Abd Add
 

ترکی کا مستقبل اور صدارت کے خواب

کرد کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی زہرہ کیکن (Zehra Cacan) ایک تازہ قبر کے سرہانے احترام سے بیٹھی ہے۔ قبر میں اس کا تیس سالہ بیٹا ہے جو ترک فوج سے تصادم میں مارا گیا تھا۔ یہ منظر دیار بکر کا ہے جو عراق سے ملحق سرحد پر واقع ہے۔ اس علاقے میں فوج سے تصادم میں کردستان ورکرز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں نوجوان مارے گئے ہیں۔ ان کی قبروں کو سُرخ، زرد اور سبز رنگوں کی پٹّی کے ذریعے نمایاں کیا گیا ہے۔

چند برس قبل تک کرد باغیوں کی قبروں کو یوں نمایاں کرنا ممکن نہ تھا اور کرد زبان بولنے پر بھی تقریباً پابندی تھی۔ شام سے آنے والے ایک کرد یارن ایبی (Yarin Abi) نے بتایا۔ ’’ہم بتا نہیں سکتے کہ یہاں، دیار بکر میں، ہم خود کو کس قدر آزاد محسوس کرتے ہیں۔ شام میں ہم کھل کر کرد زبان بولنے کی آزادی بھی نہ رکھتے تھے‘‘۔

ترک وزیر اعظم رجب طیب اردوان نے گزشتہ دسمبر میں یہ حیرت انگیز انکشاف کیا تھا کہ کردستان ورکرز پارٹی کے لیڈر عبداللہ عجلان سے مذاکرات ہو رہے ہیں۔ ۱۹۹۹ء میں گرفتاری کے بعد سے عجلان (Ocalan) جیل میں ہیں۔ نیشنل اسپائی چیف خاقان فِدان اور عبداللہ عجلان کے درمیان ایک معاہدہ طے پا جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔ اگر واقعی ایسا ہوا ہے تو پھر ترکی کے کرد علاقوں میں حقیقی امن اب محض خواب نہیں رہے گا۔ اردوان کے ناقدین کہتے ہیں کہ ریاست کی وحدت کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ ترکی کے کردوں نے کمال اتا ترک کے شانہ بہ شانہ ترکی کے لیے لڑائی میں حصہ لیا تھا مگر بعد میں اُنہیں شدید نا انصافی اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ اب ترک کردوں کو انصاف مل سکے گا۔

ترک حکومت سے معاہدے کے بنیادی نکات ایک خط میں درج ہیں جو شمالی عراق اور یورپ میں کرد باغی کمانڈرز کے نام عبداللہ عجلان نے لکھا ہے۔ یہ خط کرد نواز پیس اینڈ ڈیموکریسی پارٹی (پی ڈی پی) نے جاری کیا ہے۔ یہ معاہدہ کردوں کی امنگوں کا ترجمان ہے مگر نہایت سادہ ہے۔ وسیع خود مختاری کے عوض کردستان ورکر پارٹی اپنی ۲۹ سالہ لڑائی ختم کردے گی۔ خود عبداللہ عجلان کہتے ہیں کہ اب وہ (ترکی کو بطور) ایک وحدانی ریاست برقرار رکھنے کی حمایت کرتے ہیں۔ جواب میں رجب طیب اردوان کی جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی نئی اصلاحات متعارف کرائے گی، جن کے تحت ہزاروں کردوں کو، جو معمولی یا بے بنیاد الزامات کے تحت مقید ہیں، رہا کردیا جائے گا اور ساتھ ہی ساتھ کرد سیاسی اہداف کے حصول کے لیے جدوجہد کرنے کے اہل بھی ہوں گے۔

یہی نہیں، ۱۹۸۰ء میں جرنیلوں کی جانب سے تیار اور نافذ کیے جانے والے آئین کو ختم کرکے ایک نیا، جمہوری آئین نافذ کیا جائے گا، جس میں کردوں کے لیے مساوی معاشرتی درجہ اور سیاسی حقوق ہوں گے۔ آئین سے ان دفعات کو ختم کردیا جائے گا جس میں کہا گیا ہے کہ ترکی میں رہنے والے تمام افراد ’’ترک‘‘ ہیں۔ ساتھ ہی کرد زبان میں تعلیم کی اجازت بھی آئین کے تحت دی جائے گی۔ علاقائی خودمختاری میں اضافہ کیا جائے گا۔ دیار بکر کے میئر عثمان بادیمیر کہتے ہیں۔ ’’موجودہ نظام کے تحت میرے ہاتھ بالکل بندھے ہوئے ہیں۔ مجھے اس بات کی بھی اجازت نہیں کہ کردوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک نمایاں شخصیت سے کسی ایک پارک کو بھی منسوب کرسکوں۔ ایسا کرنے کی راہ میں گورنر (جس کو انقرہ سے نامزد کیا جاتا ہے) حائل ہے‘‘۔

