اگلے انتخابات میں ’’اے کے پی‘‘ کو مسائل درپیش ہو سکتے ہیں

جرنلسٹس اینڈ رائٹر فاؤنڈیشن کے سربراہ مصطفی یشل کا انٹرویو

جرنلسٹس اینڈ رائٹر فاؤنڈیشن کے سربراہ مصطفی یشل

مصطفی یشل ’’خِذمت تحریک‘‘ سے وابستہ ’جرنلسٹس اینڈ رائٹرز فائونڈیشن‘ (GYV) کے سربراہ ہیں، فتح اللہ گولن اس تنظیم کے اعزازی صدر ہیں۔ انصاف و ترقی پارٹی (AKP) اور خذمت تحریک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اسباب پر مصطفیٰ یشل نے ایک انٹرویو میں اظہار خیال کیا، جس کی تلخیص پیش کی جا رہی ہے:۔


سوال: خذمت تحریک سیاست اور سیاسی جماعتوں کے بارے میں کیا موقف رکھتی ہے؟

جواب: خذمت تحریک سول سوسائٹی کی ایک تنظیم (CSO) ہے، جو اللہ کی رضا کی خاطر تمام انسانوں کی خدمت کے لیے کوشاں ہے۔ یہ تحریک ثقافتی اور مذہبی اختلافات کو تنازع کا سبب نہیں سمجھتی۔ اس کی سرگرمیاں رضاکار چلاتے ہیں۔ اس تحریک نے سیاسی مقاصد، مؤقف یا پروگرام کبھی پروان نہیں چڑھائے۔ خذمت تحریک نے ہمیشہ خود کو تمام سیاسی جماعتوں سے ایک فاصلے پر رکھا ہے۔

خذمت تحریک نے اپنی اجتماعی حمایت کو کسی سیاسی جماعت کے لیے کبھی استعمال نہیں کیا ہے اور نہ اپنے حامیوں کو ایسا کرنے پر زور دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خذمت تحریک کے وابستگان متنوع سیاسی رجحانات کا اظہار کر سکتے ہیں۔ بہ الفاظ دیگر خذمت تحریک سے وابستہ افراد عام انتخابات میں جو بھی رائے دیں، تحریک ان کی پسند کے معاملے میں دخل نہیں دیتی۔

سوال: ’خذمت تحریک‘ اور ’اے کے پی‘ میں ماضی میں کیسے تعلقات تھے؟ اب کشیدگی کیوں ہے؟

جواب: اے کے پی ۲۰۰۲ء میں برسر اقتدار آئی تو ترکی فوجی مقتدرہ کی جانب سے شدید دبائو میں تھا۔ پارٹی نے ملک میں جمہوری اقدار کے فروغ، مصالحت، تکثیری سوچ (Pluralistic Approach)، حقوق اور آزادیوں، سنجیدہ تبدیلی کا وعدہ کیا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ وہ بغاوت کی سازش کرنے والوں کے تشکیل کردہ آئین میں ترمیم کرے گی۔

درحقیقت یہ تمام باتیں ترکی کی بنیادی ضروریات تھیں۔ صاف بات یہ ہے کہ اے کے پی نے ۲۰۰۲ء تا ۲۰۱۰ء نمایاں اقدامات کیے اور فوجی مقتدرہ سے لڑائی میں خاصی کامیابی حاصل کرتے ہوئے ۲۰۱۰ء کے ریفرنڈم میں آئین کی ۲۶ دفعات (Articles) میں ترامیم کیں اور جامع اصلاحات متعارف کرائیں۔

تاہم ۲۰۱۰ء میں فوجی مقتدرہ کی طاقت سے مکمل خلاصی اور ریاستی نظام پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے بعد جمہوری عمل کی طرف پیش رفت میں اے کے پی کے تذبذب اور سست روی کا آغاز ہو گیا۔ انسانی حقوق اور آزادیوں کے معاملے میں مسائل اٹھنا شروع ہو گئے، چنانچہ حکومت کے لیے خذمت تحریک کی حمایت بھی کم ہونا شروع ہو گئی۔

سوال: اگلے مہینوں میں سیاست میں کون سی تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں؟

جواب: سروے یہ بتاتے ہیں کہ اے کے پی نے اپنے ووٹروں کو بڑی حد تک برقرار رکھا ہوا ہے، لیکن چونکہ پارٹی نے حال میں خود کو تکثیری سوچ سے الگ کر لیا ہے اور ہر ایک کو گلے لگانے کا جذبہ تَرک کر دیا ہے، چنانچہ مختلف خیال کے عوامی طبقوں میں اس پارٹی کی حمایت یقیناً متاثر ہو گی۔

امتحانی تیاری کے اسکولوں (Exam Preparatory School) کے معاملے میں اے کے پی کی سوچ نے اس کے ووٹروں کو دھچکا پہنچایا ہے، وہ غیر جمہوری روایات کے حوالے سے تشویش میں ہیں کیونکہ پارٹی نے ان اسکولوں کی بندش کے اپنے منصوبے پر کوئی معقول وضاحت بھی پیش نہیں کی ہے۔ اگر عوام میں پائی جانے والی یہ تشویش دور نہ کی گئی تو اگلے انتخابات میں اے کے پی کو سنگین مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے۔ پارٹی حال میں منظر عام پر آنے والے بدعنوانی کے دعووں پر بھی الجھن میں گرفتار لگتی ہے۔

