Abd Add
 

مصر: اِخوان المسلمون کامیابی کی طرف گامزن

آمر حسنی مبارک کے خلاف کامیاب انقلاب کے بعد مصر میں ہونے والے پہلے پارلیمانی انتخابات کے پہلے مرحلے میں اخوان المسلمون نے واضح سبقت حاصل کرلی۔ نتائج کے مطابق فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی (اخوان المسلمون کاسیاسی ونگ) نے اب تک ۴۷ فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں اور وہ پہلے نمبر پر ہے، جبکہ دوسرے نمبر پر سلفی جماعت کی النور تحریک ہے۔ اس طرح اسلامی جماعتوں نے انتخابات کے پہلے مرحلے میں واضح برتری حاصل کر لی ہے۔ سیکولر جماعتوں کے اتحاد نے ۲۲ فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں۔ ایک مصری صحافی نے لکھا ہے کہ اخوان کی کامیابی کی وجہ وسیع فلاحی خدمات ہیں، جیتنا نہیں، ہارنا حیرت انگیز ہوتا۔ پیر اور منگل کو پہلے مرحلے میں قاہرہ، اسکندریہ سمیت بعض دیگر علاقوں میں ووٹنگ ہوئی جس میں مصریوں کی بڑی تعداد نے حق رائے دہی استعمال کیا۔ باقی ملک میں دسمبر اور جنوری میں دوسرے اور تیسرے مرحلے کے تحت انتخابات ہوں گے۔ بعدازاں جنوری سے ایوان بالا (سینیٹ) کے انتخابات کے لیے پولنگ شروع ہوگی۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اخوان المسلمون نے انتخابی مہم کے دوران مذہبی برداشت کا غیر معمولی مظاہرہ کیا۔ مصری عوام میں اس کی مقبولیت اور احترام کی وجہ اس کے بے شمار وسیع سماجی و فلاحی کام اور خدمات اور حسنی مبارک کے خلاف قومی جدوجہد میں بے مثال خدمات ہیں۔ عرب قومیت کے حامی مصری اخبار ’’الشرق الاوسط‘‘ کے صحافی طارق الحمید نے لکھا ہے کہ ’’اخوان المسلمون کی غیر معمولی کامیابی حیرت انگیز نہیں ہے بلکہ اصل تعجب اس وقت ہوتا اگر وہ ہار جاتی‘‘۔ انہوں نے لکھا کے اخوان المسلمون ایک طاقتور جماعت ہے جو دن رات زمین پر کام کرتی ہے، سوشل نیٹ ورک سائٹس پر نہیں جبکہ لبرل ٹوئٹر پر مصروف ہوتے ہیں۔

(بشکریہ: اے ایف پی)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.