اقتصادی شعبے میں چین امریکا محاذ آرائی

ترقیاتی شعبے میں سرمایہ کاری سے چین کے دوستوں میں اضافہ اور امریکی اتحادیوں پر بیجنگ کا اثر و رسوخ بڑھنے لگا ہے۔

امریکا اور چین کے درمیان رقابت نے کئی صورتیں اختیار کی ہیں۔ کبھی کبھار ہی کسی کو واضح برتری حاصل ہوتی ہے۔ لیکن نئے ایشین انفرا اسٹرکچر انویسٹمنٹ (اے آئی آئی) بینک کے قیام کے لیے چین کی کوششوں سے ایک بار پھر تصادم کی فضا پیدا ہوئی ہے۔ چین ایشیا ہی نہیں، یورپ میں بھی امریکا کے اتحادیوں کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔ ایسے میں امریکا کا رویہ نامناسب اور غیر متاثرکن رہا۔

برطانیہ اور پھر فرانس، جرمنی اور اٹلی نے گزشتہ ماہ اعلان کیا کہ وہ بانی شراکت دار کی حیثیت سے اس بینک کا حصہ بنیں گے۔ چین کا کہنا ہے کہ لکسمبرگ، سوئٹزرلینڈ اور دیگر یورپی ملک بھی اس بینک میں شمولیت پر غور کررہے ہیں۔ امریکا اب تک ایشین انفرا اسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کے بارے میں شبہات کا شکار ہے۔ امریکی عہدے داروں کا دعویٰ ہے کہ وہ اس بینک کے خلاف کسی قسم کی مہم نہیں چلا رہے، لیکن اس بات نے واشنگٹن کو ضرور فکرمند کر رکھا ہے کہ یہ بینک شفافیت، قرضوں کی واپسی اور پائیداری کے لیے عالمی معیار پر کس طرح پورا اترتا ہے؟

امریکا کے تحفظات کو خطے کے بعض ملکوں نے سنجیدگی سے لیا ہے اور بینک میں شمولیت سے متعلق فیصلے محتاط ہوکر کیے جارہے ہیں۔ امریکی تحفظات کے نتیجے میں اس کے بعض قریبی حلیف آسٹریلیا، جاپان اور جنوبی کوریا بھی ایشین انفرا اسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کے اکیس بانی ارکان کے ساتھ کھڑے نظر نہیں آئے۔ لیکن واشنگٹن کے بااعتماد دوست ملکوں نیوزی لینڈ، سنگاپور اور تھائی لینڈ نے معاہدے پر دستخط کردیے ہیں۔ ان ملکوں کا کہنا ہے کہ حالات کیسے بھی ہوں، چین ایشین انفرا اسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک ضرور متعارف کرائے گا، اس لیے بہتر یہی ہے کہ اس بینک کا بانی رکن بن کر نظام پر اثر و رسوخ ڈالا جائے۔ یورپی ملکوں کی شمولیت سے ایک فائدہ یہ ہوا کہ پہلے بینک کا حصہ بننے سے انکار کرنے والے اب اپنے فیصلوں پر نظرثانی کررہے ہیں۔ آسٹریلیا نے اشارہ دیا ہے کہ وہ اپنے فیصلے کا دوبارہ جائزہ لے رہا ہے، جنوبی کوریا بھی اے آئی آئی بینک کا حصہ بننے کے قریب ہے۔

چین اے آئی آئی بینک کے علاوہ بھی کئی نئے ادارے قائم کرنے جارہا ہے، اس کا مقصد ترقیاتی شعبے میں اپنی کامیابیوں کو عالمی سطح پر منوانے کی کوشش ہے۔ امریکی کانگریس نے بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف میں اصلاحات کی کوششیں پہلے ہی رکوا دی ہیں۔ امریکا نے عالمی بینک پر بھی اپنی گرفت مضبوط کر رکھی ہے۔ منیلا میں قائم ایشیائی ترقیاتی بینک ہمیشہ سے ہی جاپان کے اشاروں پر چلتا آیا ہے۔ جاپان نئے بینک کے قیام سے کچھ خوش نظر نہیں آتا۔ اس کی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ اے آئی آئی بینک بننے سے جاپان کا اثر و رسوخ کم ہوجائے گا اور چین کو فائدہ پہنچے گا۔ جاپان کے کیبنٹ سیکرٹری یوشائیڈ سوگا کا کہنا ہے کہ اُن کا ملک بینک کے نظام کا محتاط انداز میں جائزہ لے رہا ہے۔

