Abd Add
 

۲۰۱۶ء کی امریکی ’’خانہ جنگی‘‘!

ذرا تصور کیجیے کہ ٹی پارٹی کے ارکان جنوبی کیرولائنا کے ایک قصبے پر قبضہ کرلیتے ہیں اور امریکی فوج کے دستے اُنہیں کچلنے کے لیے بھیجے جاتے ہیں۔ یہ مفروضہ اب امریکا کے پروفیشنل عسکری حلقوں میں بحث کا موضوع ہے۔

امریکی جریدے ’’اسمال وار جرنل‘‘ نے حال ہی میں “Full Spectrum Operations in the Homeland: A ‘Vision’ of The Future” کے زیر عنوان ایک مضمون شائع کیا ہے جس میں امریکا کی تیزی سے بگڑتی ہوئی معاشرتی اور معاشی صورت حال کے تناظر میں خانہ جنگی کا مفروضہ پیش کیا گیا ہے۔ یہ مضمون کنساس کے شہر فورٹ لیون ورتھ کی یونیورسٹی آف فارن ملٹری اینڈ کلچرل اسٹڈیز کے ریٹائر کرنل کیون بینسن (Kevin Benson) اور یونیورسٹی آف کنساس میں خانہ جنگی کی ماہر جینیفر ویبر (Jennifer Weber) نے لکھا ہے۔ مضمون میں انتہا پسند امریکیوں کی جانب سے ۲۰۱۶ء میں جنوبی کیرولائنا کے قصبے ڈارلنگٹن پر قبضے کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ ٹی پارٹی کے عسکری ونگ کے ارکان سٹی ہال پر قبضہ کرلیتے ہیں، سٹی کونسل تحلیل کردی جاتی ہے اور میئر کو نظر بند کردیا جاتا ہے۔ باغیوں کو کچلنے کے لیے فوج کے دستے بھیجے جاتے ہیں۔ باغی چیک پوائنٹس قائم کرکے لوگوں کو روکتے اور تلاشی بھی لیتے ہیں۔ یہ خاصا مضحکہ خیز منظر نامہ ہے۔

اسمال وار جرنل میں شائع ہونے والا یہ مضمون ایک ایسے منظر نامے کو بیان کرتا ہے جو لبرل عناصر کی انتہا پسندی کے نقطۂ عروج کا مفروضہ پیش کرتا ہے۔ اس میں ۲۰۱۶ء سے ۲۰۲۸ء تک کے ملٹری آپریٹنگ کونسیپٹ کا عملی خاکہ پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ مضمون میں یہ بات خاصے جرأت مندانہ انداز سے بیان کی گئی ہے کہ ایک بار ملٹری آپریٹنگ کونسیپٹ پیش کردیا گیا تو اس پر فوج پوری تندہی سے عمل کرے گی اور اپنے ہی شہریوں کو غیرملکیوں کی طرح برت کر ہلاک کرنے پر تُل جائے گی۔ مضمون میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ فوج کبھی عوام کو ’’مایوس‘‘ نہیں کرسکتی اور حکم ملتے ہی تیزی سے آپریشن کرے گی خواہ اس میں اپنے شہریوں کا خون بہے۔ وہ اپنے مینڈیٹ کے مطابق کام کرے گی۔ فوج کو اس بات کی بھی چنداں پروا نہیں ہوگی کہ اپنے ہی شہریوں کے خلاف آپریشن کے سیاسی نتائج کیا ہوں گے۔

کیون بینسن اور جینیفر ویبر نے جو مفروضہ پیش کیا ہے اسے سنجیدگی سے لینے والے کم ہیں۔ سابق بریگیڈیئر جنرل رسل ڈی ہاورڈ کہتے ہیں ’’میں کرنل رہ چکا ہوں اس لیے جانتا ہوں کہ کرنل بہت سی انتہائی مضحکہ خیز اور وحشت ناک چیزیں لکھتے رہتے ہیں۔ ان کی تحریروں کو لوگ سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ اسمال وار جرنل میں شائع ہونے والے مضمون میں بھی مجھے کوئی ایسی بات نظر نہیں آتی جس پر پریشان ہوا جائے۔‘‘ بیس سال قبل اُس وقت کے ایئر فورس لیفٹیننٹ کرنل چارلس جے ڈنلپ جونیئر نے ’’پیرا میٹرز‘‘ میں ایک مضمون لکھا تھا جس پر بہت لے دے ہوئی تھی۔ ’’۲۰۱۲ء کی امریکی فوجی بغاوت کے مآخذ‘‘ نامی اِس مضمون کے ساتھ ہی مصنف نے یہ وضاحتی نوٹ بھی لکھا تھا کہ فوج میں جو کچھ ہو رہا ہے اُسے ڈرامائی انداز سے پیش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، مضمون کو باضابطہ پیش گوئی نہ سمجھا جائے۔

یہ بات قابل غور ہے کہ اسمال وار جرنل میں شائع ہونے والا مضمون ادبی رنگ میں ڈوبا ہوا کوئی فن پارہ نہیں بلکہ فوج کو اپنے ہی لوگوں کے خلاف صف آرا کرنے سے متعلق منصوبے کا خاکہ پیش کرتا ہے۔ کیون بینسن اور جینیفر ویبر نے یہ دلیل پیش کی ہے کہ امریکی فوج کے افسران اپنی سرزمین پر بھی حکم کے مطابق کوئی بھی آپریشن کرنے کے پابند ہیں۔

جون میں جوائنٹ فورسز اسٹاف کالج کے ایک پروفیسر کو یہ کہنے پر ملازمت سے فارغ کردیا گیا تھا کہ امریکا اور عالم اسلام کے درمیان جنگ جاری ہے۔ اوباما انتظامیہ نے ایک بیان میں کہا کہ پروفیسر کو اس لیے فارغ کیا گیا کہ جو کچھ انہوں نے کہا وہ امریکی پالیسی نہیں۔ کیون بینسن نے اپنے مضمون کے ساتھ کوئی Disclaimer نہیں جوڑا۔ ایسے میں یہ سوچا جاسکتا ہے کہ آیا اُن کے خیالات فوج کو اپنے ہی شہریوں کے خلاف استعمال کرنے سے متعلق حکومتی پالیسی کو منعکس کرتے ہیں۔

(“The US Civil War of 2016″… “Total Collapse.com”. August 11th, 2012)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*