ترکی، یورپی یونین اور میڈیا کی آزادی

’’ہمیں کوئی پروا نہیں ہے کہ یورپی یونین کیا کہے گی۔ یورپی یونین چاہے تو ہمیں رکن کے طور پر قبول کرے، چاہے تو نہ کرے‘‘۔ ترک صدر رجب طیب ایردوان کے اس حالیہ جذباتی بیان کے باعث ڈالر کے مقابلے میں لیرا کی قدر جہاں چار فیصد تک گر گئی، وہیں اس بارے میں بہت شبہات گہرے ہوگئے ہیں کہ ان کا ملک اب کیا راستہ اختیار کرے گا۔

ایردوان نے یہ بات یورپی یونین کی سخت تنقید کے جواب میں کہی جو کہ پینسلوانیا میں مقیم سنی عالم دین فتح اللہ گلن سے تعلق رکھنے والے ایک پولیس افسر، صحافیوں اور لکھاریوں کی ۱۴؍دسمبر کو کی گئی گرفتاریوں پر کی گئی تھی۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ فیڈریکا موگرینی اور توسیعی امور کے کمشنر جوہانس ہان نے خبردار کیا تھا کہ رکنیت سے متعلق ترکی کی امیدوں کا انحصار قانون کی بالادستی اور بنیادی حقوق کے مکمل تحفظ پر ہے۔ انہوں نے میڈیا کی آزادی کو جمہوریت کا بنیادی اصول قرار دیتے ہوئے ان گرفتاریوں کو اس اصول سے انحراف قرار دیا۔ جواب میں ایردوان نے کہا کہ یورپی یونین اپنے کام سے کام رکھے اور اپنی رائے خود تک محدود رکھے۔

گرفتاریوں نے صدر ایردوان کی گلن اور ان کے حامیوں کے ساتھ مسلسل جاری کشیدگی میں اضافہ کردیا ہے۔ ایردوان کا اصرار ہے کہ گلن نے ان کی اے کے پارٹی کی حکومت گرانے کی غرض سے ایک متوازی ریاست قائم کر رکھی ہے۔ زیر عتاب آنے سے پہلے مذکورہ مبلغ اے کے پارٹی کے غیر رسمی اتحادی تھے۔ مبصرین کہتے ہیں کہ فوج اور عدلیہ میں موجود گلن کے حامیوں نے سیکڑوں ترک فوجی افسروں کے خلاف حکومت کا تختہ الٹنے کے ثبوت اکھٹے کرنے میں مدد دی تھی۔ ان میں سے ہزاروں اب یا تو گرفتار ہوچکے ہیں یا انہی الزامات کے تحت برطرف کیے جاچکے ہیں۔

اے کے پارٹی اور گلن کے حامیوں کے درمیان اختیارات کی جنگ اس وقت شروع ہوئی جب ایک سال قبل ہونے والی بد عنوانی کی تحقیقات میں ایردوان کے قریبی ساتھیوں کی جانب انگلیاں اٹھنے لگی تھیں۔ ایردوان نے تحقیقات کو مسترد کرتے ہوئے پولیس اور استغاثہ کی ٹیم کو تبدیل کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ’’جعلی پیغمبر‘‘ اور اس کے حواریوں کو نہیں چھوڑیں گے۔ اسلامی معاشی اصولوں پر چلنے والا بینک آسیہ بھی ایردوان کے اہداف میں شامل ہے۔ بینک کی سرگرمیاں تین بار روکی گئیں جبکہ حکومت سے ملحقہ کمپنیوں نے اپنا سرمایہ بھی نکال لیا۔ ۲۰۱۴ء کے اولین نو ماہ میں بینک کے اثاثوں میں ۴۰ فیصد تک کمی ہوگئی تھی۔ ایک بینکر کا کہنا ہے کہ ’’جو کوئی بھی جنابِ صدر کو ناراض کرے، وہ ایک ممکنہ ہدف بن جاتا ہے‘‘۔

ترکی کے سب سے بڑے اخبار ’’زمان‘‘ کے مدیر سمیت متعدد صحافیوں کے خلاف بھی مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ وکیلِ استغاثہ ہادی صالح اوگلو کے مطابق ۳۱؍افراد کے خلاف دہشت گرد گروہ قائم کرنے کے الزامات پر وارنٹ جاری کیے گئے ہیں۔ ترک اخباروں کا موقف ہے کہ ان پر ایک ایسے گروہ کے خلاف سازش کا الزام لگایا جارہا ہے جس کے سربراہ کو ۲۰۰۹ء میں القاعدہ سے تعلق رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق مذکورہ گروپ کے خلاف کارروائی کے لیے گلن کی اپنے حامیوں کو ہدایت خفیہ زبان میں زمان اور ’’ٹیک ترکی‘‘ نامی قوم پرستی پر مبنی تھیٹر کے ذریعے دی گئی جو کہ سمن یولو نامی ان کے حامی ٹی وی چینل سے نشر کیا گیا۔

جون ۲۰۱۳ء کے غازی پارک مظاہروں کے بعد صدر ایردوان کے شبہات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ مغربی بینکاروں کی ایک لابی، غیر ملکی جاسوس اور میڈیا کا ایک حصہ اے کے پارٹی کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی خواہشات رکھتا ہے۔ ایردوان کے خیال میں اپنے ترکش میں گرافٹ اسکینڈل کا تیر لیے گلن کے حامی بھی اس لابی میں شامل ہوگئے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ اب یورپی یونین بھی اسی فہرست میں شامل ہونے والی ہے، جس کی رکنیت ترکی کی دیرینہ خواہش ہے۔

“Turkey and the European Union: Media freedom RIP?”. (“The Economist”. Dec. 20, 2014)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*