بھارت میں مسلمانوں کی حالتِ زار

ایک رپورٹ کے مطابق مہاراشٹر میں مسلمانوں کی آبادی ۶ء۱۰ فیصد جبکہ جیلوں میں اُن کی تعداد ۴ء۳۲ فیصد ہے۔ گجرات میں آبادی ۰۶ء۹ فیصد اور جیلوں میں اُن کی تعداد ۲۵ فیصد ہے۔ آسام میں مسلمانوں کی آبادی ۹ء۳۰ فیصد اور جیلوں میں اُن کی تعداد ۱ء۲۸ فیصد ہے۔ کرناٹک میں مسلمانوں کی آبادی ۲۳ء۱۲ فیصد ہے اور جیلوں میں ان کی تعداد ۹ء۱۷ فیصد ہے۔ نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں ۳۲۸,۱۴ قیدیوں میں سے مسلمان ۵۶۲۰ ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پولیس مسلمانوں کو شبہ اور جھوٹے مقدمات میں گرفتار کرتی ہے۔ عدلیہ میں انھیں انصاف بھی نہیں ملتا۔ مغربی بنگال میں مسلمان آبادی کا ۲۵ فیصد ہیں۔ آسام میں مسلمانوں کی آبادی ۳۱ فیصد ہے مگر عدلیہ میں اُن کی نمائندگی ۴ء۹ فیصد ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر عدلیہ میں مسلمانوں کا تناسب ۴۸ فیصد ہے۔ سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کی حالت انتہائی خراب ہے۔ انھیں بہت کم سرکاری ملازمتیں ملتی ہیں۔ کیرالہ میں ۵ء۹ فیصد مسلمان اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں جبکہ مغربی بنگال میں کوئی مسلمان بھی اعلیٰ عہدے پر فائز نہیں۔ کرناٹک میں اُن کا حصہ ۵ء۸ فیصد ہے۔ گجرات میں صرف ۴ء۵ فیصد مسلمان ملازم ہیں۔ تامل ناڈو میں ۲ء۳ فیصد، آسام میں ۲ء۱۱ فیصد، مغربی بنگال میں صرف ۲ء۴ فیصد ملازم ہیں۔ بھارتی فوج ۱۱ لاکھ سے زائد ہے جس میں مسلمانوں کی تعداد ۲۹ ہزار (۶ء۲ فیصد) ہے جنھیں شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

(بحوالہ: ماہنامہ ’’بیدار ڈائجسٹ‘‘ لاہور۔ شمارہ: دسمبر ۲۰۰۶ء)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*