سچائی کو جھوٹ پر فتح ہوگی! | قمرالزمان شہید کی آخری گفتگو

قمرالزمان کی اپنے وکلا سے آخری ملاقات کی تفصیل بتاتے ہوئے مطیع الرحمان اکنڈا نے کہا کہ ہم پانچ وکلا نے جماعتِ اسلامی کے سینئر اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل، ممتاز صحافی اور دانشور قمر الزمان سے ڈھاکا سینٹرل جیل میں ہفتہ ۴؍اپریل کو ملاقات کی۔ قمر الزمان نے ۵؍اپریل کو ایپلیٹ ڈویژن کے سامنے نظرثانی اپیل کی سماعت کے حوالے سے ضروری ہدایات دیں۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے ملکی حالات اور ان کی جماعت کے حوالے سے حکومتی سازش پر گہری تشویش اور اضطراب کا اظہار کیا۔

کیس کی تیاری کے حوالے سے قمر الزمان سے ۳۵ منٹ تک بات چیت ہوئی۔ وہ بہت مضبوط اعصاب کے مالک، پُرعزم اور اللہ تعالی کی راہ میں جان دینے کے لیے مکمل طور پر تیار تھے۔ یہ میری جیل کے اندر اُن سے چوتھی ملاقات تھی۔ اس دفعہ وہ پہلے کی تمام ملاقاتوں کے مقابلے میں زیادہ زندہ دل، پُرعزم اور بااعتماد تھے۔ ہم برادر قمرالزمان کی آہنی سوچ کو دیکھ کر بہت متاثر اور متحرک تھے کیونکہ عام دنوں میں وہ نرم طبیعت کے آدمی تھے۔ ہم نے اُن میں ذرّہ برابر کمزوری نہیں محسوس کی، حالانکہ وہ اپنے قتل کی حکومتی سازش سے مکمل طور پر باخبر تھے۔ کیس کی تیاری پر بات کرنے سمیت انہوں نے خود کو قتل اور اس دنیا سے رخصت کرنے کی حکومتی سازش، تشدد کے تسلسل، جماعتِ اسلامی کو دبانے اور جھکانے کے ہتھکنڈوں، انتقامی جذبے سے لبریز سیاسی ماحول، ملک کے غیر یقینی مستقبل، نوجوان نسل اور مجموعی ملکی صورتِ حال پر بھی اپنے گراں قدر خیالات کا اظہار کچھ یوں کیا:

۱۔ ٹریبو نل کا فیصلہ مکمل طور پر غلط معلومات پر مبنی ہے!

قمرالزمان نے بااعتماد لہجے میں کہا، ’’حکومت نے سیاسی انتقام کی آگ کو ہوا دے کر خود کو مطمئن کرنے کی خاطر یہ توہین آمیز کیس بنایا، جس میں انسانیت کے خلاف جرائم کے جھوٹے الزامات شامل کیے گئے۔ تحقیقاتی ادارے نے میرے خلاف سیاسی بنا پر جھوٹی، بے بنیاد اور خیالی کہانی تیاری کی، جسے بین الاقوامی جرائم ٹریبونل کے سامنے پیش کیا گیا۔ حکومت نے اس کیس کے لیے جھوٹی شہادتوں کی تیاری کی غرض سے حکمراں جماعت کے ارکان کو استعمال کیا۔ میرے خلاف جو الزامات سامنے لائے گئے، اُن سے میرا کوئی دور کا تعلق بھی نہیں تھا۔ نہ صرف یہ کہ میرا سہاگ پور پَلّی کیس سے کوئی تعلق نہیں ہے، بلکہ میں اپنی پوری زندگی میں کبھی اس علاقے میں گیا تک نہیں۔ جو لوگ مجھے اچھی طرح جانتے ہیں، وہ کبھی یہ دعویٰ نہیں کرسکیں گے کہ انہوں میں مجھے کبھی اس علاقے میں دیکھا ہے۔ فاضل ٹربیونل نے مجھے حکومت کی جانب سے تیار کردہ جھوٹی شہادتوں اور غلط معلومات کی بنا پر سزائے موت سنائی ہے۔ ٹربیونل میں انصاف سے محروم ہوکر میں نے سپریم کورٹ میں اپیل کی تھی۔ فاضل ایپلٹ ڈویژن نے اکثریتی فیصلے کی بنیاد پر مجھے سزا سنائی۔ میں نے ایپلٹ ڈویژن کا مکمل فیصلہ احتیاط سے پڑھا ہے اور مجھے واضح طور پر دکھائی دیا کہ میرے خلاف دیے گئے فیصلے میں کئی غلطیاں ہیں۔ مجھے امید ہے کہ نظرثانی کی سماعت میں ایپلٹ ڈویژن ان غلطیوں کو دور کرکے انصاف کو یقینی بنائے گا‘‘۔

۲۔ معزز عدالت میرا بیان تسلیم کرے گی اور میں ان شاء اللہ بری ہوجاؤں گا!

