Abd Add
 

تبت چین اور امریکا ۔۔۔ اُجالوں کی طرف؟

چین کے ممکنہ لیڈر شی جنپنگ نے حال ہی میں تبت کے دارالحکومت لہاسہ میں دلائی لامہ کی سابق سرکاری رہائش پوٹالا پیلیس کے باہر ایک شاندار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چین نے تبت کو اندھیروں سے نکال کر اجالوں تک پہنچایا ہے۔

اگر مادی اعتبار سے دیکھا جائے تو بات غلط نہیں۔ ۱۹۵۱ء میں دلائی لامہ نے چین سے ایک سترہ نکاتی معاہدہ کیا جس کے تحت تبت پر چین کا اختیار قائم ہوا۔ تب سے اب تک تبت کے باشندوں نے مجموعی طور پر بہتر انداز کی زندگی بسر کی ہے۔ تبت ایک پیچیدہ معاشرہ تھا جس میں سب کچھ آسان نہ تھا۔ پورے علاقے میں خانقاہوں کا جال بچھا ہوا تھا اور ہر طرف روایت پرستی کا راج تھا۔ آج شی جنپنگ اور ان کے ساتھیوں کو اگر تبت کے حوالے سے کسی حقیقی مشکل کا سامنا ہے تو بس یہ ہے کہ تبت کے باشندوں کی اکثریت چینی حکمرانی کو تسلیم نہیں کرتی اور اسے برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ دلائی لامہ نے ۱۹۵۹ء میں ایک چین مخالف تحریک کو سختی سے کچلے جانے کے بعد اپنے ۸۰ ہزار جاں نثاروں کے ساتھ جلا وطنی اختیار کی۔ تب سے اب تک تبت میں مختلف مواقع پر فرقہ وارانہ اور لسانی فسادات ہوچکے ہیں۔ چینیوں کے خلاف آخری بڑا فساد ۲۰۰۸ء میں ہوا تھا۔ سال رواں کے دوران کیرتی کی خانقاہ میں (جو اب چینی صوبے سچوان کا حصہ ہے) ایک تبتی راہب نے خود سوزی کرلی تھی جس سے کچھ کشیدگی پیدا ہوئی۔ سیکڑوں راہبوں کو چینی حکام حب الوطنی کی تعلیم دینے کے لیے لے گئے ہیں۔ سترہ نکاتی معاہدے کی سالگرہ کے موقع پر کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے اس سال تبت میں سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔

چین کی حکومت تبت کے حالات کی خرابی اور عوام کے رویے میں غیر معمولی عدم توازن کے لیے دلائی لامہ کو مورد الزام ٹھہراتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ بیرون ملک دلائی لامہ کا سرکاری سطح پر استقبال چینی قیادت کو پسند نہیں۔ امریکی صدر براک اوباما نے چند ماہ قبل جب وائٹ ہاؤس میں دلائی لامہ کا خیر مقدم کیا تو ایک طرف انہوں نے تبت کے باشندوں کے ثقافتی اور بنیادی حقوق کے احترام کی بات کی اور دوسری طرف یہ بھی تسلیم کیا کہ تبت پر چین کا اقتدار و اختیار قائم ہے۔

چینی قیادت نے اس ملاقات کی بہر حال مذمت کی اور سرکاری ترجمان سمجھے جانے والے اخبار پیپلز ڈیلی نے لکھا کہ امریکی حکومت نے عالمی طاقت کے شایان شان رویہ اختیار نہیں کیا۔ اوباما نے ۲۰۰۹ء میں دلائی لامہ سے ایک ملاقات اس لیے موخر کردی تھی کہ چند ماہ بعد وہ چین کا سرکاری دورہ کرنے والے تھے اور وہ نہیں چاہتے تھے کہ دونوں ممالک کے درمیان اس دورے سے قبل کوئی تلخی پیدا ہو۔ مگر پھر انہوں نے دلائی لامہ کو وائٹ ہاؤس بلاکر چینی قیادت کو زچ کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے اپنے طرز عمل سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اس نوعیت کی ملاقاتیں کوئی اصولی معاملہ نہیں بلکہ سیاسی ضرورت کے تحت رکھی یا ملتوی کی جاتی ہیں۔

امریکی قیادت کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ چین کے حوالے سے تبت کے بارے میں اب تک ذہن نہیں بنا پائے کہ کیا اور کیوں کرنا ہے۔ تمام امریکی صدور دلائی لامہ سے ملاقات کرتے آئے ہیں۔ اور پھر بعد میں وہ یہ شکوہ بھی کرتے ہیں کہ یہ ملاقات چین امریکا تعلقات کے لیے خاصی نقصان دہ ثابت ہوئی! اور اب تو دلائی لامہ سے ملنے کا کوئی جواز بھی نہیں بنتا کیونکہ ان کا سیاسی کردار ختم ہوچکا ہے۔ انہوں نے جلا وطنی کی زندگی بسر کرنے والے تبتی باشندوں کے منتخب وزیر اعظم کے حق میں دستبردار ہونے کا اعلان بھی کردیا ہے۔

چین اور امریکا بہت جلد علاقائی سلامتی کے حوالے سے اہم بات چیت کرنے والے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن چین جا رہی ہیں اور ہوسکتا ہے کہ دونوں ممالک علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کے حوالے سے ایک جامع معاہدہ بھی کرلیں۔ ایسے میں فضا خراب کرنا امریکا اور چین میں سے کسی کے بھی مفاد میں نہیں۔ دونوں ممالک چاہیں گے کہ معاملات خراب نہ ہوں۔ بات چیت کی فضا کو تبت کے معاملے پر پیدا ہونے والی کشیدگی خراب کرسکتی ہے۔ ایسے میں دونوں ہی تبت کے اشو کو بھلانا پسند کریں گے۔

دلائی لامہ سیاسی کردار ترک کرنے کی بات کرچکے ہیں مگر ان کی شخصیت تبت کے حوالے سے کسی بھی تصفیے میں مرکزی کردار ہی ادا کرے گی۔ وہ اب بھی چاہتے ہیں کہ معاملات بات چیت سے طے کرلیے جائیں۔ سترہ نکاتی معاہدے کے تحت ایک ملک، دو نظام کی بات کی گئی تھی۔ ہوسکتا ہے کہ چین اور تبت کے درمیان پھر ایسی ہی کوئی بات طے پا جائے۔ ۱۹۵۱ء کے معاہدے کے تحت چین نے تبت میں قائم جاگیر دارانہ مذہبی سیاسی نظام کو برقرار رکھنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔ ہوسکتا ہے کہ اس نظام کو برقرار رکھنے پر رضامندی ہی کی صورت میں حتمی معاہدہ طے پا جائے۔ جلا وطنی کی زندگی بسر کرنے والے تبتی باشندے پارلیمانی جمہوریت سے روشناس ہوچکے ہیں۔ ایسے میں کسی نئے نظام کی بات کرنا بہت اہمیت اختیار کرچکا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ تبت کی جلا وطن حکومت کو کسی نے اب تک تسلیم نہیں کیا۔

شی جنپنگ کے لیے پہلا اور سب سے بڑا امتحان تبت کو خوش کرنا اور خوش رکھنا ہوگا۔ تبتی باشندے اب تک چین کے مجموعی نظام کو انتہائی سخت گیر سمجھتے ہیں۔ چین کو اس حوالے سے لچک کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ تبتی روایات کو دیکھتے ہوئے چند ایک امور میں لچک اختیار کرنا درست ہی ہوگا۔

(بشکریہ: ’’دی اکنامسٹ‘‘ لندن۔ ۲۱ جولائی ۲۰۱۱ء)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.