شام کی حدود میں کرد مسئلہ جڑ پکڑ رہا ہے۔ کردستان ورکر پارٹی سے جڑے ہوئے گروپ مل کر شامی افواج کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ ترکی کا معاملہ بہت پیچیدہ اور نازک ہے۔ اگر وہ علاقائی قیادت کا خواب شرمندۂ تعبیر کرنا چاہتا ہے تو کرد مسئلے کو عمدگی سے حل کرنا ہوگا۔ دیار بکر سے حکمراں جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی کے رکنِ پارلیمنٹ کالپ انصاری اوغلو کہتے ہیں۔ ’’وزیراعظم اردوان کا سیاسی مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔ وہ کردوں کے معاملے میں سنجیدہ ہیں اور کچھ نہ کچھ مثبت کرنا چاہتے ہیں‘‘۔ آئندہ برس عبداللہ گل سبکدوش ہو رہے ہیں۔ تب اردوان ملک کے پہلے منتخب صدر بننے کا اعزاز پانا چاہتے ہیں۔ اس سے قبل وہ آئین میں اصلاحات کے ذریعے صدر کے اختیارات میں اضافے کے لیے کوشاں ہیں۔ ناقدین کہتے ہیں کہ وہ غیر معمولی اختیارات کے حامل صدر بن کر آمر کی طرح کام کرنا چاہتے ہیں۔ تمام اپوزیشن جماعتیں اردوان کے خلاف ڈٹ گئی ہیں مگر وہ کرد نواز پیس اینڈ ڈیموکریسی پارٹی کی حمایت حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں کیونکہ اُنہیں اندازہ ہے کہ اِس ایک پارٹی کی حمایت ملنے پر بھی وہ آئینی اصلاحات کو یقینی بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

عبداللہ عجلان اور پیس اینڈ ڈیموکریس پارٹی سے اردوان کی ایک حالیہ ملاقات کے چیدہ چیدہ نکات سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ صدر کے منصب کو مقصد بناچکے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ترکی میں موجود کرد باغیوں کو عراق اور شام کسی بھی منفی سرگرمی کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔ وہ بہت جلد اپنے فوجیوں کو توپیں خاموش کرنے کا حکم دے سکتے ہیں۔ اردوان یہ بھی چاہتے ہیں کہ کرد باغی شمالی عراق چلے جائیں۔ انہیں اس بات کا یقین ہے کہ وہ ایسا کریں گے۔ اسی ہفتے انہوں نے آٹھ ترک یرغمالیوں کو چھوڑا ہے۔ اگر ترک فوج نے کارروائی روک دی تو امن کو یقینی بنانے کی راہ میں کوئی دیوار حائل نہیں ہوسکتی۔
عام ترک اور کرد بھی امن ہی چاہتے ہیں۔ رائے عامہ کے حالیہ جائزوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ عام کرد اور ترک چاہتے ہیں کہ امن معاہدہ ہو اور باغیانہ سرگرمیوں کا خاتمہ ہو۔ اردوان نے شراب اور اسقاطِ عمل پر پابندی کے حوالے سے جو سخت گیر رویہ اختیار کر رکھا ہے اس سے کہیں زیادہ اُن کی وہ سخت گیری لوگوں کو تشویش میں مبتلا رکھتی ہے، جو انہوں نے سیاسی امور میں اختیار کر رکھی ہے۔ صحافیوں کو قید کرنے کے معاملے میں ترکی چند نمایاں ترین ممالک میں سے ہے۔ اور ان میں بہت سے کرد بھی شامل ہیں۔

اردوان کے حامی کہتے ہیں کہ ترکی نے ایک عشرے کے دوران بے مثال ترقی اُن کی شاندار قیادت میں کی ہے۔ یورپی یونین میں شمولیت سے متعلق بات چیت بھی آگے بڑھی ہے اور فوج کے پر کترنے میں غیر معمولی حد تک کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ترکی جن بحرانوں سے گزرتا رہا ہے ان سے گلو خلاصی کے لیے لازم ہے کہ صدارتی نظام اپنایا جائے۔

ایک کرد سیاسی رہنما کا کہنا ہے کہ اگر نیا آئین آئے اور اس کے تحت اختیارات منتقل ہوتے ہوں، معاشرے میں بہتری آتی ہو تو وسیع اختیارات والی صدارت کوئی بہت بھاری قیمت نہیں۔ کردوں کا بنیادی مسئلہ کئی عشروں کے دوران ترک اتھارٹیز کی جانب سے ڈالے جانے والے دباؤ اور روا رکھی جانے والی زیادتیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم اعتماد ہے۔ کردوں کو ترکوں پر اعتبار نہیں۔ یینی سیہر قبرستان میں یہصاف دکھائی دیتا ہے۔ ایک کنٹریکٹر یلدز جپراز مردوں کی تکفین و تدفین کرتا ہے۔ کردوں کا کہنا ہے کہ ترک افسران اور عمّال احترام نہیں کرتے۔ کردوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ ہتھیار ہی تھے جن کی مدد سے انہیں حقوق ملنے والے ہیں۔ کیا بھرپور ضمانت کے بغیر کرد باغی ہتھیار ڈال سکتے ہیں؟

رجب طیب اردوان کا ریکارڈ اس امر کی گواہی دیتا ہے کہ وہ ترکی کے بڑے اور پرانے زخموں کو بھی بھر سکتے ہیں۔ عراقی کردوں کو گلے لگاکر انہوں نے غیر معمولی ہمت دکھائی تھی۔ اگر اردوان موجودہ اختیارات کے ساتھ صدر منتخب ہونا پسند کریں تو ملک میں ایک ایسے نئے آئین کی راہ ہموار ہوگی جسے صرف کرد ہی نہیں بلکہ تمام سیاسی جماعتیں اور گروپ کھلے دل سے قبول کریں گے۔

(“Turkey’s Future: Presidential Dreaming”… “The Economist”. March 16th, 2013)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*