Abd Add
 

طالبان کام کر گئے!

افغانستان میں افغان فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں اتحادی فوجیوں کی ہلاکت کے بڑھتے ہوئے واقعات کی روشنی میں نیٹو کمانڈر جنرل جان ایلن نے مشترکہ گشت محدود کرنے کا حکم دے کر اس نوعیت کے واقعات کی سنگینی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ۱۶؍ستمبر کو مشترکہ گشت محدود کرنے کا جو حکم دیا اس سے ایک دن قبل بھی افغان فوجیوں کے حملے میں چار امریکی اور دو برطانوی فوجی مارے گئے۔ سال رواں کے دوران فائرنگ سے مارے جانے والے فوجیوں کی تعداد ۵۱ ہوگئی۔ ۲۰۱۱ء میں یہ تعداد ۳۵ اور ۲۰۰۸ء میں صرف ۲ تھی۔

مشترکہ گشت محدود کرنے کا حکم جنگ کے میدان میں مصروف افسران اور برطانیہ میں ایوان اقتدار دونوں کے لیے انتہائی حیرت کا باعث بنا، اگلے ہی دن دارالعوام میں سیکرٹری دفاع Philip Hammond نے کہا کہ فی الحال گشت کی حکمت عملی میں کوئی تبدیلی نہیں کی جارہی۔ جنرل جان ایلن کے فیصلے کے غیرمعمولی اسٹریٹجک مضمرات کی پیش گوئی کی جاسکتی ہے۔ اب بٹالین کی سطح سے نیچے کے کسی بھی آپریشن کے لیے افغان فورسز کے ساتھ جانے کی صورت میں افسران کو اعلیٰ سطح کے افسران سے اجازت حاصل کرنا ہوگی۔ طالبان اور دیگر عسکریت پسند گروپوں کے خلاف روز مرہ کے گشت اور چھوٹی موٹی کارروائیوں کے لیے اتحادی اور افغان افواج کا مل کر جانا کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ جنرل جان ایلن کے فیصلے سے دونوں افواج کی مجموعی کارکردگی پر شدید اثرات مرتب ہوں گے۔ اتحادی افواج کی حکمتِ عملی یہ رہی ہے کہ دونوں افواج کو کاندھے سے کاندھا ملاکر چلنا چاہیے تاکہ اس کی تربیت بہتر طریقے سے انجام کو پہنچے۔ بعض علاقوں میں کمانڈروں نے اتحادی فوجیوں کے لیے لازم کردیا تھا کہ وہ ہر کام میں افغان فورسز کو شریک کریں تاکہ وہ تیزی سے معاملات کو سمجھیں اور سیکھیں۔ مشترکہ گشت اور کارروائی محدود کیے جانے کے حکم سے افغان فورسز کے بارے میں اتحادی کمانڈروں کے عدم اعتماد کا اظہار ہوتا ہے۔ کسی بھی نئی اور کمزور فوج کو تربیت دینے کا اس سے اچھا ڈھنگ کوئی نہیں ہوسکتا کہ اسے زیادہ سے زیادہ معاملات میں شریکِ کار کیا جائے۔ جنوبی افغانستان میں تعینات ۹۵۰۰ برطانوی فوجی اپنے افغان ساتھیوں کو بہتر تربیت فراہم کرنے کے معاملے میں زیادہ حساس اور متحرک رہے ہیں۔

اگر جنرل جان ایلن نے مشترکہ گشت اور کارروائی محدود کرنے کے حکم کو جلد واپس نہ لیا تو افغان فوجیوں کی تربیت اور ۲۰۱۴ء تک پورے افغانستان کا کنٹرول ان کے حوالے کرنے کے منصوبوں کی تکمیل بُری طرح متاثر ہوگی۔ چند افغان یونٹس اب اچھی خاصی تربیت پاچکے ہیں اور وہ کسی بھی صورت حال کا سامنا کرسکتے ہیں۔ انہیں مقامی طور پر سیکورٹی کا انتظام سونپا جاسکتا ہے مگر بیشتر افغان یونٹس اب بھی تربیت کے محتاج ہیں۔ دیگر معاملات میں بھی ان کی رہنمائی ناگزیر ہے۔

بیشتر افغان کمانڈر، جو کارروائی کے دوران نیٹو فوجیوں پر زیادہ انحصار کرتے اور فضائی مدد مانگنے کے معاملے میں مشکلات محسوس کرتے ہیں، اب دشمنوں سے مقابلے میں زیادہ الجھن کا سامنا کرنے پر مجبور ہوں گے۔ دوسری طرف اتحادی افواج کو بھی گھر گھر تلاشی اور ایسے ہی دیگر امور کی انجام دہی کے دوران مقامی فوجیوں کے بغیر کام کرنے میں شدید مشکلات اور خطرات کا سامنا ہوگا۔ امریکی اور دیگر اتحادی افواج کے ساتھ سفر کرنے والے صحافیوں کا کہنا ہے کہ بیشتر آپریشن ملتوی یا منسوخ کیے جانے کا امکان ہے۔

