اہلِ عرب کا المیہ

جس تہذیب نے کبھی دنیا کی رہنمائی کی تھی اور ترقی کی نئی جہات سے روشناس کرایا تھا، وہ آج تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے اور اِس مٹتی ہوئی تہذیب کو خود اِس کے اپنے لوگ ہی نئی زندگی دے سکتے ہیں۔

ایک ہزار سال قبل بغداد، دمشق اور قاہرہ نے دنیا کی رہنمائی کے لیے کمر کَسی اور تحقیق و ترقی کی شاہراہ پر وہ سفر شروع کیا جس نے دنیا کو جدت اور ندرت کی کئی منازل سے ہمکنار کیا۔ ایک زمانہ تھا جب اسلام اور جدت جڑواں تھے۔ عرب دنیا کی متعدد خلافتیں متحرک سپر پاور تھیں۔ انہوں نے دنیا کو ترقی، رواداری اور تعلیم سے آشنا کیا۔ آج عرب دنیا شدید کسمپرسی کے عالم میں ہے۔ علم اور تحقیق و ترقی کا اس خطے سے جیسے کوئی واسطہ ہی نہیں رہا۔ بے امنی اور قتل و غارت نے تقریباً پوری عرب دنیا کو لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ یورپ اور شمالی امریکا کے بعد اب لاطینی امریکا اور افریقا نے بھی بھرپور ترقی کی طرف سفر شروع کردیا ہے مگر مشرق وسطیٰ کا خطہ اب تک تباہی اور بربادی سے دوچار ہے۔ آمریت اور قتل و غارت نے پورے خطے کو تاریکی میں دھکیل رکھا ہے۔

تین سال قبل جب عرب دنیا میں بیداری کی لہر اٹھی، تھی تب امید کی کرن جاگی تھی۔ سب کو یقین ہوچلا تھا کہ مصر، یمن، تیونس اور لیبیا میں آمریت کے خاتمے کے تحریک پورے خطے کے لیے کچھ نہ کچھ مثبت ضرور لے کر آئے گی۔ بعد میں شام میں بھی بشار الاسد کی شخصی حکومت کو ختم کرنے کی تحریک اٹھی۔ مگر اب تک اس کے خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوسکے ہیں اور حق تو یہ ہے کہ عرب بیداری کا پھل مزید سخت گیر آمریت اور قتل و غارت سے آلودہ ہوگیا ہے۔ عرب دنیا میں بیداری کی جو لہر اٹھی تھی اس نے اب وسیع تر تباہی اور المیے کی شکل اختیار کرلی ہے اور پہلے سے کہیں زیادہ ممالک اِس کی زد میں ہیں۔ یوں مشرق وسطیٰ کے خراب حالات سے عالمی امن کو لاحق خطرات مزید شدت اختیار کرگئے ہیں۔

الزام در الزام

ہمارے عہد کا ایک بڑا، پیچیدہ سوال یہ ہے کہ تیل کی دولت سے مالا مال ہونے پر بھی عرب خطہ اب تک جمہوریت اور حقیقی مسرت کیوں پیدا نہیں کرسکا۔ وہ کیا چیز ہے جو عرب دنیا کو ذاتی مفادات کی خاطر کچھ بھی کر گزرنے والے جنونیوں اور پورے خطے کو تباہی سے دوچار کرنے کے درپے افراد کے سامنے بے بس کیے ہوئے ہے؟ اس سوال کا جواب بظاہر کسی کے پاس نہیں ہے۔ کوئی یہ کہتا کہ اہل عرب میں صلاحیت کی کمی ہے یا یہ کہ وہ مزاجاً جمہوریت کو پسند نہیں کرتے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر عرب دنیا کو اپنے بھیانک خواب سے جان چھڑا کر جاگنا ہے اور دنیا کو پہلے سے زیادہ محفوظ محسوس کرنا ہے تو بہت کچھ بدلنا ہوگا یعنی بہت وسیع پیمانے پر تبدیلی کا عمل ناگزیر ہے۔

