چین کی نئی شاہراہِ ریشم

چین اور لاؤس کے درمیان اسمگلنگ اور تجارت ساتھ ساتھ چل رہی ہے۔ روزانہ سیکڑوں ٹرک لاؤس سے لکڑی، ٹیکسٹائل اور زرعی مصنوعات لے کر چین میں داخل ہوتے ہیں اور واپسی پر گھریلو استعمال کے آلات، چھوٹی مشینری اور تعمیرات میں استعمال ہونے والا سامان لے کر واپس آتے ہیں۔ لاؤس کا سرحدی قصبہ بوٹین مجموعی طور پر زیادہ آباد ہے نہ پُررونق۔ چند ہی دکانیں ہیں جن میں بھی صرف اسنیکس ملتے ہیں۔ اس قصبے میں سائن بورڈ دکھائی دیتے ہیں نہ کہیں بڑے پیمانے پر خرید و فروخت ہو رہی ہوتی ہے۔

دوسری طرف چین میں جو سرحدی قصبہ تجارت کرتا ہے، وہاں سڑکیں بہتر حالت میں ہیں۔ ماحول بہت صاف ستھرا ہے۔ اس قصبے میں کئی تجارتی ادارے ہیں جو رات دن کام میں مصروف رہتے ہیں۔ چند عمارتیں دس سال سے زیادہ پرانی ہیں۔ مجموعی طور پر دیہی ماحول نے اس قصبے کا پیچھا اب تک نہیں چھوڑا۔ گلیوں میں اور سڑکوں پر مرغیاں اب بھی گھومتی پھرتی ہیں۔ دوپہر کے کھانے کے بعد تمام تجارتی ادارے ڈھائی تین گھنٹے کے لیے بند کردیے جاتے ہیں۔

چین اور لاؤس کے سرحدی قصبے تجارت کا دائرہ وسیع کرنے کی کوششوں میں جُتے ہوئے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ تجارت کے لیے آنے والوں کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں دی جائیں۔ اس کے لیے ہوٹل اور ریستوران تعمیر کرنے کا پروگرام ہے۔ شاپنگ مال کی تعمیر کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔ چین کے سرحدی قصبے موہان میں بائیس ہزار مربع میٹر (دو لاکھ ۳۷ ہزار مربع فٹ) رقبے پر ہوٹل، ریستوران، امیوزمنٹ پارک اور دیگر سہولتوں کی تعمیر کے لیے منصوبے کو حتمی شکل دی جارہی ہے۔ چین کے جنوب مغرب صوبے یُنان کے اس قصبے کو زیادہ سے زیادہ ترقی دینے میں علاقائی رہنما بھی دلچسپی لے رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ اس قصبے کو جنوب مشرقی ایشیا میں نئے تجارتی مرکز کی حیثیت دیں۔ تیاریاں ایک نئے معاشی ٹیک آف کے لیے کی جارہی ہیں۔ یہ کوئی معمولی چیلنج نہیں۔ چین کا ایک ترقی پذیر علاقہ اپنے ساتھ ساتھ ایک غریب اور انتہائی پسماندہ پڑوسی کی ترقی کی راہ بھی ہموار کرے گا۔

یُنان کی تاریخ سنہری ہے۔ دو ہزار سال قبل یہ علاقہ غیرمعمولی ترقی سے ہمکنار تھا۔ تجارت عروج پر تھی۔ چائے اور دیگر مصنوعات لے کر یہاں کے تاجر یورپ جاتے اور وہاں سے بہت سا سامان لے کر آتے تھے۔ یورپ سے بھی تاجر اِس خطے میں آیا کرتے تھے۔ اس وقت یُنان چین کی مجموعی ترقی میں ایک ایسے کردار کا حامل ہے جسے نہ ہونے کے برابر قرار دیا جاسکتا ہے۔ علاقہ بہت خوبصورت ہے مگر اِس سے مستفید ہونے پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی۔ چین کے ۳۱ میں سے ۲ ہی صوبے ایسے ہیں جن کی فی کس آمدن یُنان کے باشندوں کی فی کس آمدن سے کم ہے۔ یُنان میں شہری اور دیہی علاقوں کی آمدن میں فرق ملک بھر میں سب سے زیادہ ہے۔ یُنان میں بہت سے خوبصورت اور پُرفضا مقامات ہیں۔ اگر حکومت چاہے تو سیاحت کو تیزی سے ترقی دے سکتی ہے مگر پہاڑی علاقوں میں آمد و رفت کی سہولتیں انتہائی ناگفتہ بہ حالت میں ہیں۔ ایسے میں سیاحت کو ترقی دینے کے خواب کو شرمندۂ تعبیر نہیں کیا جاسکتا۔ کان کنی کے علاوہ یہاں تمباکو کی کاشت بھی ہوتی ہے مگر یہ سب کچھ سرکاری اداروں کے ماتحت ہے۔ نجی سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے۔