چین زر مبادلہ کے سب سے بڑے ذخائر رکھتا ہے اور اسے ’’نرم قوت‘‘ میں بدلنے کے لیے بے قرار ہے۔ چین اصل میں متبادل ڈھانچا تیار کررہا ہے۔ اُس نے صرف ایشین انفرا اسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کی تجویز پیش نہیں کی، بلکہ چین ترقی پذیر ملکوں کی تنظیم BRICS میں شامل اپنے دوست ملکوں برازیل، روس، بھارت اور جنوبی افریقا کے ساتھ مل کر نئے ترقیاتی بینک اور شاہراہِ ریشم ترقیاتی فنڈ بھی بنانا چاہتا ہے، تاکہ وسط ایشیا میں پڑوسی ملکوں کے ساتھ رابطوں کو مزید فروغ دیا جاسکے۔

ایشیا میں انفرا اسٹرکچر کے شعبے میں سرمایہ کاری نہ ختم ہونے والی بھوک کی طرح ہے، اس پر کوئی سوال نہیں اٹھاتا۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کی دو ہزار نو میں کی گئی ایک تحقیق کا بہت حوالہ دیا جاتا ہے جس میں بتایا گیا تھا کہ دو ہزار دس سے دو ہزار بیس کے درمیان سرمایہ کاری کے شعبے کے لیے اَسّی کھرب ڈالر کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ اس میں ۶۸ فی صد رقم نئی تعمیرات پر خرچ کی جائے گی۔ جن میں ۵۱ فی صد بجلی، ۲۹ فیصد سڑکوں کی تعمیر اور ۱۳؍ فیصد ٹیلی کمیونی کیشنز کے شعبے میں لگائی جانی ہے۔ اس میں سے کئی منصوبے ایسے ہیں جنہیں چین اپنے قومی مفاد میں دیکھ رہا ہے اور یقیناً اس سے چین کے ٹھیکے داروں کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ تیز رفتار ٹرین نیٹ ورک بنانے کا مقصد چینی صوبے یونن کو جنوب مشرقی ایشیا میں انڈونیشیا، پاکستان اور سری لنکا کی بندرگاہ سے جوڑنا ہے۔ نئی شاہراہِ ریشم وسط ایشیا کے ذریعے چین کو یورپ سے جوڑے گی۔

ضرورت کے باوجود امریکا نے کسی منصوبے کے تحت یا نامناسب ہونے کے سبب ایشین انفرا اسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کو سفارتی سطح پر قوت آزمائی کے امتحان میں ڈال رکھا ہے۔ امریکا کی یہ کوشش اس کے لیے تباہی ثابت ہوئی ہے۔ امریکی عہدے دار چین کو مستقل سہولت دینے پر برطانیہ کو ذمہ دار قرار دے رہے ہیں اور کئی مبصرین اس رائے سے متفق بھی نظر آتے ہیں۔ لیکن امریکا کے قریبی حلیف اس معاملے میں چین کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں اور امریکی نکتۂ نظر کی مخالفت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ واشنگٹن نے غلط راستے کا انتخاب کیا۔

اس محاذ پر چین کی فتح صرف اتنی سی نہیں۔ مالیاتی طور پر مستحکم کئی ملکوں کی اس بینک میں شمولیت سے یہ بات یقینی ہوچلی ہے کہ ورلڈ بینک اور دیگر عالمی مالیاتی ادارے جس معیار پر چلائے جارہے ہیں، ایشین انفرا اسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک بھی اس پر پورا اترے گا۔ یہ چین کے لیے خوش آئند ہے، اس بینک میں سرمایہ کاری سے چین کو خاطر خواہ فائدہ حاصل ہوگا۔ اگر چین کی قیادت نے اس بینک کو ملک کی خارجہ پالیسی کا ایک جز بنانے کی کوشش کی، تو اس سے توقع کے مطابق فائدے حاصل نہیں ہوسکیں گے۔

اس معاملے نے جاپان اور بحرالکاہل کے دس ملکوں سے تجارتی شراکت داری کے معاہدے کے لیے امریکی کوششوں کو بھی نقصان پہنچایا۔ براک اوباما نے جنوری میں اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں ان کوششوں کو چین کے اقدامات کا جواب قرار دیا اور کہا ’’دنیا کا تیز رفتار اور ترقی پزیر علاقہ بننے کے لیے کچھ قواعد و ضوابط ترتیب دینا ہوں گے‘‘۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ قواعد امریکا ہی بنائے گا۔ ایشین انفرا اسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کے ناکام ہونے کی صورت میں دنیا کے تیز ترین ترقیاتی خطے کا فیصلہ نہیں ہوسکے گا۔

(مترجم: سیف اﷲ خان)

“The Asian Infrastructure Investment Bank: The infrastructure gap”.
(“The Economist”. March 21, 2015)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*