Abd Add
 

درپیش صورتحال ہمارے لیے ایک عظیم لمحۂ فکر

حج کے اس عدیم المثال اجتماع کی شان و شوکت ہم لوگوں کو عظیم الشان ملتِ اسلامیہ عالم کی ان حقیقتوں سے آشنا کر دیتی ہے جو قومی‘ نسلی‘ رنگی اور زبانی سرحدوں سے بہت آگے ہے۔ حجاج کرام کی یہ جماعت غیرمعمولی ہم آہنگی کی حامل ہے اور ان حاجیوں کی زبانیں ایک ہی ترانہ گنگناتی ہیں اور یہ تمام انسانی جسم و قلب ایک ہی قبلہ کی طرف متوجہ ہوا کرتے ہیں۔ یہ لوگ بظاہر دسیوں ملکوں کی نمائندگی کر رہے ہیں لیکن یہ سب ایک ہی مجموعہ سے وابستہ ہیں اور وہ عظیم مجموعہ امت اسلامیہ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امتِ اسلامیہ اپنی زندگی کی ایک لمبی مدت عالمِ غفلت میں بسر کر چکی ہے اور ہماری موجودہ علمی و عملی پسماندگی اور سیاست و تجارت اور صنعت و اقتصاد کے میدان میں ہماری مفلوک الحالی و بے سرو سامانی دراصل ہماری ماضی کی غفلتوں اور گمراہیوں کا تلخ نتیجہ ہیں اور آج عالمی سطح پر جو اہم حوادث و حالات رونما ہو چکے ہیں یا رونما ہونے والے ہیں‘ ان کو نگاہ میں رکھتے ہوئے امتِ اسلامیہ کے لیے یہ لازمی ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی گزشتہ غفلتوں اور کوتاہیوں کی تلافی کرے۔ یہ ہماری خوش قسمتی کی بات ہے کہ عصرِ حاضر میں رونما ہونے والے بعض حوادث تلافی طلب تحریک کی شروعات کی خوشخبری دے رہے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آج عالمی سامراج مسلمانوں کی بیداری‘ مسلمانوں کے درمیان موجود اسلامی اتحاد اور علم و دانش نیز سیاست و ایجادات کی دنیا میں مسلمان قوموں کی حالیہ ترقی کو اپنے عالمی تسلط اور غلبہ کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ محسوس کرتا ہے اور اس کی مخالفت و نابودی میں ہمہ تن سرگرم ہے۔ سابقہ اور جدید سامراجیت کے دور میں ہونے والے تجربات آج مسلمانوں کی نگاہوں کے سامنے موجود ہیں۔ یہ جدید ترین سامراجیت کا زمانہ ہے اور ہمیں اپنے تجربوں سے درس حاصل کرنا چاہیے اور دشمن کو دوبارہ پہلے سے زیادہ مدت کے لیے اپنی تقدیر پر ہرگز مسلط نہ ہونے دینا چاہیے۔

گزشتہ تلخ و تاریک دور میں مغربی سامراجیت نے مسلمان قوموں اور ملکوں کو کمزور اور پسماندہ بنائے رکھنے کے لیے ہر ممکن ثقافتی‘ اقتصادی‘ سیاسی اور فوجی ہتھکنڈوں کا بھرپور استعمال کیا اور ان پر تفرقہ و فقر اور جہالت و مفلوک الحالی مسلط کر دیا۔ ہمارے اکثر سیاسی رہنمائوں کی کمزور نفسی‘ غفلت اور کاہلی اور ہمارے اکثر ثقافتی ماہرین کی ذمہ داریوں سے دوری و علیحدگی نے ان سامراجی طاقتوں کی بھرپور مدد کی جس کا نتیجہ ہماری دولت و ثروت کی تباہی و غارتگری اور امتِ اسلامیہ کی ذلت و رسوائی کی صورت میں برآمد ہوا اور ہم اپنی شناخت اور اپنی آزادی سے پوری طرح محروم ہو گئے۔ مسلمان قوم کی حیثیت سے ہم روز بروز کمزور ہوتے چلے گئے اور غیرمعمولی لوٹ کھسوٹ میں سرگرم لٹیروں کی تسلط طلب خواہشات میں روز بروز اضافہ ہوتا چلا گیا اور یہ لٹیرے پہلے سے زیادہ طاقتور ہوتے رہے لیکن آج مجاہدوں کی غیرمعمولی قربانی اور رہنمائوں کی صداقت و شجاعت کی وجہ سے اسلامی دنیا کے بعض حصوں میں اسلامی بیداری کو غیرمعمولی وسعت و مقبولیت حاصل ہو چکی ہے اور اکثر اسلامی ممالک کے نوجوان عوام اور ان کا دانشور طبقہ میدانِ عمل میں موجود ہے اور اکثر مسلمان حکمرانوں اور سیاسی ماہروں نے اقتدار طلب غداروں کو اچھی طرح سے پہچان لیا ہے اور ان کے تمام اسلام دشمن ہتھکنڈے ناکام ہو چکے ہیں۔ اسی وجہ سے عالمی سامراجیت کے سربراہوں نے ملتِ اسلامیہ پر اپنے دیرینہ تسلط کو قائم رکھنے کے لیے نئے ہتھکنڈوں کو استعمال کرنا شروع کر دیا ہے تاکہ ان کے ناجائز اقتدار کی تقویت ہوتی رہے۔

