عرب دنیا کے مَلِک اور مملوک ریاستیں

قاہرہ کے دفتر میں بیٹھ کر نیل کے نظاروں سے لطف لیتا تاجر اپنا موبائل فون شیشے کے جار میں رکھتا ہے جبکہ شہر کے دیگر حصوں میں ایک لکھاری اپنا فون فرج میں رکھتی ہے۔ اگر اسمارٹ فون کبھی ساری عرب دنیا میں انقلابیوں کا ہتھیار تھے تو اب یہ خفیہ اداروں کا آلۂ کار بن گئے ہیں تاکہ مخالفین کے فون ہیک کرکے انہیں جاسوسی کے آلات میں بدل دیا جائے۔ ان دنوں عرب دنیا میں کام کرنے والے صحافی کو ایسے اسمارٹ فون کی ضرورت ہے جو روابط کی انتہائی محفوظ ایپس سے مزین ہو۔ مصری اس ضمن میں ’’سگنل‘‘ کو پسند کرتے ہیں، سعودیوں کی ترجیح ’’ٹیلی گرام‘‘ ہے اور لبنانی ابھی تک ’’واٹس ایپ‘‘ پر بھروسا کیے ہوئے ہیں۔

۲۰۱۱ء میں عوامی احتجاج کے ذریعے حسنی مبارک کی معزولی کے باجود معاملات پر ریاست کی گرفت زیادہ ڈھیلی نہیں پڑی۔ اسلام پسند منتخب صدر محمد مرسی کو فوج کے جانب سے ہٹائے جانے کے بعد یہ شکنجہ مزید سخت ہوگیا ہے۔ مبارک دور سے موازنہ کریں تو خود کو فرزندِ انقلاب قرار دینے والے جنرل عبد الفتاح السیسی کے دور میں مصر میں جبر بڑھ گیا ہے اور معیشت بھی بدحال ہوئی ہے۔ احتجاج زور پکڑ رہا ہے، خاص طور سعودی شاہ سلمان کے ساتھ ہونے والے اس معاہدے کے بعد جس میں بحیرہ احمر کے دو جزائر سعودی عرب کو دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔

جمال عبد الناصر کے عرب قوم پرستی کے نعرے کو ایک طرف رکھ کر بہت سے لوگ اس دور کے جبرسے آج کا موازنہ کررہے ہیں۔ ناصر نے بھی اخوان المسلمون کو کچلنے کی کوشش کی تھی۔ اور ناصر کے دور کی طرح آج بھی یہ خطرہ ہے کہ سیسی سیاسی اسلام پسندوں کو کہیں متشدد جہادیوں میں تبدیل نہ کردیں۔ کسی زمانے میں موسم سرما کی تعطیلات گزارنے کے لیے بہترین سمجھے جانے والے جزیرہ نمائے سینا کو داعش اپنا ایک صوبہ قرار دے چکی ہے۔ اکتوبر ۲۰۱۵ء میں اس نے شرم الشیخ سے اڑان بھرنے والے روسی طیارے کو مار گرایا تھا۔

حسن اتفاق کہیے کہ ۲۰۱۱ء میں معزول ہونے والے سارے عرب رہنما بادشاہت کی نہیں بلکہ جمہوریت کی سربراہی کررہے تھے۔ عرب صدور بظاہر سخت مگر کسی حد تک کمزور ہوتے ہیں۔ ناصر کا مصر بالکل ویسا ہی تھا، جسے سابق فرانسیسی سفارت کار ژاں پی ایغ فیلیو (Jean-Pierre Filiu) نے مصر کی مملوک ریاست قرار دیا تھا، جس پر تیرہویں سے سولہویں صدی تک خود کو دوام دینے والے غلام سپاہیوں نے حکومت کی۔ فیلیو نے یہ نام الجیریا، شام اور یمن سمیت دیگر جمہوری ممالک کو بھی دیا، جن کی تاریخ میں فوجی بالادستی کے طویل اور دردناک ادوار رہے ہیں۔

