Abd Add
 

تیونس کی حقیقی آزمائش

تیونس کے انتخابات میں اسلامی جماعت النہضہ نے کامیابی تو حاصل کرلی ہے تاہم وہ چند سیکولر جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت بنا سکے گی۔ بحیرہ روم کی آب و ہوا کے حوالے سے جہاں اوروں کے متعلق ایک تاثر پایا جاتا ہے وہیں تیونسی عوام کے بارے میں بھی یہ رائے پائی جاتی ہے کہ وہ خوشی میں زیادہ خوش اور غم میں زیادہ غمگین ہوتے ہیں۔ عام انتخابات میں جب لوگوں کو کھل کر رائے دینے کا موقع ملا تو انہوں نے بھرپور جوش و خروش سے پولنگ میں حصہ لیا اور اسلامی جماعت کو اپنی بھرپور حمایت سے نوازا جو کسی بھی طور حیرت کا باعث نہیں۔ اسلامی نشاۃ ثانیہ کے لیے کام کرنے والی جماعت النہضہ نے عام انتخابات میں ۴۱ فیصد نشستیں حاصل کی ہیں۔ مگر خیر بہت سے تیونسیوں نے ایک دور کے خاتمے کا ماتم بھی کیا۔ سب سے زیادہ سیکولر سمجھی جانے والی اس عرب ریاست نے اب بظاہر شراب کے نشے میں دھت ہوکر، ساحل کا رُخ کرنے کے کلچر کو خیر باد کہہ دیا ہے۔

۲۳ اکتوبر کے انتخابات کے نتائج زیادہ حیرت انگیز نہیں تھے۔ سب کو انہی نتائج کی توقع تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ اب تیونس سیاسی استحکام کی راہ پر گامزن ہے۔ بہت حد تک یہ کسی پارٹی کی نہیں، جمہوریت کی فتح ہے۔ اس میں کوئی نہیں شک نہیں کہ اس وقت عرب دنیا میں اسلام پسندی کی لہر آئی ہوئی ہے اور سیاسی امور پر بظاہر اسلامی جماعتوں کا غلبہ دکھائی دے رہا ہے، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ عوام کو رائے کے اظہار کا بھرپور موقع ملا ہے۔ انتخابات سے ایک بات البتہ ضرور ظاہر ہوتی ہے۔ سیاسی پختگی لازم ہے۔ ایسا نہ ہو تو انتخابی نتائج کی کچھ زیادہ اہمیت نہیں رہ جاتی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ۷۰ سالہ راشد الغنوشی کی قیادت میں النہضہ پارٹی اس بات کی حقدار تھی کہ نصف درجن، بظاہر ایک دوسرے سے مماثل، سیکولر جماعتوں اور متعدد آزاد گروپوں کو ہراتی۔ النہضہ نے انتخابی مہم خاصی دانش مندی سے چلائی۔ تیونس میں فرانسیسی بولنے والے حکمراں طبقے کے برخلاف اس نے محنت کشوں کی بات کی اور ساتھ ہی ساتھ سابق دور حکومت میں اپنے پر ڈھائے جانے والے مظالم کو بھی عمدگی سے بیان کیا۔

تیونس میں متناسب نمائندگی کے اصول کے تحت انتخابات ہوتے ہیں۔ بعض حلقوں میں ۱۰۰ سے زائد امیدوار دیکھے گئے۔ سچ تو یہ ہے کہ ڈالے جانے والے ووٹوں میں سے کم و بیش ایک تہائی ضائع ہوئے۔ بعض حلقوں میں کسی ایک امیدوار کو پڑنے والے ووٹ اتنے کم تھے کہ وہ نشست حاصل کرنے میں ناکام رہا۔

۲۱۷ نشستوں کے ایوان میں النہضہ کو ۸۸ نشستیں ملی ہیں جو اسے اکثریت دلاتی ہیں اور حکومت بنانے کا حقدار بھی بناتی ہیں۔ اسے ایک چوتھائی ووٹ ملے۔ سیکولر عناصر کو متحد نہ ہونے کی سزا ملی۔ تیونس کی نیوز ویب سائٹ کیپٹلس کی کے ایڈیٹر ردا کیفی کا کہنا ہے کہ النہضہ کو اپنے مخالفین کی خامیوں سے فائدہ اٹھانے کی صورت میں زیادہ کامیابی ملی۔