قمرالزمان نے ایپلٹ ڈویژن میں نظرثانی اپیل کی سماعت کے حوالے سے ضروری ہدایات دیں اور کہا، ’’ہمیں معلوماتی مواد اور دستیاب ثبوتوں پر مبنی سچائی کے حق میں منطق پیش کرنی ہوگی‘‘۔ وکلا کو ضروری اقدامات اٹھانے کی ہدایت کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ’’اگر ایپلٹ ڈویژن نے انصاف کیا تو میں بَری ہوجاؤں گا اور عوام میں واپس چلا جاؤں گا، ان شاء اللہ!‘‘۔

۳۔ سچ جھوٹ پر فتحیاب ہوگا!

قرآنِ مجید کی سورئہ انبیا، سورئہ صف، سورئہ انفال، سورئہ بقرہ اور سورئہ آلِ عمران کے حوالے دیتے ہوئے قمرالزمان نے کہا ’’اللہ تعالیٰ نے قرآن کی ان مختلف سورتوں میں واضح طور پر کہا ہے کہ ’وہ جھوٹ کو سچائی سے مغلوب کردے گا‘۔ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بہرحال نافذ ہوکر رہے گا‘‘۔ انہوں نے مزید کہا، ’’اللہ تعالیٰ سچائی کو سچائی کے ذریعے ہی نافذ کرے گا۔ سچ کو جھوٹ اور ادھوری سچائیوں کے ذریعے نافذ نہیں کیا جاسکتا۔ جھوٹ کے حملوں سے سچائی کا سفر کبھی نہیں رک سکتا۔ اس کے برعکس، جھوٹ اور دھوکے کے ہر حملے سے سچائی صرف مضبوط ہی ہوتی ہے۔ سچ کے سپاہیوں کو یہ ذہنوں میں رکھنا چاہیے کہ جھوٹ کے آگے جھک جانا کبھی سچائی کے نفاذ کا سبب نہیں بن سکتا۔ میرا محکم یقین ہے کہ سچ کے سامنے جھوٹ ٹکڑوں میں بٹ کر بکھر جائے گا‘‘۔

۴۔ سازشیوں کی سازش کبھی کامیاب نہیں ہوگی!

قمرالزمان کا کہنا تھا، ’’جماعتِ اسلامی کے رہنماؤں کو قتل کرنے اور اس تحریک کے سفر کو روکنے کی موجودہ حکومت کی سازش کبھی کامیاب نہیں ہوگی۔ ایک نظریاتی تحریک کو شہادتوں اور چند شخصیات کو راستے سے ہٹاکر کبھی ختم نہیں کیا جاسکتا۔ جو لوگ اقتدار کے لیے تشدد کرتے ہیں، لوگوں کو دباتے اور قتل کرتے ہیں، اُن کا انجام تباہی کے سوا اور کچھ نہیں۔ بنگلا دیش کے لوگوں کو آج جبر اور ایذا رسانی کا سامنا ہے۔ اسلامی شخصیات کی جان بوجھ کر کردار کشی کی جارہی ہے۔ علماء دین، پیروں اور مشائخ کی توہین کی جارہی ہے۔ لوگوں کے حقوق کی جدوجہد کو روکنے کے لیے عوامی گرفتاریوں، قتل، اغوا اور جبری گمشدگیوں کے ذریعے رکاوٹیں ڈالی جارہی ہیں۔ اس ظلم و تشدد کے ضمن یہ واضح طور پر کہا جاسکتا ہے کہ اس ظالم حکمران کو کسی صورت نہیں بخشا جائے گا۔ ان کو ماضی سے سبق سیکھنا چاہیے۔ ماضی کی کوئی آمرانہ حکومت خود کو بچانے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ بربادی غاصبوں کا آخری انجام ہے‘‘۔

۵۔ اسلام بنگلا دیش میں ایک روز فتحیاب ہوگا!

