Abd Add
 

نیو یارک سے نقل مکانی کا رجحان

نیویارک پوری دنیا کے لوگوں کے لیے باعثِ کشش رہا ہے، لیکن مسلسل دو دہائیوں سے ہوشربا مہنگائی کے باعث یہاں سے لاکھوں لوگوں نے نقل مکانی کی ہے۔

دی ایمپائر سینٹر فار نیویارک اسٹیٹ پالیسی نے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ نیو یارک اب زیادہ لوگوں کے لیے پرکشش نہیں رہا۔ جو لوگ اس شہر میں روزگار اور رہائش کے لیے آتے ہیں وہ چند ہی ماہ میں پریشان ہوکر واپس چلے جاتے ہیں۔ ایک طرف تو مکانات کے کرائے زیادہ ہیں اور دوسری طرف اس شہر میں روزگار کے مواقع بھی پہلے سے نہیں۔ مہنگائی نے مکینوں کی کمر توڑ دی ہے۔ مسلسل دو عشروں کے دوران نیو یارک سے نقل مکانی کا سلسلہ جاری رہا ہے۔ ۱۹۷۰ء کے عشرے کے بعد سے نیو یارک سے جانے والوں کی تعداد اب ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اکیسویں صدی کے پہلے عشرے کے دوران نیو یارک سے ۱۶ لاکھ افراد نے معاش کے بہتر ذرائع اور رہائش کی عمدہ سہولتوں کے لیے دیگر ریاستوں کا رخ کیا۔ یہ بات بھی ایمپائر سینٹر فار نیو یارک اسٹیٹ پالیسی نے رائے عامہ کے مختلف جائزوں اور مردم شماری کے اعداد کی روشنی میں بتائی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نیو یارک امریکا کے لیے گیٹ وے کا درجہ رکھتا ہے مگر اس کے باوجود لوگ دوسری ریاستوں کا رخ اس لیے کر رہے ہیں کہ نیو یارک میں ٹیکس زیادہ ہیں، مکانات کی قیمتیں اور کرائے بہت ہیں۔ دفاتر بھی اسی حساب سے مہنگے ہیں۔ شہر کو چلانے والی افسر شاہی میں خرابیاں بہت پائی جاتی ہیں۔

۱۹۶۰ء سے اب تک نیو یارک کے ۷۳ لاکھ باشندے زندگی بسر کرنے کے بہتر ذرائع کی تلاش میں دیگر ریاستوں کی طرف نقل مکانی کرگئے۔ اس دوران ترک وطن کرکے آنے والے ۴۸ لاکھ افراد نے نیویارک کو اپنا مسکن بنایا۔ آبادی کے معاملے میں شہر کو نصف صدی کے دوران پہنچنے والا نقصان ۲۵ لاکھ سے کم نہیں۔

نیو یارک اب امریکی باشندوں کے لیے اتنا پرکشش نہیں رہا جتنا تارکین وطن کے لیے ہے۔ ۱۹۸۰ء سے اب تک نیو یارک کا رخ کرنے اور اسے اپنا ٹھکانہ بنانے والے تارکین وطن کی تعداد ۲۰ لاکھ سے زائد ہے۔ قومی اوسط کے مقابلے میں یہ تعداد کم ہے۔ کیلیفورنیا کے باشندوں میں سے بیرون ملک پیدا ہونے والوں کی تعداد ۲۷ فیصد ہے۔ اس معاملے میں ملک بھر میں نیو یارک دوسرے نمبر پر ہے جس کے باشندوں میں سے بیرون ملک پیدا ہونے والے ۲۱ فیصد ہیں۔

(بشکریہ: روزنامہ ’’ڈان‘‘ کراچی۔ ۴؍اگست ۲۰۱۱ء)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.