ایک بڑی مشکل یہ ہے کہ عرب دنیا کے مسائل غیر معمولی وسعت رکھتے ہیں۔ عراق اور شام کو کسی بھی اعتبار سے باضابطہ ریاست یا ملک قرار نہیں دیا جاسکتا۔ عراق میں حال ہی میں شدت پسند گروپ آئی ایس آئی ایس نے خلافت کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ فی الحال یہ خلافت عراق اور شام کے لیے ہے مگر اس میں لبنان، فلسطین، اسرائیل اور اردن سمیت پورے خطے کو اور بعد میں پوری دنیا کو شامل کیا جاسکتا ہے! خلافت کا اعلان کرنے والے گروپ کے رہنماؤں نے غیر مسلموں کو صرف مشرق وسطیٰ ہی میں نہیں بلکہ لندن، پیرس اور نیو یارک کی سڑکوں پر بھی قتل کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ مصر ایک بار پھر فوجی اقتدار کے تحت ہے۔ کرنل معمر قذافی کے قتل کے بعد لیبیا پر ایسے عسکریت پسند گروپوں کا راج ہے جن پر بظاہر کسی کا اختیار نہیں۔ یمن کو اندرونی لڑائی، سیاسی بے چینی اور القاعدہ کی سرگرمیوں نے پریشان کر رکھا ہے۔ فلسطین اب تک باضابطہ ریاست بننے کی منزل سے بہت دور ہے۔ تین نوجوان اسرائیلیوں کے اغوا اور ہلاکت نے اسرائیلی فوج کو جوابی کارروائی کے نام پر غزہ کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنانے کا موقع فراہم کیا ہے۔ یہ پورا خطہ ایک بار پھر بھرپور مسلح تصادم کی لپیٹ میں ہے۔ سعودی عرب اور الجزائر نے تیل کی دولت کا سہارا لے کر بہت سے مسائل کو ٹال رکھا ہے اور ان کے ہاں سیکورٹی کا نظام بہت سخت ہے۔ معمولی سی بھی خرابی کو سختی سے دور کرنے پر یقین رکھا جاتا ہے مگر اس کے باوجود یہ دونوں ممالک اُتنے مضبوط اور محفوظ نہیں، جتنے دکھائی دیتے ہیں۔ تین سال قبل صرف تیونس وہ عرب ملک تھا جس نے عوامی بیداری کی لہر پر لبیک کہتے ہوئے حقیقی جمہوریت کی طرف اپنا سفر شروع کیا اور اب وہ اس راہ پر عمدگی سے گامزن ہے۔

بیشتر عرب ممالک کے بنیادی مسائل کی جڑیں اسلام یا پھر اس کی مختلف تعبیرات ہیں۔ اسلام کی مختلف انداز سے تعبیر و تشریح کرنے والوں کا دعویٰ ہے کہ اسلام جسمانی اور روحانی ہر دو طرح کے ارتقا کی ضمانت دیتا ہے۔ ان کی نظر میں ریاست اور دین الگ نہیں۔ یہی وہ بات ہے جو اسلامی دنیا میں حقیقی سیاسی اداروں کے قیام اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ جن لوگوں نے اسلام کو نافذ کرنے کے نام پر ہتھیار اٹھا رکھے ہیں، وہ قرآن کی زیادہ جنونیت پر مبنی تعبیر کے ذریعے خرابیاں پیدا کر رہے ہیں۔ دوسرے بہت سے مسلمانوں نے عسکریت پسند گروپوں کے تشدد اور خانہ جنگی سے تنگ آکر اپنے اپنے مسلک میں پناہ لے رکھی ہے۔ شام اور عراق میں شیعہ اور سنی آپس میں شادیاں بھی کرتے تھے مگر اب وہ ایک دوسرے سے دور ہوتے جارہے ہیں۔ اسلام کی تعبیر و تشریح کے نام پر پایا جانے والا یہ تشدد اب شمالی نائجیریا اور شمالی انگلینڈ تک جا پہنچا ہے۔