ووٹنگ سے اپ سیٹ کم ہوئے۔ پیٹیشن پارٹی، جس کے سربراہ لندن میں قائم ایک چھوٹے سیٹلائٹ ٹی وی چینل کے مالک ہاشمی حامدی ہیں، پارلیمنٹ میں ۱۳ فیصد نشستوں کے ساتھ ابھری ہے۔ یہ تیسری بڑی پارٹی ہے۔ ہاشمی حامدی ایک چھوٹے سے قصبے سیدی بوزد سے تعلق رکھتے ہیں جہاں بیروزگار نوجوانوں کے احتجاج نے سال رواں کے اوائل میں عوامی بیداری کی لہر کو جنم دیا تھا۔ انہوں نے عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں دینے اور سابق حکمراں جماعت کے ناراض ارکان کو حکومت میں شامل کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

انسانی حقوق کے سرگرم کارکن منصف مرزوکی کی قیادت میں کام کرنے والی دی کانگریس فار دی ری پبلک ۱۴ فیصد نشستوں کے ساتھ دوسری بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے۔ نجیب شیبی کی قیادت میں قائم پروگریسیو ڈیموکریٹک پارٹی نے ۷ فیصد نشستیں حاصل کیں۔ نجیب شیبی نے النہضہ کو نشانہ بنایا تھا اور مرزوکی نے کہا تھا کہ وہ النہضہ کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ سابق وزیر صحت ڈاکٹر مصطفٰی بن جعفر کی قیادت میں کام کرنے والی ڈیموکریٹک فورم فار لیبر اینڈ لبرٹیز نے پارلیمنٹ میں ۱۰ فیصد نشستیں حاصل کیں۔ ایک درجن سے زائد چھوٹی جماعتوں اور مقامی اتحادوں نے باقی ۱۶ فیصد نشستیں حاصل کیں۔ پارلیمنٹ میں خواتین کی نشستیں ۴۴ فیصد ہیں۔

جمہوریت کی طرف تیونس کا سفر بظاہر پُرسُکون دکھائی دیتا ہے۔ نو منتخب اسمبلی کو نیا آئین مرتب کرنے کے ساتھ صدر اور وزیر اعظم کا تقرر بھی کرنا ہے۔ النہضہ نے واضح کردیا ہے کہ وہ کسی بھی جماعت کے ساتھ مل کر حکومت بناسکتی ہے اور خواتین کے لباس یا شراب نوشی سے متعلق لبرل قوانین کو تبدیل کرنے کا فی الحال ارادہ نہیں رکھتی۔ النہضہ کے سیکریٹری جنرل حمادی جبالی کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کی توقع کر رہے ہیں کہ انہیں وزیر اعظم نامزد کیا جائے گا۔ النہضہ کے اندرونی حلقے کہتے ہیں کہ صدر کے منصب کے لیے ڈاکٹر مصطفیٰ بن جعفر، مرزوکی یا موجودہ عبوری وزیر اعظم بیجی سعید سیبزی کے نام پر غور ہوسکتا ہے۔

چند ایک افراد ایسے بھی ہیں جو انقلابی لہر کے نتیجے میں اسلام پسند عناصر کے اُبھرنے پر ذرا سے افسردہ ہیں مگر مجموعی طور پر لوگ بہت خوش ہیں کہ جمہوریت کی راہ پر گامزن تو ہوئے۔ انتخابی نتائج سے یہ بات واضح ہوکر سامنے آگئی کہ عوام کو اپنی رائے کے اظہار کا بھرپور موقع تو ملا۔ سیکولر عناصر بھی خوش ہیں کہ چند ماہ میں صورت حال واضح ہو جائے گی اور النہضہ ایک طرف ہٹ کر تنقید کرنے کے بجائے کسی بھی معاملے کی ذمہ داری قبول کرنے کی پوزیشن میں ہوگی۔ معیشت اور معاشرت کا حال برا ہے اس لیے نئی حکومت کو ابتداء میں چند ایک دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ نیا آئین نافذ ہو جائے اور آئندہ سال باضابطہ پارلیمنٹ کے لیے انتخابات ہو جائیں تو النہضہ کی چمک شاید کچھ ماند پڑ جائے۔

(بشکریہ: ہفت روزہ ’’دی اکنامسٹ‘‘ لندن۔ ۲۹؍اکتوبر ۲۰۱۱ء)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*