ایسا نہیں ہے کہ مرکزی حکومت نے یُنان کو نظر انداز کردیا ہے۔ اس صوبے کو ترقی دینے کی کوششیں جاری ہیں۔ سب سے بڑھ کر اس امر کی کوشش کی جارہی ہے کہ سرحد پار تجارت کو فروغ ملے۔ پڑوسی ممالک سے بہتر معاشی روابط کے ذریعے یُنان کو تیزی سے ترقی دی جاسکتی ہے۔ یُنان یونیورسٹی کے یینگ ژیان منگ کہتے ہیں کہ مرکزی حکومت یُنان کو ترقی دینے کے متعدد منصوبوں پر عمل کر رہی ہے تاکہ معاشی ٹیک آف ممکن ہو۔ یُنان کے بعض حصے چین کے دیگر علاقوں کے مقابلے میں سنگاپور اور تھائی لینڈ سے قریب ہیں۔ یہ دونوں ممالک غیر معمولی تجارت کے بحری راستوں تک رسائی آسان بناتے ہیں۔

چین کے صدر شی جن پنگ نے چین کی پرانی شاہراہِ ریشم کو بحال کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سڑکوں کا نیا جال بچھانے کی تیاری کی جارہی ہے۔ نئی تجارتی سہولتوں کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ ہائی اسپیڈ ریل روڈ کے علاوہ نئی پائپ لائنیں ڈالی جارہی ہیں، نئی بندرگاہیں تعمیر کی جارہی ہیں۔ وسطی ایشیا سے وسطی چین اور مشرقِ وسطیٰ، جنوبی ساحل سے بحری راستہ اور یُنان سے بیرونی راستہ بحال کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس حوالے سے درجنوں منصوبوں پر کام ہو رہا ہے اور ابھی کئی منصوبے پائپ لائن میں ہیں۔

شی جن پنگ نے ان تمام منصوبوں کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے کم و بیش ۹۰؍ارب ڈالر مختص کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سڑکوں، ریل روڈ، پائپ لائنوں اور بحری راستوں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے انہوں نے اکتوبر میں ۵۰؍ارب ڈالر سے ایشین انفرا اسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک قائم کرنے کا اعلان کیا۔ ایشیا کے چند انتہائی غریب ممالک کو بھی اس بینک سے کچھ نہ کچھ دیا جائے گا تاکہ وہ چین تک تجارتی راستے آسانی سے تعمیر کرسکیں۔ چین کی حکومت تجارت کو زیادہ سے زیادہ فروغ دینا چاہتی ہے تاکہ پورا ایشیا تجارتی نیٹ ورک کے لحاظ سے ایک لڑی میں پرویا جاسکے۔

چین کی مرکزی حکومت اس بات کو محسوس کرتی ہے کہ تجارتی راستوں کی تعمیر میں تعاون سے پڑوسیوں کا دل جیتا جاسکتا ہے۔ میانمار (برما)، تھائی لینڈ، لاؤس اور دیگر پڑوسیوں کے ساتھ بہت سے تجارتی راستوں کی تعمیر میں چین نے بھرپور تعاون کیا ہے۔ یُنان کے دارالحکومت کنمنگ سے لاؤس کی سرحد تک ایک سڑک پہاڑوں کو چیر کر بنائی گئی ہے۔ اس راستے میں کئی سرنگیں بھی ہیں۔ کنمنگ سے ویت نام کے سرحدی قصبے ہیکو تک ایک ریلوے لائن آئندہ سال مکمل ہوجائے گی۔

پڑوسیوں کے ساتھ چین کے تعلقات بہتر ہوتے جارہے ہیں۔ تجارت اور سرمایہ کاری کو غیر معمولی رفتار سے فروغ مل رہا ہے۔ میانمار کی بندرگاہ کیاؤکفو اور یُنان کے دارالحکومت کے درمیان اب تیل اور گیس کی پائپ لائن کام کر رہی ہے۔ چین کی ایک سرکاری ٹیلی کام آپریٹر کمپنی یونی کام نے حال ہی میں میانمار اور یُنان کے درمیان آپٹک فائبر بچھایا ہے۔ میانمار، لاؤس اور ویت نام کے لیے چین کی برآمدات میں ۱۹۹۰ء سے مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