اشتراکیت کی طرف جھکاؤ اور معیشت پر مرکزی کنٹرول رکھنے والی ان’’مملوک‘‘ جمہوریتوں نے اولاً خود کو اتاترک کے ترکی کی آمرانہ قوم پرستی پر استوار کیا حالانکہ انہوں نے اتاترک کے عسکری سیکولرازم کو پوری طرح نہیں اپنایا۔ ان کے اندرونی دفاعی نظام سوویت یونین کی طرز کے تھے، جس سے وہ زیادہ قریب بھی تھے۔

ان حکومتوں کی فرقہ وارانہ بنیاد کو سخت گیر قوم پرستی نے کئی مرتبہ ڈھانک دیا: یعنی عراق میں سنی اقلیت اور شام میں علوی۔ تو پھر ان حکومتوں کا انتہائی غیرمقبول ہونا کوئی اچھنبے کی بات نہیں ہونی چاہیے۔ عراق کو متنفر لکھاری کنعان مکیہ نے ’’جمہوریت سے خوفزدہ‘‘ قرار دیا تو شام کو فرانسیسی ماہر عرب مائیکل سیورات (Michel Seurat) نے ’’بربریت کی ریاست‘‘ کہا۔ صدام حسین کے عراق میں باغی کردوں پر ۱۹۸۸ء میں گیس چھوڑی گئی، حافظ الاسد کے شام میں اخوان المسلمون کی مزاحمت کچلنے کے لیے پورے حماۃ شہر کو ملیامیٹ کردیا گیا۔ الجیریا میں ۱۹۹۲ء میں جہادیوں کے خلاف ایک خون آشام اور بدترین جنگ چھیڑی گئی جو ایک عشرے تک جاری رہی۔

خوف اور ہچکچاہٹ:

حسنی مبارک نے مصر پر کھوجنے والی ٹارچ کے ساتھ حکومت کی کیونکہ شاید وہ اپنے مغربی حامیوں کو برہم کرنا نہیں چاہتے تھے۔ جناب سیسی تو گویا خون بہانے میں کسی ہچکچاہٹ سے دوچار بھی نہیں تھے۔ اخوان المسلمون کو کچلنے میں ہزاروں جانیں جاچکی ہیں اور دسیوں ہزار افراد سلاخوں کے پیچھے ہیں۔

ایک سازشی نظریے کی رُو سے مصر میں ۲۰۱۱ء کی بغاوت کو جرنیلوں نے ابتدا سے آخر تک اپنے ہاتھ میں رکھا۔ انہوں نے مبارک کو ہٹانے کے لیے مظاہرین کا سہارا لیا، پھر روشن خیالوں کو اخوان المسلمون کے ذریعے ٹھکانے لگایا، اور بالآخر روشن خیالوں کو استعمال کرکے مظاہرین اور اخوان کو راستے سے ہٹا کر براہ راست فوجی حکومت کی راہ ہموار کی گئی۔ درحقیقت اس طرح دیکھیں تو ان کا کردار بڑا اختراعی معلوم ہوتا ہے لیکن اس نظریے سے پتا چلتا ہے کہ ریاست کو وہاں کن نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔

اور ظاہر ہے کہ تشدد صوابدیدی بھی ہوتا ہے اور شیطانی بھی۔عدالتیں تو قوانین کی پابند ہیں۔ فروری میں مصری مزدور تنظیموں پر پی ایچ ڈی کرنے والے اطالوی طالب علم کی تشدد کے ذریعے ہلاکت جیسے واقعات سے سیسی کی بین الاقوامی پذیرائی حاصل کرنے کی خواہش کو کوئی مدد نہیں ملی کیونکہ عام خیال یہ تھا کہ یہ ہلاکت خفیہ پولیس کے ہاتھوں ہوئی۔