مذہبی انتہا پسندی عرب معاشروں میں خرابیوں کا سبب نہیں بلکہ نتیجہ ہے۔ بہت سے اسلامی ممالک میں جمہوریت کو عمدگی سے اپنالیا گیا ہے اور اس کے بہت اچھے نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ اس سلسلے میں ملائیشیا اور انڈونیشیا کی مثال بہت واضح ہے مگر عرب معاشرے اب تک جمہوریت کو اس لیے حقیقی دلچسپی کے ساتھ اپنا نہیں سکے کہ ان کے ہاں ریاستی ڈھانچا بہت کمزور ہے۔ چند عرب معاشرے ہی قوم کی حیثیت سے نسبتاً طویل عرصہ گزار پائے ہیں۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد جب ترکی میں خلافت کا خاتمہ ہوا تو عرب دنیا کو برطانیہ اور فرانس کی نو آبادی بن کر مزید ذلت سے دوچار ہونا پڑا۔ استعماری قوتوں نے عرب دنیا کے بیشتر ممالک کے معاملات کو ۱۹۶۰ء کے عشرے تک اپنے کنٹرول میں رکھا۔ اس کے بعد جب اِن ممالک کو آزادی ملی، تب بھی اِن میں جمہوری اداروں کے پنپنے کی بنیادی شرائط پوری نہ کی جاسکیں۔ مثلاً پارلیمانی روایات پروان نہیں چڑھیں، بنیادی حقوق کی پاس داری ممکن نہ بنائی جاسکی، اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ ممکن نہ ہوسکا، خواتین کو ہر شعبے میں بہتر کارکردگی دکھانے کے بھرپور مواقع دینے کا سلسلہ شروع نہیں ہوا، آزاد صحافت اور آزاد عدالتیں معرضِ وجود میں نہیں لائی جاسکیں اور تعلیمی ادارے اور مزدور انجمنیں پروان نہ چڑھ سکیں۔

حقیقی لبرل ریاست قائم نہیں کی جاسکی تو اس کی جوڑی مکمل کرنے کے لیے لبرل معیشت کو بھی پروان چڑھنے سے روکا گیا۔ بیشتر عرب ریاستوں میں آزادی کے بعد بھی قدامت پسند ادارے ہی اقتدار کے ایوانوں پر متصرف تھے۔ منصوبہ بندی بھی انہی کے ہاتھ میں تھی اور اس معاملے میں وہ سابق سوویت یونین سے زیادہ متاثر تھے۔ کھلے بازار کی معیشت کا راستہ روکا گیا، کھلی تجارت کی حوصلہ افزائی نہیں کی گئی، سبسڈی کے راستے پر چلنے کو ترجیح دی گئی اور معیشتی سرگرمیوں پر ریاست کا کنٹرول زیادہ سے زیادہ رکھا گیا۔ اس کے نتیجے میں عرب دنیا کی معیشتیں الجھتی چلی گئیں۔ جن ممالک میں تیل کی دولت زیادہ تھی، وہاں معیشت کے تمام امور آمرانہ حکومتوں نے اپنے ہاتھ میں رکھے۔

جہاں جہاں نو آبادیاتی کے بعد کے سوشلزم کی پابندیاں ہٹائی گئیں، وہاں سرمایہ دارانہ نظام اپنے غیر واضح اور کبھی کبھی تو بد تر شکل میں سامنے آیا۔ مصر میں حسنی مبارک کے تیس سالہ دور کے آخری برسوں میں ایسا ہی ہوا۔ نجکاری کا عمل ضرور متعارف کرایا گیا مگر صرف حکومت کے دوستوں کے لیے۔ کوئی بھی منڈی حقیقی معنوں میں آزاد نہ تھی۔ ایک آدھ ہی ورلڈ کلاس کمپنی پروان چڑھ سکی۔ جن عربوں کو کاروبار یا علم و فن میں آگے بڑھنا تھا، انہوں نے امریکا یا یورپ کا رخ کیا۔

