ترکی میں غداری

پبلک پروسیکیوٹرز نے حکومت کے خلاف سازش کرنے اور اس کا تختہ الٹنے کی کوشش کرنے والے فوجیوں پر مقدمے کی تیاری مکمل کرلی ہے مگر سوال یہ ہے کہ ملک کو اس کی کیا قیمت ادا کرنا پڑے گی؟

ترکی کے اصلاح پسند وزیر اعظم رجب طیب اردغان اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوٹن کی طرح فولادی طور طریقے اپنانے والے نہیں۔ آپ متفق ہیں نا؟ مگر پھر سوچ لیجیے۔

ترکی اور روس میں جب بھی کوئی صحافی حکومت پر تنقید کرنے کی ہمت اپنے اندر پیدا کرتا اور ایسا کر گزرتا ہے تو جلد یا بدیر اپنے آپ کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے پاتا ہے۔ روس کی طرح ترکی میں بھی حکومت کے مخالفین کو قید و بند کی صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور وہ بھی بسا اوقات مقدمات کا سامنا کیے بغیر۔ جو کاروباری شخصیات حکومت کی مخالفت مول لینے کی ہمت اپنے اندر پاتی ہیں انہیں غیر ضروری طور پر زائد ٹیکس ادا کرنے کے مطالبے کا مطالبہ سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دو معاملات میں ترکی نے روس کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ صحافیوں کے خلاف کارروائی کے حوالے سے مرتب کیے جانے والے انڈیکس میں ’’رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز‘‘ نے ترکی کو ۱۴۸ ویں نمبر پر رکھا ہے جبکہ روس ۱۴۲ ویں نمبر پر ہے۔ انسانی حقوق سے متعلق یورپی یونین کے کمیشن نے بتایا ہے کہ گزشتہ برس ترکی میں انسانی حقوق کے ۱۷۴ واقعات درج ہوئے جبکہ روس میں واقعات کی تعداد ۱۳۳ رہی۔

ترکی میں آخر ہوا کیا ہے؟ رجب طیب اردغان دس سال قبل اس وعدے کے ساتھ اقتدار میں آئے تھے کہ ترکی کو ایک ایسی جدید جمہوری ریاست بنائیں گے جس میں جرنیلوں کا عمل دخل نہ ہونے کے برابر ہوگا۔ ابتداء میں یہی کچھ ہوا اور یورپ نے ترک قیادت کو خوب سراہا۔ ترکی حکومت نے اصلاحات کا پروگرام شروع کیا تو یورپی یونین نے بھی مثبت جواب دیا اور ۲۰۰۵ء میں ترکی کو یورپی یونین کی رکنیت دینے سے متعلق مذاکرات شروع ہوئے۔ مگر ترک قیادت کی جانب سے شروع کیا جانے والا سیاسی اصلاحات کا پروگرام ۲۰۰۷ء میں اس وقت روک دیا گیا جب اسلحے کی ایک بڑی کھیپ پکڑی گئی اور یہ انکشاف ہوا کہ انتہائی دائیں بازو کے چند اعلیٰ فوجی افسران نچلے درجے کے بہت سے افسران کے ساتھ مل کر حکومت کا تختہ الٹنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس کے بعد ترک حکومت نے گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کیا۔ علیٰحدگی پسند کردستان ورکرز پارٹی (PKK) کے ساڑھے تین ہزار رہنما اور کارکن اب تک گرفتار کیے جاچکے ہیں۔ اب تک سابق چیف آف اسٹاف اور ۳۴ جرنیلوں سمیت ۲۴۹ اعلیٰ فوجی افسران کو جیل بھیجا جاچکا ہے۔ سابق چیف آف اسٹاف نے اپنے پر عائد الزامات کو مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔ علاوہ ازیں ۱۰۰ سے زائد صحافی بھی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔

اب تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ جرنیلوں، سیاسی کارکنوں اور صحافیوں کی گرفتاری کے احکام رجب طیب اردغان نے خود جاری کیے یا سرکاری وکلاء کا جوش و جذبہ ان کے ارادوں کو تقویت پہنچا رہا ہے۔ اردغان نے اب تک جرنیلوں، سیاسی کارکنوں اور صحافیوں کے خلاف کی جانے والی کارروائی کا دفاع اور اس حوالے سے بین الاقوامی دباؤ کو یکسر مسترد کیا ہے۔ ان کا استدلال یہ ہے کہ جنہیں جیل میں ڈالا گیا ہے وہ یا تو حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش میں ملوث تھے یا پھر ان کے رابطے علیٰحدگی پسند کردوں سے تھے۔