چین نے اپنے پڑوسیوں سے معاشی اشتراکِ عمل کے جو معاہدے کیے ہیں، اُن کے حوالے سے سب سے بڑی پریشانی اِن ممالک کا عدم استحکام ہے۔ دو ہائی اسپیڈ ریل روڈ لنکز کی تعمیر کے لیے میانمار سے ۲۳؍ارب ڈالر کا معاہدہ کیا جاچکا ہے۔ یہ منصوبہ ۲۰۲۱ء تک مکمل ہوگا۔ مگر مشکل یہ ہے کہ یہ معاہدہ فوجی حکومت نے کیا ہے۔ اس معاہدے کی حتمی ضمانت کوئی بھی نہیں دے سکتا۔ ۲۰۱۱ء میں تھائین سین کے برسر اقتدار آنے کے بعد سے میانمار میں سیاسی اصلاحات کا دور شروع ہوا ہے مگر چین سے اس کے تعلقات بہتر نہیں۔ تھائین سین نے محض یہ دکھانے کے لیے وہ چین کے حاشیہ بردار نہیں، ایک چینی فرم کو ڈیم کی تعمیر سے روک دیا ہے۔ کنمنگ سے میانمار تک ریل روڈ لنک تعمیرکرنے کا منصوبہ بھی کھٹائی میں پڑا ہوا ہے۔

چین کے پڑوسی بعض معاملات میں تحفظات کا شکار بھی ہیں۔ اُنہیں ڈر ہے کہ اُن کے بازار چین کی مصنوعات سے بھر جائیں گے، جس کے نتیجے میں مقامی صنعتیں بُری طرح متاثر ہوں گی۔ میانمار اور لاؤس کو یہ بھی ڈر ہے کہ تجارتی راستوں کی تعمیر سے اُن کی اسلحے اور دیگر اشیا کی غیرقانونی تجارت پر بھی زد پڑے گی۔ چین میں ڈیم بڑی تعداد میں بنائے گئے ہیں جن سے پیدا ہونے والی بجلی چین کی معیشت کے لیے انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ پڑوسیوں کا کہنا ہے کہ ڈیموں کی تعمیر سے اُنہیں چھوٹے پیمانے پر سیلاب کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ساتھ ہی وہ یہ شکوہ بھی کرتے ہیں کہ چین سامان تو دیتا ہے، تکنیکی مہارت منتقل نہیں کرتا۔

چین کے بیشتر پڑوسیوں میں یہ خدشہ پروان چڑھ رہا ہے کہ چین تجارت سے آگے بھی کچھ سوچ رہا ہے۔ خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثرات کو سبھی محسوس کر رہے ہیں۔ جنوبی چین کے سمندر میں کئی ممالک چین کے ممکنہ توسیع پسندانہ عزائم سے سہمے ہوئے ہیں۔ اِن میں سب سے اہم ویت نام ہے۔ ویت نام سمیت تمام ہی پڑوسیوں کو خدشہ ہے کہ چین تجارت اور سرمایہ کاری کے معاملے میں انتہائی مستحکم ہونے کے بعد خطے کے ممالک کو دباؤ میں لینا شروع کرے گا اور ہوسکتا ہے کہ وہ اپنی سرحدوں کو توسیع دینے کے بارے میں بھی سوچے۔ چین کے بیشتر یا تقریباً تمام ہی پڑوسی اس پوزیشن میں نہیں کہ معاشی اعتبار سے اس کا سامنا کرسکیں۔ چین علاقائی سطح پر اپنے اثرات کا دائرہ وسیع کرتا جارہا ہے۔ ایسے میں تحفظات کا پیدا ہونا اور پروان چڑھتے رہنا ناگزیر ہے۔ شی جن پنگ کی طرف سے تمام پڑوسیوں سے بہترین روڈ اور ریل روڈ لنکز تعمیر کرنے کی پالیسی کو بھی خطرے کی گھنٹی سمجھا جارہا ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکا نے بھی ایسی ہی پالیسی اختیار کرکے خارجہ پالیسی کے اہداف حاصل کیے تھے۔

چین تجارتی راستوں کی تعمیر سے جو مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے، اُن کے لیے قوانین میں تبدیلی اور لچک پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ محنت کشوں کی حرکت پذیری کو وسعت دینا بھی ناگزیر ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ اسمگلنگ کا ہے۔ جنوب مشرقی ایشیا میں اسمگلنگ کے باعث تمام ہی ممالک کو ہر سال مجموعی طور پر سیکڑوں ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

“The new Silk Road: Stretching the threads”. (“The Economist”. Nov. 29, 2014)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*