اقتصادی امور میں پیدا ہونے والے جمود نے عرب معاشروں میں شدید عدم اطمینان کو جنم دیا۔ بادشاہ اور تاحیات صدور خفیہ پولیس اور غنڈوں کے ذریعے اپنا اور اپنے اقتدار کا تحفظ یقینی بناتے آئے ہیں۔ ایسے میں مسجد کو عوامی خدمات کی بجا آوری اور اظہار رائے کے حوالے سے اہم ترین مقام کا درجہ مل گیا۔ اسلام کو انقلابی رنگ دے دیا گیا اور جو مسلم اپنے بُرے حالات سے سخت مشتعل تھے، وہ اپنے حکمرانوں کے ساتھ ساتھ مغربی حکمرانوں سے بھی شدید نفرت کرنے لگے کیونکہ یہ حکمران ہی تو اُن کے حکمرانوں کی پشت پناہی کر رہے تھے۔ بے روزگاری نے لاکھوں، کروڑوں نوجوانوں کو شدید اضطراب و اشتعال سے دوچار کردیا۔ الیکٹرانک میڈیا کی تیز رفتار ترقی نے اِن نوجوانوں کو بتادیا کہ اگر انہیں کچھ کرنا ہے، کچھ کر دکھانا ہے تو مشرق وسطیٰ سے باہر نکلنا ہوگا۔ حیرت انگیز بات یہ نہیں ہے کہ وہ بیدار ہوئے اور سڑکوں پر نکل آئے بلکہ اس سے زیادہ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ یہ سب کچھ انہوں نے بہت پہلے کیوں نہیں کیا۔

غیر معمولی تباہی

عرب دنیا میں جو خرابیاں عشروں، بلکہ صدیوں کی پیداوار ہیں، انہیں راتوں رات یا تیزی سے تو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ باہر سے آنے والے، چاہے وہ لشکر کشی کرنے والے ہوں یا کنٹرول سنبھالنے والے، نہ تو راتوں رات جہادی کلچر کو ختم کرسکتے ہیں اور نہ ہی جمہوریت اور خوش حالی لاسکتے ہیں۔ عراق میں مغربی قوتوں نے مارچ ۲۰۰۳ء میں لشکر کشی کی مگر اس کے نتیجے میں وہاں جو خرابیاں پیدا ہوئیں، ان کا تدارک لازم ہے۔ اس کے بعد ہی کچھ کرنے کے بارے میں سوچا جاسکتا ہے۔ تھوڑی بہت فوجی قوت، خصوصی فورس کے چند دستے اور ڈرون حملے عراق میں جہادیوں کو وسیع تر تباہی سے باز اور بڑے شہروں سے دور رکھنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ مگر یہ معاونت ہر وقت میسر ہونی چاہیے تاکہ ضرورت پڑنے پر کال دی جاسکے۔ آئی ایس آئی ایس نے عراق میں جس خلافت کے قیام کا اعلان کیا ہے، اُس کے امکانات یا آثار دور دور تک نہیں ہیں۔ مگر خیر، اس اعلان کی کوکھ سے نئے جہادی تو جنم لیتے رہیں گے۔

صرف عرب ہی اپنے تہذیبی زوال کا عمل روک سکتے ہیں اور اپنے حالات بہتر بنانے کے حوالے سے کچھ کرسکتے ہیں مگر فی الحال ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ انتہا پسند معاشرے کو کچھ نہیں دے سکتے۔ ان کے پاس دینے کے لیے کچھ ہے ہی نہیں۔ وہ لڑائی کی کال دے سکتے ہیں، تعمیر نو اور ترقی کی نہیں۔ بادشاہ اور فوجی ڈکٹیٹر قوم کو استحکام کی نوید سناتے ہیں۔ یہ نوید ہر شخص کے دل کی آواز ہے۔ استحکام اور ترقی کے دل کش نعروں کی رَو میں سبھی بہہ جاتے ہیں۔ شدید انتشار کے دور میں یہ نعرے بہت پرکشش معلوم ہوتے ہیں اور اِس کا سبب سمجھنا کچھ ناممکن بھی نہیں مگر مسلسل دباؤ اور جمود کے ذریعے تو کسی بھی معاشرے کو انحطاط اور زوال سے دور نہیں کیا جاسکتا۔ شدید جبر و استبداد اور جمود نے پہلے بھی کچھ نہیں دیا اور تمام مسائل کی جڑ یہی ہیں۔ اگر ہم یہ فرض کرلیں کہ عرب دنیا میں بیداری کی لہر ختم ہوچکی ہے تو بھی وہ قوتیں تو واضح طور پر موجود ہیں جنہوں نے اس لہر کو جنم دیا تھا۔ سوشل میڈیا نے رویوں میں انقلاب برپا کیا تھا۔ یہ وہ ایجاد ہے جسے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ محلوں میں بیٹھے ہوئے حکمرانوں اور ان کے مغربی سرپرستوں کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ استحکام کے لیے اصلاحات ناگزیر ہوا کرتی ہیں۔

