آسان ہوگیا، اس زمینی راستے پر ایرانی قبضے سے اسرائیل کو سخت پریشانی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ امریکا کی داعش کو ختم کرنے کے علاوہ شام میں کوئی دلچسپی نہیں۔ لیکن ۹ستمبر کو رات گئے دارعزرو کے شمال پر قبضے کے لیے امریکا نے عرب اور کرد جنگجوؤں کو بھیجا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ قبل اس کے شامی حکومت اور اس کے اتحادی یہاں تک پہنچ جائیں، ہم شام کی جمہوری طاقتوں کادائرہ اثر شمال میں وادی فرات کے ساتھ ساتھ عراقی سرحد تک پھیلا دینا چاہتے ہیں۔ تصادم سے بچنے کے لیے بڑی طاقتوں کے درمیان باہمی رابطے جاری رہتے ہیں، ان رابطوں کے دوران امریکانے روس سے مطالبہ کیا ہے کہ شام کی سرکاری فوج کو فرات پار کرنے سے باز رکھا جائے۔ لیکن ساحل سمندر پر موجود بحری جہازوں اور افرادی قوت سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ کبھی بھی فرات کو پار کرسکتے ہیں۔ عراق میں سخت جان شیعہ جنگجو سرحد پار کرنے کی مہم کی سربراہی کررہے ہیں، انہیں ہتھیاروں کی فراہمی کے بہترین راستے بھی دستیاب ہیں۔ امریکی کنٹریکٹرز کے بجائے انہیں مغر ب میں اردن اور شام کی سرحد تک ہائی وے کو کنٹرول کرنے میں عراقی حکومت کی مدد حاصل ہے۔ امریکا روس پر دباؤ ڈال رہاہے کہ وہ ایران اور حزب اللہ کو گولان کی پہاڑیوں سے نکالے، کیونکہ یہ شامی حکومت اور جنوب میں موجود باغیوں کے درمیان ہونے والی جنگ بندی میں توسیع کے معاہدے کا حصہ ہے۔ یہ جنگ بندی کا معاہدہ جولائی میں بڑی طاقتوں کی مدد سے کیا گیا تھا۔ بدلے میں امریکا نے جنوب میں جنگ کے خاتمے، اردن کے ساتھ منافع بخش سرحد کا کنٹرول شامی حکومت کے حوالے کرنے اور بغداد، دمشق ہائی وے پر واقع اسپیشل فور سز کے بیس الطناف کو بند کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ جنگ کے تناظر میں یہ معاہدہ اور ایران کے حوالے سے خدشات ان طاقتوں کی معاملات پر گرفت کو کمزرو کررہے ہیں، اسد کے خلاف علاقائی دشمنوں کی مخالفت کم ہوتی جارہی ہے۔ اردن نے شام کی حکومت سے تعلقات کو معمول پر لانے کا آغاز کردیا ہے، اس سے قبل وہ جنوب میں باغیوں کو اسلحہ اور پیسہ فراہم کررہا تھا۔ ترکی جو باغیوں کاسب سے بڑا حمایتی تھا، اب کردوں کو شام کے بجائے اپنی پراکسی بنانے کی کوشش میں مصروف ہے۔ یمن جنگ سے پریشان سعودی عرب اب اسد حکومت کو ہٹانے پر یقین نہیں رکھتا۔ اقوام متحدہ کے امن مذاکرات کی قیادت کرتے ہوئے اسٹافن ڈی کا کہنا تھاکہ وقت آگیا ہے، حزب اختلاف تسلیم کرلے کہ وہ جنگ نہیں جیت سکتی۔ بڑھتا ہوا اتفاق رائے اس بات کی عکاسی کرتا ہے، مغربی سفارت کار ابھی تک اسد حکومت کے خاتمے کی بات کررہے ہیں۔ مگر یہ سوچ غیر حقیقی لگتی ہے، ایک آمر جس نے لاکھوں ہم وطنوں کو قتل کیا ہو جس کی تقریباً ۸۵ فیصد آبادی غربت کا شکار ہو، ۵ملین پناہ گزین بیرون ملک جاچکے ہیں، بظاہر لگتا ہے کہ ریاست اپنے سابقہ علاقے حاصل کرنے میں ناکام رہے گی۔ اسد حکومت کا مکمل طورپر ایران کے زیر اثر آناامریکا اور اسرائیل کا مشترکہ خوف ہے، ایران نے جنگ میں اپنی حمایت کے بدلے اسد کو خرید لیا ہے، یہ صورتحال مسئلے کو مزید خراب کرے گی۔ اسرائیلی انٹیلی جنس حکام کا دعویٰ ہے کہ ایران جلد شام میں بحری اور فضائی فوجی اڈے لینے کے ساتھ کان کنی کا حق بھی حاصل کرلے گا۔ ایرانی کمپنیوں نے تیل، گیس اور زرعی شعبوں میں بڑے بڑے ٹھیکے حاصل کرلیے ہیں۔ اس حوالے سے ۱۲؍ستمبر کو تباہ شدہ شہر حلب کے لیے ایرانی بجلی گھر درآمد کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ ایرانی کمپنی نے حال ہی میں شام کے تیسرے موبائل فون نیٹ ورک کو چلانے کا معاہدہ کیا ہے، اس سے لڑائی رکنے کے بعد ریاست کے لیے خفیہ معلومات جمع کرنا آسان ہوجائے گا۔ ایران کے اثرورسوخ کو روکنے کی کوشش شامی حکومت کے دیگر اہم اتحادی، روس کے ساتھ نمٹنے میں مشکل پیدا کرتی ہے۔ صدر پوٹن ایرانی طاقت کو خطے میں زیادہ بڑھاوا دینے کے خواہشمند نہیں ہوسکتے، اسرائیلی حکام کو یقین ہے کہ اب بھی دونوں ملکوں (ایران، روس) کے درمیان تعلقات خراب ہونا ممکن ہے۔ ۲۳؍اگست کو اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے سوچی میں پوٹن سے ملاقات کے دوران متنبہ کیا کہ اگر ضروری ہوا تو اسرائیل ایران کو روکنے کے لیے فوجی طاقت کا استعمال کرے گا۔ انہوں نے شاید ایک بارپھر یقین دہانی کرائی کہ روس اسد کو شام پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے سے نہیں روکے گا اور جنگ کے بعد ایران کا کوئی اہم کردار نہیں ہوگا۔ روس، ایران اور حزب اللہ کے حوالے سے کچھ کرسکتا ہے یا کرنا چاہتا یہ الگ معاملہ ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ روس کے زیر قبضہ علاقے میں حالیہ اسرائیلی حملے کے لیے پوٹن نے بخوشی اسرائیلی سربراہ کو اجازت دی ہوگی۔ اسرائیلی وزارت انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر کہتے ہیں کہ ’’روس سمجھتا ہے کہ شام میں ایران، حزب اللہ اور شیعہ جنگجوؤں کی موجودگی صورتحال کو دھماکا خیز بنا سکتی ہے، لیکن خطے میں روسی مفادات کے تحفظ اور اسد حکومت برقرار رکھنے کے لیے روس کوزمینی فوج کی ضرورت ہے، جو ایران فراہم کررہا ہے‘‘۔ اسرائیلی سلامتی کے لیے فوری خطرہ تو حزب اللہ ہی ہے، ان دونوں میں آخری جنگ ۲۰۰۶ء میں ہوئی تھی اور بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوگئی تھی۔گزشتہ مہینے تقریباً دو دہائیوں کے بعد سب سے بڑی فوجی مشقیں کی گئیں۔ حزب اللہ کے حملے کا فوری جواب دینے کے لیے اسرائیل نے بڑی تعداد میں فوج تعینات کر دی ہے۔اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ فوجی مشقوں کا شیڈول ایک سال قبل طے شدہ تھا۔ اس کا حالیہ کشیدگی سے کوئی تعلق نہیں۔ اسرائیلی انٹیلی جنس کو یقین ہے کہ مستقبل قریب میں ایک اور جنگ کا کوئی امکان نہیں ہے۔ شام کی خانہ جنگی نے حزب اللہ کو ملیشیا سے پیشہ وارانہ آرمی میں تبدیل کردیا ہے، اب حزب اللہ بڑے پیمانے کی جنگ لڑنے کے قابل ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی تنظیم کے ۲۰۰۰ جنگجو مارے گئے ہیں اور وسائل کی شدید کمی کا سامنا ہے، اس لیے حزب اللہ دوسرا محاذ کھولنا نہیں چاہے گی۔ اسرائیل اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ ایران حزب اللہ کو مزید مضبوط نہ کرسکے، لیکن وہ اس کے لیے جنگ نہیں چاہتا۔ نیتن یاہو ایک محتاط شخص ہے اور غیر متوقع جنگ کو ناپسند کرتا ہے۔ لیکن اگر ایران، عراق سے لے کر بحیرہ روم تک کے علاقے کو اپنے زیر اثر کرنے کی خواہش سے باز نہ آیا تو صورتحال زیادہ دیر قابو میں نہیں رہے گی۔

(ترجمہ: سید طالوت اختر)

“The growing power of Iran and Hizbullah worries Israel”. (“Economist”. Sept.14, 2017)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*