بیروت میں قائم حلقہ دانش (Carnegie Middle East Centre) کے رکن یزید صائغ کہتے ہیں کہ ’’میرے خیال میں مصر میں ان دنوں ریاست موجود ہی نہیں ہے۔ یہاں مفاد پرست گروہوں اور اداروں کا اتحاد ہے، جن میں سے ہر ایک ریاست سے بالاتر ہے۔ اکثر ان کے مفادات متضاد ہوتے ہیں اور یہ سیسی کو بھی خاطر میں نہیں لاتے‘‘۔

بہت سی جمہوری ریاستوں نے اپنے جواز کی بنیاد، دو مقاصد پر رکھی: عربوں کا اتحاد اور فلسطین کی آزادی۔ ان میں سے کوئی بھی مقصد پورا نہیں ہوا۔ البتہ ان کی جمہوریت پسندی کا نتیجہ یہ نکلا کہ سارے حکمران اپنی بادشاہتیں قائم کرنے کی خواہشوں کے چنگل میں پھنستے چلے گئے۔ شام میں حافظ الاسد کے بعد ان کے بیٹے بشارالاسد کو اقتدار ملا، حسنی مبارک مصر میں اپنے بیٹے جمال کو لانا چاہتے تھے، یمن کے علی عبد اللہ صالح کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ اپنے بیٹے احمد کو تیار کررہے ہیں، تیونس کے معزول صدر زین العابدین بن علی کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ اپنے داماد شاکر الماتری کے لیے کوشش کررہے ہیں۔

کچھ لوگ جمہوریت اور ملوکیت کو ملا کر ان ریاستوں کو طنزاً ’’جملوکیت‘‘ کے نام سے پکارتے ہیں۔ پیرس میں قائم سائنز پو (Sciences Po) یونیورسٹی میں پروفیسر ایمریطس غسان سلامے کہتے ہیں کہ ’’یہ سب کچھ ایک ایسے مرحلے پر آگیا تھا جہاں یہ لوگ ریاست کو مکان یا گاڑی کی طرح اپنی اولادوں کو دے رہے تھے۔ شورشوں کے پنپنے کی یہ بڑی وجہ تھی‘‘۔

فطری عرب بادشاہتوں نے البتہ بہتر کارکردگی دکھائی، کم سے کم اب تک۔ قوم پرستی کے دور میں ۱۹۵۲ء میں مصر کے شاہ فاروق سے لے کر ۱۹۶۹ء میں لیبیا کے شاہ ادریس تک پانچ عرب بادشاہ فارغ ہوئے، اور دیگر نے کئی دہائیوں تک خطرہ محسوس کیا۔ لیکن اب گویا ملک، امیر اور سلطان عرب بادشاہت کی رگ و پے میں سرائیت کرگئے ہیں اور صدارتی آمریت کے مقابلے میں زیادہ سخت جان ہیں۔

سلامے کے نزدیک ان عرب حکمرانوں کو جواز عطا کرنے والی چیزیں تین ہیں: نمائندگی (جمہوریتوں میں بھی کوئی آزادانہ طور پر منتخب نہیں ہوتا)، کامیابیاں (زیادہ تر جمہوریتوں کے کھاتے میں خاص کامیابیاں نہیں ہیں)، اور حسب نسب (جو اب تک سب سے بڑی اہلیت سمجھی جاتی ہے)۔ سلامے کے نزدیک یہ ایسا ہے کہ ’’میں تم پر حکومت اس لیے کرتا ہوں کیونکہ تم جو بھی ہو وہ میرے مرہون منت ہو‘‘۔ یہ بات سعودی شاہی خاندان پر تو بالکل پوری اترتی ہے جس نے مملکت کو اپنا نام بھی عطا کردیا اور اپنی بادشاہت کے ڈانڈے اٹھارہویں صدی میں نجد پر حکمرانی سے جا ملائے۔

خلیج تعاون کونسل کے چھ تیل پیدا کرنے والے ممالک یعنی سعودی عرب، کویت، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات اور عمان میں پیسہ ہی کامیابی کی کنجی ہے۔ عرب بہار کے بحرانی دنوں میں بادشاہتیں خوب پیسہ لٹا رہی تھیں، تنخواہیں بڑھا رہی تھیں اور عوامی مقبولیت برقرار رکھنے کے لیے نئے نئے منصوبے بنا رہی تھیں۔

