Abd Add
 

۲۰۱۰ء: جاپان میں تیس ہزار خودکشی کے واقعات

سال ۲۰۱۰ء کے دوران جاپان میں تیس ہزار افراد نے خودکشی کی۔ یہ تعداد پچھلے نو سال کے دوران سب سے کم تھی، لیکن اس کے باوجود اعداد و شمار یہ بتاتے ہیں کہ پچھلے تیرہ سال سے ہر سال خودکشی کرنے والوں کی تعداد تیس ہزار یا اس سے زائد تھی۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق جاپان جس کی آبادی ۱۲ کروڑ ۸۰ لاکھ افراد پر مشتمل ہے، وہ دنیا میں آبادی کے تناسب سے سب سے زیادہ خودکشی کرنے والے ممالک میں سب سے آگے ہے، ماسوائے سابق سوویت بلاک کے کچھ ممالک کے۔

نیشنل پولیس ایجنسی کے مطابق سالِ گزشتہ میں ۵ء۳ فیصدی کمی کے باوجود ۶۹۰،۳۱ افراد نے خودکشی کی جس کا مطلب یہ ہے کہ روزانہ ۸۷ افراد جو سال ۲۰۰۱ء کے بعد سب سے کم ہے۔ تقریباً آدھی تعداد اُن افراد کی تھی جنہوں نے صحت کی وجہ سے خودکشی کی جیسا کہ اُن کے الوداعی خطوط اور دیگر شہادتوں سے ظاہر ہوتا ہے۔ تقریباً ۴۵۰۰ افراد نے گھریلو جھگڑوں کی وجہ سے خودکشی کی جیسا کہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے۔

پولیس ماہرین کے مطابق اقتصادی مشکلات کی بنا پر خودکشی کرنے والوں کی تعداد ۴ء۱۱ فیصد کم ہوگئی اور کل تعداد ۷۴۰۰ تھی۔ جس کی ایک وجہ وہ سخت قوانین تھے جو سود پر قرض لینے کے لیے نافذ ہوئے۔ جاپان میں سالانہ خودکشی کی تعداد پہلی بار ۱۹۹۸ء میں تیس ہزار پہنچی تھی، جس کی بنیادی وجہ اُس سال تجارتی کمپنیوں کا دیوالیہ اور بے روزگاری میں اضافہ تھا۔ سالانہ خودکشی کرنے والے افراد کی تعداد تیس ہزار سے زائد، پچھلے تیرہ سال سے متواتر ہو رہی ہے، جس میں اب کمی واقع ہونی چاہیے۔

(بشکریہ: روزنامہ ’’ڈان‘‘ کراچی۔ ۴ مارچ ۲۰۱۱ء)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*