تو کیا وہ مقام آگیا ہے جہاں تمام اُمیدیں دم توڑ دیں؟ کیا اب کوئی بھی مثبت اشارا نہیں بچا؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ جو کچھ دکھائی دے رہا ہے، وہ کسی بھی اعتبار سے خوش کن نہیں۔ مگر اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جنونی اور انتہا پسند بالآخر اپنی عقل اور اعمال کا ماتم کرتے ہیں۔ جب سب کچھ برباد ہوچکتا ہے، تب انہیں ہوش آتا ہے۔ عرب دنیا میں اعتدال پسند سُنیوں کی اکثریت ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ وہ اپنی آواز بلند کریں، اپنے موقف سے دنیا کو آگاہ کریں اور بتائیں کہ وہ کیا دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور جب اُن کے لیے کچھ کر دکھانے اور خیالات کا کھل کر اظہار کرنے کا وقت آئے تو انہیں اپنی سابق اقدار کی طرف جانا پڑے گا جن سے ایک عظیم تہذیب نے جنم لیا تھا اور عرب دنیا کو عظمت سے ہمکنار کیا تھا۔ تب طب، دوا سازی، ریاضی، تعمیرات اور فلکیات میں عربوں نے غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور تعلیم کا بنیاد اِنہی شعبوں کو بنایا۔ دنیا کو بھی انہوں نے بہت کچھ سکھایا۔ عالی شان عمارات اور شاندار شہروں کی تعمیر کے لیے رقوم تجارت سے حاصل ہوتی تھیں۔ مسالوں اور ریشم کی تجارت سے انہوں نے بہت کمایا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ عرب دنیا مسلمانوں کے مختلف فرقوں کے علاوہ یہودیوں اور عیسائیوں کے لیے بھی جنت کی مانند تھی۔ رواداری کے ماحول میں سب کو پنپنے کا موقع ملا جس کے نتیجے میں تخلیقی جوہر اور ایجادات کو ابھرنے کی راہ ملی۔ سب کو قبول کرنا، تعلیم عام کرنا اور کھلے بازار کی معیشت کو گلے لگانا … کسی زمانے میں یہ بنیادی عرب اقدار تھیں۔ اور اب بھی ایسا ہی ہوسکتا ہے۔ عرب تہذیب اپنے احیا کی طرف جاسکتی ہے۔ آج عراق اور شام کے سُنّی اور شیعہ ایک دوسرے کے گلے کاٹ رہے ہیں۔ ایک سابق جنرل مصر میں اقتدار پر قابض ہوچلا ہے۔ ایسے میں عرب تہذیب کا احیا دُور کے ڈھول کی آواز جیسا ہے۔ یعنی سوچا تو جاسکتا ہے، کیا نہیں جاسکتا۔ جن لوگوں کا بہت کچھ تباہ ہوچکا ہے اور جو بچا ہے، اُس کے بچنے کی بھی کوئی امید دکھائی نہیں دیتی۔ اُن کے لیے تو گزرے ہوئے (سنہرے) دور کی اقدار بصیرت کا سامان کرسکتی ہیں۔ اُنہیں اپنے شاندار ماضی سے بہت کچھ سیکھنا چاہیے تاکہ بہتر مستقبل کی تیاری کرسکیں۔

“The tragedy of the Arabs”. (“Economist”.Jul 5,2014)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*