قمرالزمان نے کہا، ’’بنگلا دیش کا کوئی ایسا علاقہ باقی نہیں بچا، جہاں اسلامی تحریک کے کارکنوں کا خون نہ بہایا گیا ہو۔ تحریکی کارکنوں کا خون ضائع جاسکتا ہے اور نہ جائے گا‘‘۔ نوجوانوں کی جانب سے تحریک کے لیے قید و بند کی سختیاں جھیلنے کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’ان کی قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی۔ انہی نوجوانوں کی قیادت میں اسلام بنگلا دیش میں نافذ ہوگا۔ اللہ کے دین کو اس سرزمین پر نافذ ہونے سے روکنے کی طاقت کسی میں نہیں۔ یہ شاہ جلال، شاہ مخدوم، شاہ پوران اور دیگر اولیا کا ملک ہے۔ انہی کے جذبے سے اس ملک کے سارے لوگ متاثر ہوں گے۔ لوگ اٹھیں گے اور اسلام کے خلاف سازش کرنے والی شیطانی قوتوں کے خلاف کھڑے ہوں گے۔ بنگلا دیش کا مستقبل اسلام کے سوا اور کچھ نہیں۔ اللہ کا دین ان شاء اللہ اس زمین پر کامیابی حاصل کرے گا‘‘۔

۶۔ حتمی فیصلہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے!

قمرالزمان کا کہنا تھا، ’’میرا پختہ یقین ہے کہ اللہ کے حکم کے بغیر کوئی نہیں مرتا۔ اس زندگی کی کامیابیوں اور ناکامیوں کے تجزیے کی اصل جگہ یہ دنیا نہیں ہے۔ اس کا فیصلہ میدانِ آخرت میں ہوگا۔ اُس روز تنہا اللہ کی ذات منصف ہوگی۔ وہ اکیلا عظیم تر منصف ہے۔ اس روز کوئی انصاف سے محروم نہیں رہے گا۔ کوئی جابر اس روز بخشا نہیں جائے گا۔ میں کس طرح مروں گا، مجھے اس کی ذرا پریشانی نہیں ہے۔ کیونکہ مجھے اسی طریقے سے مرنا ہے جیسا کہ اللہ چاہتا ہے۔ ۳ نومبر ۲۰۱۴ء کو اُس وقت کے وزیرِ قانون نے جیل حکام کو میری پھانسی کی تیاریاں کرنے کا حکم دیا تھا۔ مگر وہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ تھا۔ لہٰذا وزیرِ قانون اپنے منصوبے پر عمل کرنے کے قابل نہیں ہوسکے۔ تب سے اب تک پانچ ماہ گزر چکے ہیں۔ اللہ نے مجھے زندگی عطا کر رکھی ہے۔ سو جب تک اللہ چاہے گا، میں زندہ رہوں گا۔ موت و حیات کا فیصلہ صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ چنانچہ مجھے اللہ کے فیصلے پر مکمل یقین اور اعتماد ہے‘‘۔

۷۔ میں شہادت کی موت کے لیے تیار ہوں!

قمرالزمان نے کہا، ’’میرا کامل ایمان ہے کہ جب تک اللہ مجھے اس دنیا میں زندہ رکھنا چاہے گا، تب تک کوئی مجھے نہیں مار سکتا اور جس روز اللہ مجھے اس زمین سے واپس بلانا چاہے گا، کوئی طاقت مجھے روک نہیں سکے گی۔ اس جان کو سچائی کے مقصد کی خاطر قربان کر دینا بڑی عزت افزائی کی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انبیا و رُسُل کے بعد شہید کے مرتبے کو اعلیٰ ترین مرتبہ قرار دیا ہے۔ شہادت انسان کی زندگی کو تابناک اور عالیشان بنا دیتی ہے۔ شہادت کی موت انسان کی زندگی کو کامیاب بنادیتی ہے۔ یہ انسان کو جنت کی ضمانت دیتی ہے۔ میں اس موت کے لیے بے تاب ہوں جو جنت کی ضمانت بن سکے۔ میں اس بارے میں ذرا بھی پریشان نہیں ہوں‘‘۔

۸۔ میں نے ہمیشہ ملک کی فلاح کے لیے کام کیا!

قمرالزمان کا مزید کہنا تھا، ’’میں نے ہمیشہ بنگلادیش کو ایک پُرامن اور خوشحال ملک بنانے کے لیے اپنی بہترین کوشش کی ہے۔ میں نے اپنی قابلیتوں کو ووٹنگ کے حقوق اور جمہوریت کے استحکام کی خاطر استعمال کرنے کی کوشش کی۔ غیر واضح یا فسادی طور طریقوں سے ملک میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا کرنے میں میرا کوئی براہِ راست یا بالواسطہ کردار نہیں رہا۔ مجھے یقین ہے کہ یہ قوم اداروں کی مضبوطی اور موثر نگرانی کے ذریعے اپنی مجوّزہ منزل حاصل کرسکتی ہے۔