اس کے علاوہ خلیج تعاون کونسل کے ارکان کو مغربی کے اتحادی ہونے کے نام پر باہر سے سفارتی و عسکری مدد بھی ملتی رہی (قطر میں ایک بڑا امریکی فضائی اڈہ ہے اور بحرین میں ایک بحری اڈہ ہے)۔ بحرین میں بڑے پیمانے پر مظاہروں کے بعد، جہاں اقلیتی سنی خاندان شیعہ اکثریت پر حکومت کرتا ہے، دیگر خلیجی ملکوں نے بادشاہت کو بچانے کے لیے فوجیں بھیج دی تھیں۔

مراکش اور اردن تیل پیدا نہیں کرتے لیکن ان کے بادشاہ، محمد ششم اور عبداللہ دوم، حضرت محمدؐ سے اپنا نسبی تعلق بتاکر مذہبی جواز پیدا کیے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ سیاسی جواز کا دعویٰ بھی کرتے ہیں: مراکش کے سابق سلطان محمد پنجم کو فرانسیسیوں نے مڈغاسکر جلاوطن کردیا تھا اور ان کی واپسی مراکشی قوم پرستوں کا بڑا مطالبہ بن گئی تھی۔ ہاشمیوں نے ۱۹۱۶ء میں برطانوی مدد کے ساتھ عثمانیوں کے خلاف بغاوت کا پرچم بلند کردیا تھا۔

لیکن شاید وراثت سے زیادہ اہم ان بادشاہتوں کا بدلتے وقت کے تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ رہنا ہے۔ خلیجی خاندانوں کے برعکس، جہاں نوکر شاہی تک شاہی خاندان چھائے ہوئے ہیں، مراکشی اور اردنی خود کو روز مرہ کی حکمرانی سے دور رکھتے ہیں۔ انہوں نے کچھ ناقدین کے ساتھ بناکر رکھنا یا کم از کم ان کے ساتھ گفتگو کرتے رہنا سیکھ لیا ہے۔ عرب بہار کے دوران دونوں نے زیادہ آزادی کے مطالبے کو پورا کیا۔ دونوں ملکوں میں محدود آئینی اصلاحات ہوئیں اور پارلیمانی انتخابات ہوئے۔ اردن اس معاملے میں زیادہ سخت ہے۔ اخوان المسلمون نے انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا اور حکومت یہ تحریک ختم کرنا چاہتی ہے۔ مراکش میں اخوان المسلمون سے متاثر جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی نے پہلی بار کسی بھی پارٹی سے زیادہ ووٹ حاصل کیے۔ اس کے سربراہ عبد الالہ بنکیران چار جماعتی اتحادی حکومت کے وزیراعظم بنے۔

ساتویں صدی میں طلوع اسلام کے بعد سے عرب تاریخ پر تین سلطنتیں چھائی رہی ہیں:بنو امیہ، بنو عباس اور عثمانی ترک۔اردن کے القدس مرکز برائے سیاسی مطالعات کے ڈائرکٹر عُریب رنتاوی کہتے ہیں کہ ’’موروثیت لوگوں کی طرز فکر میں شامل ہے۔ اگر آپ اردن میں ریفرنڈم کرائیں تو غالب اکثریت بادشاہت کے حق میں ہوگی۔ اردن اور مراکش میں سیاسی جماعتوں نے زیادہ تر اصول تسلیم کرلیے ہیں جن میں سب سے اوپر بادشاہت ہے۔ دیگر جگہوں پر خون آشام حکومتیں خون آشام مخالفت کو جنم دے رہی ہیں‘‘۔

(ترجمہ: حارث رقیب عظیمی)

“The nature of the state: Mamluks and maliks”. (“The Economist”. May 14, 2016)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*