Abd Add
 

تیونس : صدارتی انتخابات میں قیس سعید کی فتح

Kais Saied has promised to fight corruption and support decentralisation [Zoubeir Souissi/Reuters]

تیونس میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں آزاد امیدوار قیس سعید نے ۷۱ء۷۲ فیصد ووٹ حاصل کرکے فتح حاصل کرلی ہے۔ قیس سعید قانون کے پروفیسر ہیں،انھوں نے کل ۲۷ لاکھ ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے مدمقابل نبیل القروی نے ۱۰ لاکھ ووٹ حاصل کیے۔ القروی ایک کاروباری شخصیت ہیں، جو تقریباً اپنی پوری انتخابی مہم کے دوران جیل میں رہے۔

انتخابی کمیشن کے مطابق انتخابات کے دوسرے مرحلے میں ووٹ ڈالنے کا تناسب ۵۵ فیصد رہا جو کہ ۱۵ ستمبر کو ہونے والے پہلے مرحلے کی نسبت زیادہ ہے۔ یہ ۱۱۔۲۰۱۰ء کے انقلاب کے بعد ملک کے دوسرے آزاد صدارتی انتخابات تھے۔

۶۱ سالہ قیس سعید کے پاس سیاست کا کوئی تجربہ نہیں ہے، انھوں نے آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لیا تھا۔ انھیں النہضہ کی حمایت بھی حاصل تھی۔وہ اختیارات کی نچلی سطح پر تقسیم کے حامی ہیں اور انھوں نے بد عنوانی کے خلاف اقدامات کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ان کے اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانات نے انھیں نوجوانوں کے قریب کردیا، کیوں کہ نوجوان یہ سمجھتے ہیں کہ سیاست دان انقلاب کے بعد عوام کی زندگیوں میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں لا سکے۔

قیس سعید انقلاب کے بعد تشکیل دی جانے والی اس کمیٹی کا بھی حصہ تھے، جس کے ذمے آئین کی تیاری کا کام تھا۔اس آئین کا اطلاق ۲۰۱۴ء میں ہوا۔ وہ اپنے قدامت پسند نظریات اور تیونسی لہجے کی جگہ خالص عربی زبان میں تقریر کرنے کی وجہ سے مقبول ہیں۔ وہ سزائے موت دیے جانے کے حق میں ہیں اور ہم جنس پرستی کی مخالفت کرتے ہیں، ساتھ ہی وہ وراثت میں لڑکے اور لڑکیوں کو برابر حصہ دینے کے بھی حق میں ہیں۔

قیس سعید کو اس وقت کئی چیلنجوں کا سامنا ہے جس میں سماجی انتشار،مسلح گروہوں کے حملے اور معاشی سست روی شامل ہیں۔

“Tunisia presidential election: Kais Saied declared winner”. (“aljazeera”. Oct. 14, 2019)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.