فروری کے اوائل میں سرکاری وکلاء نے حکومت کو بھی ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ کیا۔ ایک اسپیشل پروسیکیوٹر نے ترکی کی نیشنل انٹیلی جنس آرگنائزیشن (ایم آئی ٹی) کے سربراہ اور اردغان کے ایک رفیق خاص حکم فدان کو علیٰحدگی پسند کردوں سے باغیانہ انداز کی گفتگو کرنے کے الزام میں پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا۔ ایم آئی ٹی کے سابق سربراہ ایمرے تنیر (Emre Taner) اور چند دوسرے اعلیٰ حکام کو بھی دیکھتے ہی گرفتار کرنے کے احکام جاری کیے گئے۔ بات یہ ہے کہ اعلیٰ فوجی اور انٹیلی جنس افسران اردغان کے حکم پر کرد باغیوں سے بات کر رہے تھے۔ اردغان چالیس سال پرانے قضیے کو کسی نہ کسی طور حل کرنا چاہتے ہیں تاکہ ملک میں بد امنی کی ایک بڑی وجہ تو ختم ہو۔ ترکی کے امور پر نظر رکھنے والے ایک تجزیہ کار گرین ولے بائفرڈ (Grenville Byford) کا کہنا ہے کہ سرکاری حلقوں میں بہت سے ایسے بھی ہیں جو نہیں چاہتے کہ کرد باغیوں سے معاملات درست ہو جائیں۔ ان کا بھلا اسی میں ہے کہ یہ قضیہ چلتا رہے۔ ان سرکاری حکام کا استدلال ہے کہ کرد علیٰحدگی پسندوں سے بات چیت بھی بغاوت کے زمرے میں آتی ہے۔

اردغان کا دعویٰ ہے کہ وہ پبلک پروسیکیوٹرز کو نہیں کہہ سکتے کہ کس کے خلاف کارروائی کرنا ہے اور کس کے خلاف نہیں کرنا ہے۔ یورپی یونین نے ۲۰۱۰ء میں اس امر کا خیر مقدم کیا کہ ترکی میں پروسیکیوشن اور عدلیہ تقرریوں کے معاملے میں مکمل خود مختار ہیں۔ مگر عدالتی نظام کو بہتر اور منصفانہ بنانے سے زیادہ پروسیکیوٹروں نے اپنے اپنے گروپ کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔ اس صورت حال کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ خانہ جنگی کی سی کیفیت پیدا ہوچلی ہے جس میں گرفتاری کے وارنٹس کو اسلحے کی طرح استعمال کیا جارہا ہے۔

غیر معمولی اقدامات پر یقین رکھنے والے پبلک پروسیکیوٹروں اور کلہاڑی بردار اردغان نے میڈیا کے نمائندوں میں شدید خوف کی فضا پیدا کردی ہے۔ گرفتار کیے جانے والے صحافیوں کے بارے میں لکھنے والوں کو انتباہ کیا جاتا ہے۔ حزب اختلاف کے خلاف کی جانے والی کارروائی کو ارجینیکون کہا جاتا ہے۔ اردغان حکومت پر اپوزیشن اور میڈیا کو شدید خوف تلے رکھنے کا الزام مستقل عائد کیا جاتا رہا ہے۔ ایس تیملکرن (Ece Temelkuran) کہتی ہے کہ اسے جنوری میں بتایا گیا کہ، ہابرترک کے ساتھ اس کے معاہدے کی تجدید نہیں ہوسکے گی۔ یہ سب کچھ ہو رہا ہے مگر میڈیا والے اب بھی حکومتی ہتھکنڈوں کے خلاف متحد نہیں ہوئے۔ واشنگٹن میں قائم سینٹرل ایشیا کاکیسس انسٹی ٹیوٹ کے گیرتھ جینکنز کہتے ہیں ’’ترکی میں میڈیا پر قبائلی رنگ اور اثرات غالب ہیں۔ سیاسی بحث کا بڑا حصہ قبائلی اثرات کے تحت ہے۔ ہر فریق مخالف کے بارے میں کہی جانے والی ہر بات کو جوں کا توں قبول کرتا ہے اور اپنے بارے میں کہی جانے والی ہر ایسی ویسی بات کو جھوٹ اور سازش قرار دیکر مسترد کردیتا ہے‘‘۔