سوال: اے کے پی کوئی معقول حل پیش کرنے کے بجائے پریپ اسکولوں کی بندش پر کیوں مصر رہی ہے؟ اس مسئلے پر اے کے پی اور خذمت تحریک کے درمیان اختلاف کا بنیادی سبب کیا تھا؟

جواب: وزیراعظم تو کہتے ہیں کہ وہ حکومت میں آنے کے وقت سے ہی ان پریپ اسکولوں کی بندش کا سوچ رہے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ۲۰۰۲ء یا ۲۰۰۳ء میں یہ ارادہ ظاہر کر چکے تھے۔ تاہم ۲۰۰۳ء کو تو دس سال گزر چکے ہیں اور اس مدت کے دوران حکومت ملک کے تعلیمی نظام میں موجود مسائل کا حل تلاش کر سکتی تھی، لیکن اس عرصے میں پانچ وزرائے تعلیم آ کر چلے گئے، ہر ایک نے تعلیم میں مختلف طریقے متعارف کرائے لیکن کسی نے بھی پریپ اسکولوں کے معاملے سے نمٹنے کا کوئی سنجیدہ اقدام نہ کیا۔ بالآخر پریپ اسکول بند کرانے کے منصوبے پر عمل درآمد کے لیے وزیراعظم نبی اوجی کو لائے، تاہم عوام کو یہ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ حکومت اس منصوبے پر اتنا اصرار کیوں کر رہی ہے، جبکہ اس نے کوئی متبادل بھی پیش نہیں کیا ہے۔

پریپ اسکول بند کرنے پر حکومت کے اصرار نے دو سوالوں کو جنم دیا ہے۔ اول، کیا حکومت پریپ اسکول بند کرا کے خذمت تحریک کو سبق سکھانا چاہتی ہے؟ دوم، کیا ترکی اپنی جمہوری کامیابیوں سے چھٹکارا پا رہا ہے؟ کیونکہ ان اسکولوں کی بندش سے عوام میں اٹھنے والے ردعمل کو نظرانداز کرنے کا یہی مطلب لیا جائے گا کہ حکومت کا یہ رویہ غیر جمہوری ہے۔

سوال: کیا ماوی مرمرا (Mavi Marmara) واقعے پر، اور بحیثیت مجموعی مشرق وسطیٰ پر پالیسی پر بھی خذمت تحریک اور اے کے پی کے مابین کوئی تنازع ہے؟ آپ اس الزام پر کیا کہتے ہیں کہ خذمت تحریک امریکا اور اسرائیل کے ساتھ ہے؟

جواب: خذمت تحریک تقریباً ۶۰ سال قبل اپنے آغاز ہی سے تشدد سے ہمیشہ دور رہی ہے اور قانون کی مکمل پاسداری کرتے ہوئے مثبت سرگرمیوں کو فروغ دیتی رہی ہے۔ تنازعات کو اس نے کبھی پسند نہیں کیا، بلکہ اس نے کہا ہے کہ مسائل کو مکالمے اور مصالحت کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔ اسی سوچ اور ذہنیت کی بنیاد پر اس نے اپنا فلسفہ تشکیل دیا ہے۔

جہاں تک ’’ماوی مرمرا‘‘ واقعے کا تعلق ہے، جس میں ۲۰۱۰ء میں غزہ جانے والے امدادی جہاز فلوٹیلا پر اسرائیل نے حملہ کر کے ۹ ترک باشندوں کو شہید کر دیا تھا، تو غربت کے شکار غزہ کے باشندوں کو انسانی امداد پہنچانا قابل تعریف ہے، تاہم اس مہم کے دوران کشیدگی سے بھرپور پُرخطر ماحول پیدا ہو گیا جس کی بنا پر خود اے کے پی کے جو ارکان اس سفر پر جانے کا سوچ رہے تھے، آخری لمحے پر ارادہ ملتوی کر بیٹھے۔

اسرائیل کے غیر انسانی طور طریقوں پر تنقید کی جا سکتی ہے، اور اسرائیل کی سرگرمیوں یا فلسطینیوں کے ساتھ اس کے تنازعات پر مختلف طریقوں سے بحث کی جا سکتی ہے۔ مذکورہ مہم المناک واقعات پر ختم ہوئی۔ بین الاقوامی سمندری حدود میں اسرائیل کی جانب سے غیر منصفانہ کارروائی کے باعث نو ترک شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ گولن نے اس پر اظہار افسوس کیا تھا اور مرنے والوں کو ’’شہید‘‘ قرار دیا تھا۔ باہمی کشیدگی کے باوجود ترکی اور اسرائیل کی حکومتوں نے بحران پر قابو پانے کے لیے ہمیشہ رابطہ برقرار رکھا، بالآخر امریکی صدر اوباما کی مداخلت کے بعد اسرائیل نے ترکی سے معافی مانگی۔