اتحادی افواج پر افغان فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کے حملے کیوں بڑھے، اس حوالے سے اختلافات پائے جاتے ہیں۔ اتحادی افواج کا کہنا ہے کہ ایک چوتھائی حملے افغان فوجیوں کی صفوں میں در آنے والے طالبان اور دیگر عسکریت پسندوں کے ہاتھوں ہوتے ہیں جبکہ باقی حملے ثقافتی اختلافات کے باعث ہوتے ہیں۔ افغانوں کا کہنا ہے کہ ان کے جذبات کا احترام نہیں کیا جاتا اور انہیں احکام خاصے توہین آمیز انداز سے دیے جاتے ہیں۔ دوسری طرف امریکی اور دیگر اتحادی فوجیوں کی بڑی تعداد اپنے افغان ساتھیوں کو منشیات کے عادی بدمعاشوں کی حیثیت سے دیکھتی ہے۔ افغان حکومت کا خیال ہے کہ ایران اور پاکستان کے خفیہ ادارے افغان فورسز کے اہلکاروں کو رشوت دے کر اپنی مرضی کا کام لیتے ہیں۔ ان ساری باتوں میں تھوڑا بہت سچ ضرور ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ افغان فورسز پر دباؤ اچھا خاصا ہے۔ ان کی تربیت سخت ہے اور چھٹیاں کم ملتی ہیں۔ ان پر حملے بھی زیادہ ہوتے ہیں اور ہلاکتوں کا تناسب بھی ان میں زیادہ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ افغان فورسز کی صفوں میں طالبان اور دیگر عسکریت پسندوں کے ایجنٹس بڑی تعداد میں ہوسکتے ہیں مگر اس سلسلے میں سرکاری سطح پر باضابطہ اعتراف اس لیے نہیں کیا جاتا کہ ایسا کرنے سے طالبان اور ان کے ہم خیال عناصر کی حوصلہ افزائی ہوگی۔

اب اہم سوال یہ ہے کہ صورت حال بہتر بنانے کے لیے کیا کیا جائے۔ افغان فورسز اور پولیس میں بھرتی کی رفتار تیز ہوتی جارہی ہے۔ مگر دوسری طرف مطلع کیے بغیر غائب ہوجانے کا عمل بھی تیز ہوگیا ہے۔ ریٹائرمنٹ کا عنصر بھی ہے۔ کوشش کی جارہی ہے کہ اب مطلع کیے بغیر غائب رہ کر اچانک ڈیوٹی پر آ جانے والوں سے باز پرس کی جائے۔ اس حوالے سے طریق کار تبدیل کیا جارہا ہے تاکہ ان لوگوں کو الگ کیا جاسکے جن پر عسکریت پسندوں سے تعلقات کا شبہ ہے۔ افغان فورسز کا حصہ بننے والوں پر نظر رکھنے کا سلسلہ بھی شروع کیا گیا ہے تاکہ ان میں عسکریت پسندوں کے ایجنٹس کو آسانی سے تلاش کیا جاسکے۔ بہت سے فوجیوں کی ڈیوٹی ہی یہ ہوگی کہ وہ دیے جانے والے احکام پر عملدرآمد کا جائزہ لیں اور اس حوالے سے افغان فوجیوں کے احساس پر نظر رکھیں۔ افغان فورسز کے لیے بہتر حالاتِ کار یقینی بناکر بھی صورت حال کو بہت حد تک بہتر بنایا جاسکتا ہے۔

افغان فوج میں عسکریت پسندوں کی دراندازی اور اتحادی فوجیوں پر حملے روکنے کے لیے جتنے بھی اقدامات کیے جارہے ہیں، وہ کوئی مستقل حل نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ افغان فوجیوں کی نقل و حرکت محدود کرکے اور ان کے ساتھ کارروائی سے گریز کرنے سے بھی کچھ خاص فائدہ پہنچنے کی گنجائش نہیں، کیونکہ گستاخانہ امریکی فلم پر شدید جذبات پائے جاتے ہیں۔ افغانستان میں اتحادی فوجیوں کے ہاتھوں قرآن کے نسخوں کی توہین اور ایسے ہی دیگر معاملات نے بھی مقامی فورسز اور پولیس اہلکاروں کو بہت مشتعل کیا ہے۔ ان کا ایک بنیادی شکوہ ہی یہ ہے کہ اتحادی فوجی ان کے مذہبی جذبات اور معاشرتی اقدار کا احترام نہیں کرتے۔ مشترکہ گشت اور کارروائی محدود کرنے کا فیصلہ بہت حد تک امریکی سیاست کے تابع ہے کیونکہ جنگ کے میدان میں حقیقی خطرات کا سامنا کرنے والے اعلیٰ افسران ایسا ہی چاہتے تھے۔

طالبان اپنا کام کرچکے ہیں۔ باہمی اعتماد مجروح ہوچکا ہے۔ ۲۰۱۴ء میں اتحادی افواج کے انخلا تک سیکورٹی کا معاملہ افغان فورسز کے حوالے کرنے کا کام پہلے ہی کم دشوار نہ تھا، اب غیر معمولی حد تک مشکل اور پریشان کن بن چکا ہے۔

(“The War in Afghanistan So Long, Pal”… “The Economist”… Sep. 22nd, 2012)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*