یہ بحث اب غیر متعلق ہے کہ سیاسی مخالفین اور صحافیوں کے خلاف کی جانے والی کارروائیاں پبلک پروسیکیوٹروں کی جانب سے ریاست مخالف عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن ہے یا وزیر اعظم اردغان کی جانب سے مخالفین کے خلاف لڑی جانے والی جنگ ہے۔ اردغان نے بے دریغ گرفتاریوں کی وکالت کی ہے اور یہی بات ترک جمہوریت کی سب سے بڑی دشمن ہے۔ ترکی کی انڈسٹری اینڈ بزنس ایسوسی ایشن کی چیئرپرسن امت بوئنر کہتی ہیں ’’یہی روش ہمیں دن بہ دن قانون کی بالا دستی سے دور لے جارہی ہے‘‘۔

یورپین کمشنر برائے توسیع اسٹیفن فیول نے حال ہی میں کہا ہے کہ ترکی میں صحافیوں، ناشروں، اہل علم اور انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں کے خلاف بڑھتے ہوئے واقعات اور ان کی بڑے پیمانے پر گرفتاریاں انتہائی تشویشناک ہیں۔ امریکی ناول نگار پال آسٹر نے صحافیوں کی گرفتاری پر تنقید کرتے ہوئے ترکی کے دورے سے انکار کردیا۔ اس پر اردغان نے انہیں صورت حال سے لاعلم قرار دیا۔

آثار یہ بتا رہے ہیں کہ دس سال تک اقتدار میں رہنے سے جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی اب یہ نہیں سمجھ پارہی کہ اسے کیا کرنا چاہیے اور یہی سبب ہے کہ وہ سمت سے محروم ہوتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ اگر اے کے پارٹی قدرے بدحواس ہے تو بات کچھ کچھ سمجھ میں بھی آتی ہے۔ بات یہ ہے کہ ترکی میں ججوں اور اعلیٰ فوجی افسران نے اب تک اے کے پارٹی کو پوری طرح قبول نہیں کیا اور اس کے خلاف کسی نہ کسی سطح پر سرگرم ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خود کو ترک آئین، معاشرے اور اقدار کا محافظ گردانتے ہیں۔ انہیں ترکی کا سیکولر کردار زیادہ عزیز ہے۔ وہ اسلامی جڑیں رکھنے والی جماعت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ اے کے پارٹی کی حکومت کے خلاف سازشیں ہوتی رہی ہیں۔ بم دھماکوں اور ڈس انفارمیشن کے ذریعے اے کے پارٹی کی حکومت کو کمزور کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ بعض سازشیں پکڑی بھی گئی ہیں۔ الٹرا سیکولر ججوں نے عسکری قیادت کی شہہ پر اردغان حکومت کو مختلف محاذوں پر چیلنج کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ بعض صورتوں میں تو اے کے پارٹی کے وجود ہی کو قانونی سطح پر شدید خطرات سے دوچار کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ دوسری طرف ملک کے ووٹر اے کے پارٹی کے لیے اپنی حمایت میں اضافہ کرتے جارہے ہیں۔ اردغان کے ایک ساتھی نے بتایا کہ جو کچھ اے کے پارٹی کے ساتھ ہوتا آیا ہے اس کے جواب میں جو کچھ اردغان نے کیا ہے وہی درست ہے۔ جنونی کیفیت کا جواب جنونی کیفیت ہی سے دیا جاتا ہے۔

ترکی ایک بار پھر فوجی طرز کی حکومت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ انقلابی ہمیشہ یہ کوشش کرتے ہیں کہ وہ جو بھی نظام حکومت لائیں وہ انقلاب سے پہلے والی حکومت کے سے انداز کا حامل نہ ہو۔ مشہور صحافی احمد سک (Ahmed Sik) نے گزشتہ دنوں عدالت کو بتایا کہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ جو حکومت اپنی پیشرو کو مکمل طور پر تباہ کردیتی ہے وہ دراصل بربادی کے بیج اپنی ہی زمین پر بو رہی ہوتی ہے۔

کردوں کے خلاف کی جانے والی عدالتی کارروائی سے اردغان کو جلد یا بدیر اندازہ ہو جائے گا کہ ان کی عدالتی مشینری مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہی ہے۔ کریک ڈاؤن کا سلسلہ جاری رکھنے سے ان کی پوزیشن کمزور تر ہوتی جائے گی۔ ترک عدالتی نظام اب اردغان کے لیے بدنامی کا داغ بنتا جارہا ہے۔ اگر انہیں اعلیٰ درجے کی جمہوریت لانا ہے تو اس حوالے سے سوچنا ہوگا۔

(“Treason in Turkey”. “Newsweek Pakistan”, March 2&9, 2012)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*