اُس وقت گولن نے کہا تھا کہ غزہ کی جانب امدادی سامان کو کسی تنازع کے بغیر لے جایا جانا چاہیے۔ یہ مسئلہ سفارتی ذرائع سے اور کسی جھگڑے کے بغیر حل کیا جا سکتا تھا۔ تاہم جب گولن نے اپنی رائے ظاہر کی تو ان کے الفاظ کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا اور ایسا تاثر دیا گیا جیسے گولن نے یہ کہا ہو کہ اسرائیل کی اتھارٹی کو قبول کر لینا چاہیے۔ درحقیقت گولن یہ کہنا چاہ رہے تھے کہ امدادی سامان غزہ ضرور پہنچایا جائے، لیکن کوئی تنازع کھڑا کیے بغیر۔

دراصل ریاست میں ’’گہری‘‘ جڑیں رکھنے والے بعض گروہ (Networks) طویل عرصے سے یہ خواہش رکھتے ہیں کہ عوام کی نظروں میں خذمت تحریک کا مقام دھندلا دیں۔ اب بعض مذہبی گروہ شدید غیر منصفانہ طرزِ عمل اختیار کرتے ہوئے، ماوی مرمرا مہم پر گولن کی تنقید کا حوالہ دے کر گھنائونے الزام کے ذریعے خذمت تحریک کی آزادانہ حیثیت، اور اسلام اور ترکی کے ساتھ اس کی وفاداری پر شبہات پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حالانکہ اندرونی اور بیرونی آزادی خذمت تحریک کی نمایاں ترین خوبی ہے۔

جہاں تک امریکا اور اسرائیل پر تحریک کے موقف کا سوال ہے، تو خذمت تحریک ایک سول تحریک ہے۔ وہ دنیا کے کئی ملکوں میں سول سوسائٹی کی تنظیموں، علمی طبقات اور اداروں، تعلیمی اداروں اور دیگر شہری نیٹ ورکس کے ساتھ پروگرام اور منصوبے تیار کرتی اور ان پر عمل درآمد کرتی ہے۔ امریکا بھی ان ملکوں میں سے ایک ہے۔ ہم اسرائیل میں بھی سول سوسائٹی کی تنظیموں کے ساتھ روابط استوار کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاہم ابھی تک ان اسرائیلی تنظیموں کے ساتھ ہم نے کسی منصوبے پر تعاون کا آغاز نہیں کیا ہے۔ بالخصوص ہم آگاہ ہیں کہ فلسطین میں تعلیمی سرگرمیوں کے بہت امکانات ہیں تاہم ہم خطے میں افراتفری اور شورش کی بنا پر اس سلسلے میں کوئی ٹھوس اقدام نہیں کر سکے ہیں۔

خذمت تحریک کو ترکی میں کسی ملک یا تنظیم نے کبھی کنٹرول نہیں کیا ہے، یہ ایک آزاد تحریک ہے، کسی بیرونی ریاست کا اس پر کنٹرول ہے، نہ وہ اسے رہنمائی دیتی ہے۔ خذمت تحریک اپنے وسائل، منصوبوں اور موقف کے لحاظ سے مکمل آزاد اور غیر جانبدار ہے۔

سوال: خذمت تحریک نے ایک ’’متوازی ریاست‘‘ بنالی ہے، آپ اس الزام کو کس طرح دیکھتے ہیں؟

جواب: مخصوص مقاصد کے حصول کے ارادے سے کوئی نیٹ ورک منظم کیا جائے اور اسے حکومت میں جگہ دے دی جائے تو ایسے نیٹ ورک کو ’’متوازی ریاست یا گینگ‘‘ کہنا مناسب ہو گا۔ خذمت تحریک ایک شہری تنظیم ہے اور عالمی امن کے لیے آواز بلند کرنا اس کا مقصد ہے، یہ رضاکاروں کے ذریعے سرگرمیاں انجام دیتی ہے۔

خذمت تحریک کے پیروکاروں میں یقیناً بیوروکریٹ یا سرکاری ملازم بھی شامل ہیں، ان میں سینئر بھی ہیں اور جونیئر بھی۔ تحریک کے مشن کے لیے ان کی ہمدردی ایک چیز ہے، لیکن ریاستی نظام میں مختلف مقاصد کے حصول کے لیے ممیز گروہ کے طور پر جدوجہد کرنا ایک بالکل الگ چیز ہے۔ گولن پر متوازی ریاست چلانے کے الزامات کے تحت ۱۹۹۹ء سے ۲۰۰۸ء تک مقدمہ چل چکا ہے، جب فوجی مقتدرہ اپنے عروج پر تھی، لیکن گولن کے خلاف معمولی سے ثبوت بھی نہیں لائے جا سکے۔

ترجمہ: منصور احمد

(“Useful guide to understanding the Hizmet-AK Party tension”.. “Todays Zaman”. Dec. 31, 2013)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*