انسانی حقوق کی حمایت اور جمہوریت پسندی کا نعرہ ان نئے سامراجی ہتھکنڈوں میں سے ایک ہے۔ آج بڑا شیطان انسانیت دشمن بے رحمیوں اور شرارتوں کا مجسمہ بنا ہوا ہے۔ اپنے ہاتھ میں انسانی حقوق کی طرفداری کا پرچم لیے ہوئے مشرقِ وسطیٰ کے عوام کو جمہوریت کی دعوت دے رہا ہے۔ ان ملکوں میں امریکی جمہوریت کے قیام کا مطلب یہ ہے کہ ان ملکوں پر ایسے امریکا غلام حکمرانوں کو سازش‘ رشوت‘ جھوٹے پروپیگنڈہ اور بظاہر عوامی لیکن بباطن امریکی چنائو کی مدد سے مسلط کر دیا جائے تاکہ یہ حکام ہمیشہ امریکا کی فرمانبرداری میں سرِ تسلیم خم کیے رہیں اور امریکی سامراجی مقاصد کی تکمیل کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ پیدا ہونے پائے۔

ان سامراجی مقاصد میں اسلام پسندی کی تحریک کی سرکوبی اور اسلامی قدروں کو گزشتہ تنہائی و گمنامی میں دھکیلنا سرفہرست ہے۔ آج تمام امریکی اور دیگر تسلط پسند و اقتدار پرست سیاسی و تبلیغاتی وسائل کے ذریعہ اسلامی بیداری کی تحریک کو التوا میں ڈالنے یا پوری طرح کچل دینے کی کوشش کی جارہی ہے لہٰذا اسلامی قوموں کو آج مکمل ہوشیاری اور غیرمعمولی سوجھ بوجھ سے کام لیتے ہوئے حالات پر بھرپور نگاہ رکھنی چاہیے۔ آج عالموں‘ مذہبی رہنمائوں‘ دانشوروں‘ مفکروں‘ یونیورسٹی کے پروفیسروں‘ مصنفوں‘ شاعروں‘ فنکاروں‘ ماہروں اور نوجوانوں کو ہوشیاری اور بروقت اقدام سے کام لینا چاہیے اور عالمی سطح پر لوٹ کھسوٹ اور خورد و برد کرنے والے امریکا کو یہ موقع نہ دینا چاہیے کہ وہ اسلامی دنیا پر اپنے تسلط کے نئے دور کی شروعات کر سکے۔

ان اقتدار پسندوں کی زبان سے جمہوریت طلبی کا نعرہ ہرگز قابلِ قبول نہیں ہے جو برسوں سے ایشیاء‘ افریقہ اور امریکا میں تانا شاہی حکومتوں کا دفاع کرتے چلے آرہے ہیں۔ قتل و غارتگری اور دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کا دعویٰ ان لوگوں کو زیب نہیں دیتا ہے جو صیہونی دہشت گردی کے علمبردار ہیں اور عراق و افغانستان میں قتل و غارتگری اور انسانیت سوز گھنائونے مظالم کا بازار گرم کیے ہوئے ہیں۔ وہ لوگ تہذیبی اور تمدنی حقوق کی طفداری کے دعویدار کیسے ہو سکتے ہیں جو شارون جیسے ظالم و خونخوار کو فلسطین کے بے گناہ عوام پر برسوں سے مسلط کیے ہوئے ہیں اور آئے دن ان ظالموں کی وحشیانہ روش کی حوصلہ افزائی کرتے رہے ہیں۔ درحقیقت حقوقِ بشر اور جمہوریت کی حمایت کا دعویٰ ایک ایسا فریب ہے جس پر لعنت و ملامت کرنا واجب ہے۔ گوانتا نامو و ابو غریب اور یورپ کے خفیہ قید خانوں میں وحشیانہ مظالم کرنے والے‘ ملت عراق و فلسطین کی ذلت و رسوائی کی زمین ہموار کرنے والے اور سرزمینِ عراق و افغانستان میں مسلمانوں کے خون کی پیاسی نام نہاد اسلامی جماعتوں کی ایجاد کرنے والے لوگوں کو قطعی یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ انسانی حقوق جیسا لفظ اپنی زبان سے دہرا سکیں۔ امریکا اور برطانیہ کی حکومتیں ملزموں پر صرف جبر و جور ہی نہیں بلکہ سڑکوں پر ان کے قتلِ عام کو بھی جائز اور قانونی سمجھتی ہیں اور عدالتی حکم کے بغیر عام شہریوں کی ٹیلیفون پر ہونے والی گفتگو کو چھپا کر سننا بھی جائز تصور کرتی ہیں۔ آخر ایسی حکومتیں خود کو انسانی حقوق کا محافظ کیسے قرار دے سکتی ہیں۔ وہ حکومتیں جو کیمیاوی اور ایٹمی اسلحوں کی ایجاد اور عصرِ حاضر میں ان کے استعمال کے ذریعہ اپنی عصری تاریخ کے چہرہ کو سیاہ کر چکی ہیں‘ وہ خود کو ایٹمی اسلحوں کی روک تھام کرنے والی جماعت کا متولی کیسے بنا سکتی ہیں۔

(آیت اﷲ خامنہ ای کے حالیہ پیغامِ حج سے اقتباس)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.