۱۹۹۰ء کی دہائی میں شخصی حکمرانی کے خلاف اور نگراں حکومتی نظام کے اداروں کے لیے چلائی جانے والی تحریک کے دوران میری موجودہ وزیرِاعظم، حکومتی وزرا اور متعدد ارکانِ پارلیمان سے ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ اس وقت مجھے جنگی مجرم نہیں سمجھا جاتا تھا۔ ملک میں جماعتِ اسلامی کے عروج اور اس کے پھیلاؤ نے انہیں خوفزدہ کر رکھا ہے، جس کا نتیجہ موجودہ حکومت کی اس خواہش کی صورت میں نکلا ہے کہ مجھے جنگی مجرم قرار دے کر سزا دی جائے اور اس دنیا سے رخصت کردیا جائے۔ اسی میں اس حکومت کی شکست کا اشارہ ہے۔ میرے عزیز ہم وطن ایک روز میرے اس کردار کو ضرور سراہیں گے جو میں نے اس ملک کے لیے ادا کیا ہے‘‘۔

۹۔ اللہ کی محبت اور اس کے سامنے احتساب اس تحریک کے پیچھے موجود اہم ترین قوت ہے!

اسلامی تحریک کے کارکنان سے خطاب میں قمرالزمان نے کہا، ’’یہ تحریک محض اللہ کی رضا کے لیے ہے۔ اگر اللہ کے بجائے کسی اور کے سامنے خود کو قابلِ احتساب سمجھا جائے تو انسان تحریک میں درکار اپنا کردار ادا نہیں کرسکتا۔ میں بنگلادیش میں اسلامی تحریک کے تمام کارکنان اور برادران سے کہنا چاہتا ہوں کہ اسلام کا تابناک نظریہ آدمی کا دل بڑا کرکے روح کو بالیدگی عطا کرتا ہے۔ یہ انسانی ذہن کی روحانی کیفیت کو پختگی عطا کرکے اس کی قابلیت کو بہتر بناتا ہے۔ اسلامی تحریک میں تنگ ذہن اور حسد کرنے والوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ جب تک اس تحریک کے لوگ اللہ کی محبت اور صرف اسی کے سامنے جواب دہ ہونے کے احساس کے ساتھ اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے کام کرتے رہیں گے، اس دنیا کی کوئی شیطانی قوت ان کو شکست دینے کے قابل نہیں ہوسکتی۔

جماعتِ اسلامی کے کارکنان کے نظریاتی جذبے، اخلاقی اقدار اور مثالی رویے نے اس ملک کے لوگوں میں امید پیدا کردی ہے۔ لوگوں کے دلوں کو کردار، نیک اعمال اور اخلاقی برتری کے ذریعے جیتا جانا چاہیے۔ اہل لوگوں کا مکمل تجزیہ ہونا چاہیے۔ مشاورت پر مبنی کام اور موت کے بعد کی زندگی میں کامیابی کو ذہن میں رکھتے ہوئے کارکردگی دکھانے کو ترجیح دینی چاہیے‘‘۔

۱۰۔ اہلِ وطن کو میرا سلام اور دعاؤں کی درخواست

بنگلادیش اور دنیا کے دیگر حصوں میں موجود اسلامی تحریک کے کارکنوں کا ذکر کرتے ہوئے قمرالزمان کا کہنا تھا، ’’میں جہاں کہیں بھی گیا، اسلامی تحریک کے کارکنوں نے دل کی اتاہ گہرائیوں سے ابھرتی محبت کے ساتھ گلے لگایا۔ جب سے میں اس حکومت کے ہاتھوں گرفتار ہوا ہوں، ملکی عوام نے میری آزادی کے لیے آج تک جاری بھرپور مظاہرے کیے۔ اس ضمن میں خصوصی کردار کے لیے میں نوجوان نسل کا خاص طور پر شکر گزار ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہماری ساری کوششیں صرف اللہ کے لیے ہیں۔ اور یقینا ایک روز اللہ ہمیں منصفانہ جزا عطا کرے گا۔ میں بنگلادیش کے اندر اور باہر رہنے والے تمام کارکنان کو سلام کہتے ہوئے ان سے دعا کی درخواست کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ مجھے لڑنے اور جھوٹ کے خلاف اپنے مؤقف پر ڈٹے رہنے کی طاقت عطا فرمائے۔ دعا ہے کہ میں زندگی کے آخری لمحے تک اللہ کے راستے پر ثابت قدمی سے ڈٹا رہوں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو جنت میں اپنے مہمانوں کے طور پر قبول فرمائے۔ آمین!‘‘

(مترجم: حارث بن عزیز)

“Truth will triumph over falsehood: Kamaruzzaman”. (“progressbangladesh.com”. April 7, 2015)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*